Pages

Popular Posts

The Black Angel 2

The Black Angel 2

The Black Angel 2
Thursday, 28 April 2022

 The Black Angel 

 کالی_پری 

از محمد شارق 

قسط 2


سلونی کو یوں icu میں دیکھ کر احد حیران ہو گیا تھا جبکہ  احد کی منہ سے سلونی کا نام سن کر شاہ زمان احد کی جانب دیکھنے لگے ۔۔۔۔

The Black Angel


احد تم جانتے ہو اس لڑکی کو۔؟؟؟؟شاہ زمان خود کو دیے ہوۓ جھوٹے دلاسے سے شرمسار ہو چکے تھے کیونکہ انکو یہ لگ رہا تھا کہ احد اس لڑکی کو جاننے سے انکار کریگا۔۔۔

جی بابا جب سے یہاں آیا ہوں اسے کئ دفعہ دیکھ چکا ہو اور ۔۔۔

کہتے ہوۓ احد چھپ ہوگیا کیونکہ شاہ زمان کا چہرہ غصہ سے لال ہوچکا تھا۔۔۔

اور کیا ؟؟؟؟؟ شاہ زمان نے اپنا غصہ دباتے ہوۓ اس سے پوچھا۔۔۔

اور یہی بابا کے ہماری کبھی بات نہیں ہوئ اور اکثر  نہر کنارے اور لڑ کیوں کے ساتھ نظر آجاتی تھی ۔شاید یہ مجھے جانتی بھی نہ ہو۔۔

اور she is a good singer بابا۔۔۔

احد جان گیا تھا کہ اسکے بابا کیا کیا جاننا چاہ رہے تھے اس لیے سب کچھ بتا دیا۔۔۔

اور شاہ زمان وہی اک کرسی پر بیٹھ گۓ اور انھیں یاد آرہا تھا کہ احد کو music کا شوق ہے مگر انھوں نے کبھی اس بارے میں اسکی حمایت نہءں کی اور اسے میڈیکل کالج بھیج دیا اور وہ کئ سالوں کے بعد ڈاکٹر بن کر واپس آیا تھا اور یہی کسی ہاسپیٹل میں practice جاری رکھنے والا تھا

اور جب سے احد واپس آیا تھا تب سے کئ بار شاہ زمان سے کسی لڑکی کے بارے میں کہتا تھا کہ وہ بہت اچھا گانا گا تی اور اکثر نہر کنارے نظر آتی ہے رنگ سانولہ مگر آواز غضب کی اور فہد نے بتایا تھا کہ وہ بنجارے ہے جو کبھی اس گاؤں تو کبھی دوسرے گاؤں آتے جاتے رہتے ہے فصل کی کٹائ میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور اپنا معاؤضہ لیکر پھر کئ اور کا ٹھکانہ کرتے ہے۔۔۔۔

شاہ زمان کافی دیر تک یونہی خاموش تھے ۔۔احد اب تک بھی کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا تبھی فہد روم میں آیا ۔۔

بابا ساری formalities پوری ہو چکی ہے اور کیا ہم چلنے کی تیاری کریں ۔۔۔

شاہ زمان نے ایک لمبی سانس لی اور ہاں میں سر ہلایا ۔

تبھی ڈاکٹر کمرے میں آیا اور اک نرس بھی ۔۔۔

نرس سانولی کے ڈرپ وغیرہ ہٹان لگی جسکی وجہ سے سانولی ہوش میں آنے لگی وہ دواؤں کے اثر سے سو گئ تھی ۔۔۔

اور اسطرف ڈاکٹر احد سے مخاطب ہوا۔۔۔

جی ڈاکٹر احد اب اس patient کیcare آپ کریگے اور میں بہت فخر محسوس کر رہا ہو آپ کیلۓ کیونکہ آج کے دور تو it is impossibe l خیر یہ ہے انکی case fileاور آپ کو کوئ کام ہو تو آپ مجھے کال کر سکتے ہے میرا نمبر بھی فاءل پہ ہے ok میں  اب اجازت چاہتا ہو میرے مریض انتظار کر رہے ہیں۔۔۔

 ڈاکٹر یہ کہہ کر چلا گیا احد کو اسکی کہی کوئ بات سمجھ نہ آئ 

پھر اسنے فاءل کی جانب دیکھ کر اسے کھولا اور جو اسنےجو پڑھا اسے ایسا لگا جیسے وہ ابھی گر جاۓ گا بس اس ایک لفظ کے علاوہ اسے کچھ نظر ہی نہ آیا 

 mrs aahil

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!""""""""""""""!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ڈاکٹر آھل اب ہاسپٹل سے گھر آچکے تھے اور اپنے کمرے میں جانے کے بجاۓ لان میں ہی بینچ پر بیٹھ گۓ 

ملازم انکی طرف آنے لگا تو اس نےاشارے سے  منع کیا مگر پھر کچھ یاد آنے پر میر کو بلانے کا کہا

میر آچکا تھا اور اب سارا گزرا ہوا واقعہ آھل کے پوچھنے پر بتا رہا تھا۔۔

اسوقت زید کہا ہے؟؟آھل نے میر سے پوچھا سر packing کے بعد میں انکے روم سے باہر آگیا تھا وہ روم میں ہی ہوگے۔میر نے جواب دیا۔

اچھا تم جاؤ اور کل تم خود اسے airport ڈراپ کرنا میری دو گھنٹے بعد کی flight ہے اسلیے excuse.

اپنی بات مکمل کرکے وہ جانے لگا کیونکہ اسے پتہ تھا میر اس لڑکی کا ذکر کرے گا اور وہ اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

آھل اپنے روم میں آیا اور لاءٹ آن کرکے سامنے دیکھ کر مسکرانے لگا 

ابھی تک سوئ نہیں آپ اچھا اچھا im sorry بس جب دیکھو اپنی بات منواتی ہو اچھا تو پھر میں ready ہو جاؤ مجھے جانا ہے 

کیا نہیں بتاؤ گا surprise!!!!!

کہہ کر وہ changing room چلا گیا اور کچھ دیر بعد تیار ہوکر باہر آیا وہ واقعی ایک حقیقی gentle man لگتا تھا 

اس نے اپنا briefcase لیکر سارے ضروری documents چیک کیے اور اب گھڑی پہ ٹاءم دیکھ کر باہر جانے لگا پھر کچھ یاد آنے پر رکا اور پیچھے مڑ کر دیوار پر موجود ایک بڑے سے photo frame کے پاس گیا اور اسے بغیر پلکیں جپکاؐۓ دیکھنے لگا اسکی خوبصورت آنکھوں میں آنسو آنے لگے 

i still miss u still need u still love u Sara 

کہہ کر اس تصویر پر اپنا ہاتھ پھیرا جو اک بہت خوبصورت لڑکی کی تھی قدرت کا شاہکار کہے تو غلط نہ ہوگا۔۔اور کمرے سے باہر آگیا جہاں زید اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

زید کو دیکھ کر بھی وہ روکا نہیں اور آگے بڑھنے لگا تو زید جلدی سے اسکے پیچھے آیا

بھائ میری بات سنے میری کوئ غلطی نہیں تھی وہ اچانک سے ۔۔۔۔۔

بس زید ۔۔۔۔!!!!!!زید کی بات کاٹتے ہوۓ وہ بیزاری سے بولا

میری فلاءٹ کا ٹاءم ہو رہا ہے so plz excuse me

یہ سنکر زید چھپ ہوگیا ۔

پچھلے سال آج کے دن کیا ہوا بھول گۓ ہو شاید۔۔۔آھل نے کہا ۔۔۔


احد کا سر بے چینی اور برداشت ختم ہونے کی وجہ سے چکرا رہا تھا۔

سلونی ہوش میں آچکی تھی 

اس کے دادا اور دادی اس کے پاس آکر کھڑے تھے ۔۔نرس اسے ریڈی کرکے جا چکی تھی ۔۔۔

شاہ زمان آگے آۓ اور سلونی کے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوۓ کہنے لگے۔۔۔

بیٹا ہم جا رہے ہیں ہمارے گھر یاد ہے نہ میرا کیا ہوا وعدہ آج آپکا نکاح ہے چلو شاباش جلدی کرو چلتے ہیں  ۔احد آگے آؤ ۔۔۔

وہ بابا احد نیچھے چلا گیا ہے گاڑی نکالنے اور ambulance بھی آچکی ہے تو چلے۔۔۔

فہد احد کو جاتے ہوۓ دیکھ چکا تھا مگر اس وقت وہ اسے روک کر مزید تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔نہیں ambulance  نہیں گھر سے ہم دوسری گاڑی کو پیچھے آنے کا کہہ چکے تھے ۔چلے سب۔۔۔

احد ہسپتال سے باہر آکر اپنا سر پکڑے وہی دیوار کی آڑ لیکر ٹیک لگا کر سوچو میں غرق تھا۔۔۔

تبھی فہد ان سب کو لفٹ کے پاس بٹھا کر گاڑی نکالنے کے بہانے باہر آگیا تھا۔۔

احد کیا ہوا تمھیں ؟؟

کیا ہونا چاہیۓمجھے ہاں جس کی زندگی کا ایسا مزاق اسکے اپنےہی بنا رہے ہیں۔۔۔احد چلا رہا تھا۔۔

اچھا تمھیں اب بھی لگتا ہے کہ بابا غلط ہے اس لڑکی کو دیکھنے بعد بھی ۔۔

کیا مطلب آپکا بھائ؟؟

مطلب تو تمھیں بتانا چاہیے کہ تمھیں یہ سب غلط کیو لگ رہا ہےاحد!!!جو کچھ تم نے کیا بابا تو شاید مر جاتے مگر وہ تو انکے احسانات کو دیکھ کر کسی نے کوئ غلط حرکت نہیں کی ہمارے خلاف ۔۔۔تمھاری بے وقوفی اور بے وجہ غصہ ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑتا۔۔

بھائ آپ سیدھی طرح بتاۓ گے یا ایسے ہی کہانیاں سناۓ گیں۔۔۔۔

اوہ تو تمھیں واقعی میری بات سمجھ نہیں آرہی ہے تو سنو احد بے شرم نا مرد how dare u to rape her!!!!! فہد نے غصہ سے کہا اور احد کا یہ سننس تھا کہ وہ سکتے میں آکر اپنے آپ کو ہی بھول گیا اور آہستہ آہستہ نہیں نہیں کہنا شروع ہوا وہ شاید رو پڑتا یا فہد پر ٹوٹ پڑتا مگر کسی لڑکی کی چیخ سن کر دونوں بھائ اسی طرف مڑے ۔۔

یہ سلونی تھی جو احد کو دیکھتے ہی آپے سے باہرہوگئ تھی اور خوف سے چیخنا شروع ہوگئ جبکہ اسطرح دیکھ کر شاہ عالم گبھرا گۓ 

شاہ عالم کی گبھراہٹ دیکھ کر فہد آگے بڑھا مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرے 

سلونیکے دادا دادی بھی پریشان ہوکر ا سے سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے مگر سلونی اب مارے ڈر کے کانپنے لگی تھی 

فہد شاہ زمان کی حالت دیکھ کر مزید پریشان ہو رہا تھا تبھی اس نے مڑ کر احد کی طرف دیکھا کہ اسے مدد کیلۓآواز دے مگر احد کو دیکھ کر وہ گبھرا گیا کیونکہ احد  غصہ سے لال ہوکر انکی طرف ہی بڑھ رہا تھا 

!!!!!!!!!!!""""""""""!!!!!!!!!!!!!""""""""""!!!!!!!!!!آھل اب جاپان میں اپنے انسٹیٹیوٹ کے کانفرس روم میں موجود دنیا کے مختلف ممالک سے آۓ ہوۓ ڈاکٹروں اور اپنے پرٹنرز کے ساتھ کسی میٹنگ میں مصروف تھا جو ختم ہونے والی تھی ۔۔

تبھی روم کے باہر سے کوئ ڈاکٹر آیا اور آھل کے کان میں کوئ سرگوشی کی جسے سننے کے بعد آھل نے اس سے کچھ کہا اور وہ yes sir کہتا روم سے باہر چلا گیا۔کچھ دیر میں ہی میٹنگ ختم ہو گئ تو آھل اپنی نشست سے اٹھا اور سب سے مخاطب ہوا

ok gentlemen i hope  u all keep ur support with each other as u r still keeping have ur dinner plz i have an other meeting so plz excuse me ...

آھل اب روم سے باہر آکر آپریشن تیٹھر کی جانب جا رہا تھا جہاں دنیا کے نامی گرامی plastic surgeons کسی لڑکی کو examine کر رہے تھے جو آھل کے ہاسپٹل سے یہاں آئ تھی 

آھل پورے ot dress میں تیٹھر کے اندر داخل ہوا اور زور آواز میں سب سے مخاطب ہوا۔۔۔

ok than shall we start ????

سبھی نے آھل کو دیکھ کر yes کہا اور ایک طویل آپریشن اب شروع ہو چکا تھا ۔

دوسری طرف زید دبئ پہنچ چکا تھا اور میر جسے آھل نے اس لڑکی کے گھر والوں کے بارے میں پتہ کرنے کا کہا تھا وہ فون پہ کسی کو بتا رہا تھا کہ سر میں نے آس پا س پتہ کر لیا ہے ہر ذراءع سے مگر کسی بھی لڑکی کی لاپتہ ہونے کی کوئ خبر نہیں 

ok میر thanks زید ٹھیک تھا جاتے ہوۓ؟!

جی آھل سر بس خاموش تھے ۔

اچھا کوئ خبر ملے تو بتا دینا bye کہہ کر آھل نے کال کاٹ دی تھی اور اب دوبارہ تھیٹر کی جانب چل دیا جہاں کئ گھنٹوں سے آپریشن جاری تھا۔

اندر آتے ہی ایک ڈاکٹر اس سے مخاطب ہوا ...

sir now its shape time so plz ...

تب آھل نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اپنی فاءل سے ایک تصویر نکالی اور ڈاکٹر کو دکھا کر سکرین پر لگاتے ہوۓ تصویر کے پیچھے کی عبارت پڑھنے لگا love u Aahil from sara

کافی دیر آپریشن چلا اسکے بعد وہ اپنے کیبن میں بیٹھا آگے کے procedure کے بارے میں کال پہ کسی سے بات کر رہا تھا تبھی intercome پہ کال آئ جسے اس نے جلدی اٹھایا ۔۔

ھیلو ۔۔

ڈاکٹر آپ پلیز جلدی روم میں آ ۓ میں اسے کنٹرول نہیں کر پا رہی۔۔۔نرس نے کہا

کیا اتنی جلدی ہوش میں آگئ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔ 


احد کو غصہ میں سلونی کی آتا ہوا دیکھکر فہد ڈر گیا تھا تبھی شاہ زمان کی بھی اس پر نظر پڑی مگر وہ یہ دیکھ کر خوش ہوۓکہ احد سلونی کے پاس پہنچتے ہی سلونی کا ہاتھ تھا مے اسے سمجھانے لگا تھا۔

سلونی سلونی چھپ ہو جاؤ ٹھیک ہے دیکھو سب ہماری طرف ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔۔دیکھو تمھاری دادی کی طرف اور دادا کی طرف کتنے پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔ہمارے پاس وقت نہیں ہیں بہت سارے کام ہیں گھر پہ آج ہمارا نکاح ہے تو please چھپ ہوکر چلو میرے ساتھ اور گاڑی میں چل کر بیٹھو۔۔

سلونی جو احد کو اپنے طرف آتا دیکھتی ہی کانپنے لگی تھی مگر چلانا بند کرگئ تھی احد کے اس انداز سے بات کرنے پر بس اسی کی طرف نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی 

احد نے سلونی کا ہاتھ  پکڑا اور اسے گاڑی میں بٹھانے لگا اور سلونی اب ہچکیاں لیتی ہوئ اس کے ساتھ گاڑی تک آئ اور گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔

سلونی کے بیٹھتے ہی سلونی کے دادا اور دادی کو بھی فہد گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ کر شاہ زمان سے مخاطب ہوا۔۔۔۔

بابا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے یا ڈاکٹر کو بلوا لو؟؟

 شاہ زمان نے ایک گہری سانس لی اور نفی میں سر ہلاتے ہوۓ آہستہ سے اٹھے اور دوسری گاڑی کی طرف بڑھے مگر احد کو پہلے سے ہی گاڑی میں دیکھ کر دونوں حیران ہوۓ ۔۔۔

اس سے پہلے کے شاہ زمان یا فہد کچھ پوچھتے احد ان سے مخاطب ہوا۔۔۔

بابا مجھے بس کچھ جاننا ہے میں دو گھنٹے میں گھر پر ہی ہوگا آپ لوگ سارے انتظامات کر لے ۔۔۔

یہ کہہ کر احد گاڑی تیز چلاتا ہوا وہاں سے نکل گیا اور فہد نے دوسری گاڑی جس میں سلونی اور اسکے دادا دادی تھے کی ڈراءیونگ سیٹ سنبھالی اور شاہ زمان کے بیٹھتے ہی شاہ محل کی جانب گاڑی چلا دی۔۔۔

احد گاڑی چلاتے ہوۓ مسلسل کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔ok than tomorrow  is done right bye..

کہہ کر اس نے فون بند کیا اور ایک بنگلہ کے باہر گاڑی روک دی ۔۔۔گاڑی سے اترنے کے بعد وہ بنگلہ کی جانب بڑھا گیٹ کھلا ہونے کی وجہ سے وہ اندر داخل ہوا اور سیدھا بنگلہ کے اندر صحن تک پہنچ گیا جہاں تین چار لڑکے ٹی وی پر کوئ میچ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

احد ان میں سے ایک لڑکے کی طرف غصہ سے بڑھا اور اس کے قریب پہنچتے ہی اسکا کالر پکڑ کر اسے سامنے کھڑا کر دیا ۔۔۔

اچانک اس پکڑ وہ بوکھلا کر رہ گیا اور باوی لڑکے بھی اب کھڑے ہو گۓ تھے ۔۔۔

اس دن پارٹی میں تو نے میرے ڈرنک میں وہ غلاظت ملائ تھی کہ نہیں سعد۔۔۔۔؟؟؟؟احد غصہ سے لال ہوتا ہوا پوچھ رہا تھا ۔۔

احد کو سب ہی جانتے تھے کہ اس کے غصہ کے آگے کسی کا کچھ بھی  نہیں چلتا اس لۓ باقی سب تماشائ بنے چھپ چھاپ کھڑے تھے جبکہ سعد کا تو خون بھی خشک ہو گیا تھا۔۔۔

میں نے تم سے کیا پوچھا سعد ہاں یا نہ میں جواب دو۔۔۔

سعد جو بس کانپ رہا تھا مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا  احد کو پٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

احد سے اسکی خاموشی برداشت کرنا ناممکن تھا اسکا ضبط جواب دیچکا تھا ۔۔۔احد نے ایک زور دار مکا سعد کے منہ دے مارا جس کی وجہ سے سعد دور جا گرا ۔۔احد اسکی طرف دوبارہ بھڑنے ہی لگاتھا کہ سعد وہی گرے ہوۓ ہی احد سے مخاطب ہوا ۔۔۔ارے آحد یار غلطی سے وہ ڈرنک تیرے پاس آگئ تھی تجھے پتہ تو ہے نہ پھر کیو مار رہا ہے تیرا ہی تو پلین تھا اس فہیم کو تنگ کرنے کا مگر غلطی وہ ڈرنک تو نے پی لی۔۔۔پھر !!!!یہ کہہ کر وہ چھپ ہوا تو احد اسکی طرف تیزی سے بڑھا۔۔۔۔۔

 پھر کیا بتا مجھے تیرا چھپ ہونا مجھے کچھ غلط کےنے پر مجبور کر رہا ہے۔۔۔احد نے اسکی گردن دباتے ہوۓ کہا ۔۔۔

گلا چھوڑ بتا نے دے۔۔۔سعد نے دبی ہوئ آواز میں کہا تو احد نے اسکا گلا چھوڑتے ہوۓ اسے لیکر صوفے پہ بیٹھا اور اشارے سے اسے بات جاری کرنے کا کہا۔۔۔

سعد بولنے لگا۔۔۔وہ ڈرنک کے بعد جب تیری طبیعت خراب ہونے لگی تب ہم سمجھ گۓ کہ وہ ڈرنک غلطی سے تو نے پی لی ہے تو ہم نے فہد کو فون کیا مگر وہ شہر سے باہر گیا ہوا تھا تو اس نے ہم سے کہا تجھے گھر چھوڑنے کیلۓ ہم یہاں سے نکلے تو راستہ میں گاڑی کا فیول ختم ہوا تو میں اور عمر فیول لینے نکلے اور تو گاڑی میں ہی نیم بے ہوش تھا ۔۔۔ہم جب واپس آۓ تو اسد گاڑی کے پاس پریشان ٹہل رہا تھا ۔۔پوچھنے پر اس نے بتایا کہ تو اسی لڑکی کی گانے کے آواز سن کر گاڑی سے نکل کر جنگل کی طرف جانے لگا اسد کے روکنے پر تو اسے وہی دکھیل کر چلا گیا اور وہ اندھیرے سے ڈر کر تیرے پیچھے نہیں آیا ہم نے دوبارہ فہد کو فون کیا مگر فون تیرے بابا کے پاس تھا تھااور ہم نے آواز پہچانے بغیر ساری بات کہدی جلد ہی وہ لوگ پہنچ گۓ پھر ہمارے ساتھ تجھے ڈھونڈنے لگے پھر تمھیں نہر کے قریب بڑبڑاتے ہوۓ سن کر وہاں پہنچے تو۔۔۔۔سعد کے اتنا کہتے ہی احد نے اس کے منہ پر ایک زوردار تپھڑ مارا ۔۔۔اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔

!!!!!!!!!!!!!!!!!:::::::::::::::!!!!!!!!!!!!!!!!!:::::؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

آھل بھاگتا ہوا اس کمرے کی جانب گیا جہاں سے نرس کی کال آئ تھی ۔۔

پلیز آپ بات سنے ایسے نہ کریں آپ کے کےزخم ابھی تازہ ہیں پلیز میرے ساتھ co operate کریں ........نرس اسے مسلسل پکڑے ہوئ تھی جو جب سے ہوش میں آئ تھی انجان جگہ اور نرس کی اور پورے چہرے کے گرد لپٹی پٹیوں سے گبھرائ ہوئ اپنی پٹیاں نوچ کر نکالنا چاہتی تھی۔۔۔۔

مگر نرس اسے کنٹرول نہیں کر سک رہی تھی ۔تبھی کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھلا ۔۔۔۔

whats happening here???

آواز سنتے ہی دونوں اسی جانب دیکھنے لگے 

نرس کو ذرا تسلی ہوئ کیونکہ وہ جو کب سے نرس کے قابو میں نہیں آ رہی تھی اچانک منجمد ہوگئ ۔۔

وہ اپنے کے لپٹی ہوئ پٹیوں پر آنکھوں کے لۓ چھوڑے ہوۓ holes سے اسے دیکھ رہی تھی کیونکہ اسے یہ آواز شناسا لگی اسے ایسالگا اس نے یہ آواز پہلے بھی سنی ہے ۔

یہ ڈاکٹر آھل تھے وہ جلدی اسکے قریب آیا اور اسے غور دیکھنے لگا 

is dressing ok or !!!!

آھل کی کی بات پوری ہونے سے پہلے نرس بولنے لگی ۔۔۔۔

جی نہیں سر پٹی ٹھیک ہے میں نے اسے ہاتھ لگانے نہیں دیا ڈاکٹر 

ok ok 

دیکھے مس جو بھی آپکا نام ہے پلیز آپ relax رہیں ہم آپکے ساتھ کچھ غلط نہیں کر رہے یہ زور زبردستی بہت نقصان دہ ہے آپ کیلئے تو آپ آرام سے لیٹے اور ان نرس کو اپنا کام کرنے دیں یہ ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی آپ کو جو کہنا ہو آپ ان سے کہہ  سکتی ہے ok

پھر آھل نرس کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ انجیکشن آھل کو پکڑا دیتی ہے ۔۔۔

ہم آپ کے گھر والوں کو تلاش کر رےیں ہیں جب تک انکا پتہ نہیں چلتا ہمیں ہی اپنی family سمجھو ok

آھل بات کرتے ہوۓ اسے نیند کا انجکشن لگا دیتا ہے جبکہ وہ آھل کی باتوں کو کچھ سمجھ اور کچھ نہ سمجھتے ہوۓ بس اسی کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے اور نیند کی آغوش میں چلی جاتی ہے 

اسکی آنکھیں بند ہوتے ہی آھل غصہ سے نرس کی طرف دیکھتا ہے 

تمھیں پتہ ہے نہ نرس جولی کہ اسکا کیس کتنا critical ہے اگلے 48 گھنٹوں تک اسے ہوش نہیں آنا چاہیۓ got it 

جی ڈاکٹر آیندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔۔ 

آھل کے جاتے ہی نرس وہی بینچ پر بیٹھ جاتی ہے اور گہری سانس لیتی ہے 

بچ بچ گۓ ورنہ آج تو مر جاتی میں ۔۔۔پھر جیب سے یہنڈ فری نکال کر کانوں میں ڈالتی ہے اور

موباءیل کی اسکرین کو اسکرول کرتی ایک گانے کو چلاتی ہے۔۔۔۔

 ہاۓ کیا آواز ہے اگر ڈاکٹر بھی سنے گے تو افففففففف۔۔۔چلو ایک سرا اس لڑکی کے کان میں ڈال دیتی ہوں دیکھنا سکون سے سوئ رہیگی ۔

اس کے کان میں ہینڈ فری لگا کر وہ song play کر دیتی ہے اور گانا چلتے ہی جھوم کر اسکرین پر آۓ سنگر کی تصویر کو چھومتی ہے ہاۓ میں تمھاری بڑی فین ہو نوفل۔۔۔!!!!!!

جبکہ بے ہوش ہوکر اسے وہ آواز سنائ دیتی ہے مگر وہ کچھ کر نہیں پاتی اور آنسو کا ایک قطرہ اسکی آنکھ سے بہہ جاتا ہے جس جولی بے خبر گانے میں کھوئ ہوئ ہوتی ہے۔۔۔

جاری ہے۔۔


میں ان انکیلۓ لکھ رہا ہوں جن کی وجہ سے مجھ میں لکھنے کا حوصلہ مزید بڑھا ہے پلیز میرا  eye infection جلد ٹھیک ہو دعا کرے 

once again thanks 

The Black Angel 

#کالی_پری🌹

از محمد شارق

قسط 3


احد گھر آچکا تھا مگر اسے اپنے آپ سےشرم آ رہی تھی کہ وہ کس طرح سب کا سامنا کر سکے گا اسکا مزاق اس کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ کسی اور کی زندگی بھی برباد کر چکا تھا۔

وہ انہی سوچو میں تھا کہ کمرے کا دروازہ بجا اور فہد ہاتھ میں کچھ سامان لیے اندر آیا ۔۔۔

جلدی کرو احد تیار ہو جاؤ اور ملازموں کو کمرہ بھی ٹھیک کرنا ہے۔۔۔۔فہد یہ کہہ کر مڑا ہی تھا کہ احد کی آواز پر رک کر اس کی جانب مڑا۔۔

بھائ میں شرمندہ ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں ۔۔۔یقین جانے میں نہیں جانتا یہ سب کیسے ہوا۔۔۔یہ کہتے ہی احد 

بیڈ پر سر جھکاۓ بیٹھ جاتا ہے۔۔

فہد بھی اسکے برابر میں آکر بیٹھ جاتا ہے اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔۔۔۔

ہمیں پتہ ہے احد کہ تم نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا مگر آیندہ کیلۓ plz bata careful ہمیں دوسروں کا برا کریگا تو ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا اکے مزاق اور دیکھو مگر ہمیں تمھارے اور سلونی کے ساتھ ہے ابھ چلو جلدی کرو اور فکر مت کرو آجاۓ زیادہ لوگ نہیں بلاۓ ہیں مگر ولیمہ خاص ہوگا پتہ ہے کیوں ارے کیونکہ اسی دن چھوٹا شاہبیگم بھی آۓ گاءیں گھر پہ جیسے سبھی بھول گۓ ہیں۔۔۔۔فہد مصنوئ ناراضگی سے کہتا ہے۔۔

اوہ sorry بھائ اس طرف تو دھیان ہی نہیں گیا کیسے ہیں بھابھی اور چھوٹو۔؟؟؟احد ہلکا ساتھ مسکرانے کر کہتا ہے۔۔۔

دونوں ٹھیک ہے بس ابھ تم تیاریوں ہو کر جلدی آجاؤ۔۔۔فہد احد کو کہہ کر کمرےیں سے باہر چلاتا جاتا ہے اور احد بےدلی سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھتا ہے۔۔۔

سلونی اور اسکی دادی کو ایک کمرے میں بٹھا کر تارہ آپا جو شاہ بیگم  کی بہت پرانی اور خاص ملازمہ ہے وہاں سے چلی جاتی ہے 

دادی مجھے ماردیں میں مرنا چاہتی ہوں دادی مجھے اپنے آپ سے گھنپ آرہی ہے یہ کیاں ہوگیا دادی میں ۔۔۔۔میں یہآں رہنے کے لاءق نہیں ہوں دادی یہ لوگ بڑے لوگ مجھے پسند نہیں کریگے چلے یہاں سے۔۔سلونی جولی کب سے کسی قرب سے گزر رہیگی تھی آخر رو رو کر اپنی دادی سے التجا کرنے لگی۔۔

نہیں بیٹا اب تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤن گی تم ابھ شاہبیگم خاندان کا ایک اہم رکن بن چکی ہو۔۔یہ شاہ بیگم تھی جو دو ملازماؤں کے ساتھ کمرے میں داخل ہو رہی تھی تو انھوں نے سلونی کی باتیں سن لی۔۔

آپ لوگ یہ سامان یہاں رکھ کر چلی جاءیں اور تارہ کو بھیج دیں۔شاہ بیگم  نے ان ملازماؤں سے کہا تو وہ کمرے سے چلی گءیں اور شاہ بیگم  خود سلونی کے پاس بیٹھ گئ ۔انھوں نے سلونی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکی پیشانی پہ بوسہ دیا اور جو چیزیں ملازمہ رکھ کر گئ تھی ان میں سے ایک بھرکیلے کام والی چادر اٹھا کر سلونی کی دادی کی جانب دیکھ کر مسکرا کر پوچھا ۔۔۔بڑی بی مجھے اجازت دیں ؟

دادی نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا تو شاہ بیگم نے سلونی کو چادر اوڑھ کر ایک مخمل کی ڈبیا بھی اٹھائ اور سلونی کی جانب 

دیکھ کر کہنے لگی۔۔

شاہ خاندان میں جب کوئ بہو آنے  والی ہوتی ہے تو منگنی میں اس قسم کی چادر اور یہ کڑھا پہنایا جاتا ہے ۔۔وہ مخملی ڈبے سے  ایک نہایت ہی خوبصورت کڑھا ڈبہ سے نکال کر سلونی کو پہنانے لگتی ہے۔۔

اسٹ کڑھے میں ایک انوکھی بات ہے اسکا لاک جو اس چاندی کی انگھوٹی  سے کھلتا ہے جو نکاح کے وقت احد کو پہنائ جائ گی

یہ دیکھو میں نے بھی پہنی ہے اور تمھاری  جیٹانی ثناء کو آج ہی بیٹا ہوا ہے اسلۓ وہ ہسپتال میں ہے ۔۔۔چلو اب تارہ آگئ ہے وہ تمھیں تیار ہونے میں مدد کرے گی جلدی تیار ہو جاؤ ٹھیک ہے۔۔۔

یہ کہہ کر شاہ بیگم اٹھ کر جانے لگتی ہے پھر مڑ کر سلونی  کی جانب مسکرانے ہوۓ کہتی ہے۔۔۔

بیٹا تم میری بیٹی جیسی ہو اور خود کو اکیلا  مت سمجھو اب تو تم شاہ خاندان کے وارث کو بھی اپنے ساتھ رکھی ہوئ ہو تو اپنا خیال رکھو اور الٹا سیدھا مت سوچو۔

یہ کہہ کر شاہ بیگم تو چلی جاتی ہے مگر سلونی کو تو یو لگتا ہے جیسے اب وہ سانس نہیں لے پاۓ  گی 

دادی یہ کیا کہا شاہ بیگم نے کیا میں  ۔۔میں ۔۔۔۔نہیں نہیں دادی جواب دیں نہ دادی مہربانی کرکے بتاۓ نہ ۔۔۔سلونی  پھر سے رونا شروع  کر دیتی ہے تو اسے روتا دیکھ کر اسکی دادی  بھی رونے لگتی ہے 

تارہ  کو دکھ ہونے لگتا ہے تو وہ دادی  کو اسی کمرے میں موجود اندرونی بیڈروم میں آرام کرنے کا کہہ کر وہاں چھوڑ کر سلونی کی طرف آکر اسکے قریب ایک چھوٹی کرسی پر بیٹھ جاتی ہے تو سلونی اسکی طرف  دیکھ کر چھپ ہو جاتی ہے تو تارہ اس سے کچھ کہنے لگتی ہے۔۔

دیکھو بیٹا تم رو رہی ہو تو میں  منع نہیں کرونگی تاکہ  تمھارے  دل کا بوجھ ہلکا ہوا مگر تم اچھے لوگوں  کے بیچ ہو یقین کرو شاہ بیگم ہو یا شاہ صاحب یا انکے دونوں  بیٹے سب اچھے ہے بس ثناه زرا الگ مزاج کی ہے مگر تمھیں اس سے گبھرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ زیادہ کسی سے بولتی نہیں ہے اور میں ہوں تارہ کافی وقت سے یہاں ہوں اور شاہ بیگم کی خاص ملازمہ ہوں اور آج سے انھوں نے مجھے  آپکے  ساتھ رہنے کا کہا ہے تو شروع کریں وقت بہت کم ہے 

تارہ سلونی کو تیار کرنے لگتی  ہے اور اسے کمرے میں ہی موجود ڈریسنگ روم کی جانب لیکر جاتی ہے 

احد تیار ہو کر آجاتا ہے تو کچھ آۓ ہوۓ مہمان  اس سے گلے ملتے ہے جو شاہ زماں اور فہدکے ساتھ باہر گارڈن میں بیٹھے ہوتے ہیں جہاں نکاح کا انتظام کیا ہوتا ہےپھر وہ شاہ بیگم سے ملنے گھر کے اندرونی جانب جانے لگتا  ہے

چلتے ہوۓ کسی کی آواز سنبھلنے کر وہ رک جاتا ہے۔۔۔

!!!!!!!!!!!!!!!!؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

آھل اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا اگلے کانفرس کے شروع ہونےکا انتظار کر رہا ہے جس میں مختلف ممالک سے آۓ plastic  surgion کے ساتھ مل کر آگے کا پلان تیار کیاں جاۓ گا اور انکی reserch کا بھی ڈسکشن کرنا تھا جو جدید plastic surgery سے ہی منسلک ہے اور وہ reserch کامیاب ہونے پر اسے تمام دنیا میں متعارف کرناتھا

تبھی intercome پہ کال آتی ہے 

yes....آھل کہتا ہے مگر آگے سے recieptionist کی بات سن کر آھل کے چہرے کے تاثرات بھگرنے لگتے ہے 

ok let him in but just in guest room understand

یہ کہتا ہوا آھل فون رکھتا ہے اور اٹھ کر guest room کی طرف جاتا ہے 

دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوتا ہے جہاں ایک تری پیس سوٹ پہنے ہوۓ سلجے اور رعب دار شخص جو عمر میں آھل سے بڑا ہوکر بھی charming لگ رہا ہے آھل کو دیکھوں کر کھڑا ہوکر مصافحہ کیلۓ ہاتھ بڑھاتا ہے

hello Dr Aahil

جواب میں آھل مسکراتے ہوۓ ہاتھ ملاتا ہے 

im fine wt about u mr A.S Meer

مجھے کیا ہونا ہے بتاؤ کیا چل رہا ہے آجکل آھل بیٹا۔۔

بس وہی مریض اور تیٹھر اور کیا آپ سناۓ کیسے آنا ہوا۔۔۔

بس یونہی سوچا مل لوں تم سے اور کوئ نئی ریسرچ کی ہے ۔۔۔

نہیں فلحال تو نہیں ۔۔۔

تو یہ سرجنوں کی ٹیم جو بلائ ہے وہ کس لۓ۔۔۔

بس کچھ تھیوری revise کرنے۔۔۔

دیکھوں آھل جو کرنا ہے کرو مگر illegle نہیں ہونا چاہیۓ اور مجھے بتاکر کیونکہ مت بھولنا میں بھی اس ہاسپٹل پر اتناحق رکھتا ہوں جتنا تم باقی تم سیانے تو ہو ہی ۔۔۔

dont worry dr meer آپ ہمیشہ بےیقینی کی باتیں ہی کرتے ہیں  تو partnership  ختم کر سکتے ہیں ۔۔

سوچو گا تو ضرور بتا دوں گا فلحال یہ file دینے آیا تھا میں نے sign کرلی ہے اچھا میں چلتا ہوں میری uk کی فلاءٹ ہے۔

ok bye dr meer

bye Aahil


!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟؟!!!!!!!!!!!!!تین سالوں کے بعد۔۔۔۔۔۔

 آھل اور کچھ ڈاکٹر ایک روم میں موجود خوش تھے

finally we did it we acheive our goal 

ان میں سے ایک ڈاکٹر بولا

ہاں بس اب وہ خود اپنے آپ کو آءینہ میں دیکھے گی تو۔۔۔ایک اور ڈاکٹر نے کہا

وہ میرا مسءلہ ہے dont worry 

تبھی کمرے کا دروازہ زور سے کھلتا ہے اور کوئ غصہ اور تیش سے چلاتا ہے۔

آھل۔!!!!!!!!!!!!


سلونی تیار ہونے کے بعد بہت پیاری لگ رہی تھی کام دار بھرے ہوۓ لہنگے میں آج اسکا الگ ہی سراپا لرزتا دکھ رہا تھا یا شاید زندگی میں پہلی بار اسطرح  تیار ہوئ تھی اسلۓ ۔۔۔

 تارہ آپا سلونی کو کمرے میں بٹھا کر شاہ بیگم کو بلانے جانے لگی تو سلونی نے اسے روکا ۔۔۔

آپا آپ مجھے غلط مت سمجھنا مگر کیا میں مطلب جو شاہ بیگم کہہ رہی تھی وہ !!!!!

تارہ آپا اسکی بات سمجھ گئی  تھی 

دیکھو سلونی بیٹا میں احد کو تب سے جانتی ہوں جب سے وہ پیدا ہوا ہے بڑا اچھا بچہ ہے اس دن جو ہوا اس میں اسکی کوئ غلطی نہیں ہے وہ تو اسے کوئ ایسی چیز پلا دیتی کہ وہ تو اپنے حواس کھو چکا تھا ورنہ شاہ صاحب اسے پتہ نہیں کیا سزا دیتے۔۔۔تم دو مہینے  سے ہسپتال  میں  تھی تمھیں گہرا صدمہ ہوگیا تھا مگر اب فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔

سلونی یہ سن کر اور غمزدہ ہوئ ۔۔

دو مہینے !!!!!!!اللہ مجھے مار ہی دیتا میں کیسے رہ سکوں گی اس شخص کے ساتھ اور اور۔۔۔

بس بیٹا پھر سے نہیں رونا صبر رکھو سب ٹھیک ہوگا۔۔

تارہ آپا کیا مجھ سے کوئ رشتہ رکھنا چاہے گا جو بن بہائی ماں بننے والی ہے۔

سلونی بیٹا رشتہ رکھنا کیسا رشتہ تو ہے اب بس ٹھیک ہے میں شاہ بیگم کو بلا لوں تاکہ وہ تمھاری حقیقی خوبصورتی دیکھ لیں ۔۔۔

تارہ آپا کا یہ جملہ باہر گزرتے ہوۓ بھی کسی نے سنا تھاا ور اسکے قدم یہ سنتے ہی رک گۓ تھے۔۔دل تو چاہا کہ جھانک کر دیکھ لے مگر ایک سوچ کے ذہن میں آتے ہی وہ آگے بڑھ گیا جہاں شاہ بیگم کو دیکھ کر وہ رکا۔۔۔

احد ماشاءالله میرا بیٹا کتنا پیارا لگ رہا ہے ۔۔۔

شاہ بیگم یہ کہہ کر احد کی پیشانی چھومتی ہے ۔۔جواب میں احد مسکراتا ہے تو شاہ بیگم اسے وہی چاندی کی انگھوٹی پہنناتی ہے ۔۔۔

احد اس انگھوٹی کا پتہ ہے نہ اب یہ تمھارے انگلی سے باہر نہ آۓ سمجھو یہ میری آخری خواہش ہے۔۔۔

اماں بس ایسی باتیں نہ کرے مجھے پتہ ہے نہیں نکالوں گا وعدہ کرتا ہوں ۔۔

شاہ بیگم کچھ اور کہنے لگتی ہے تو فہد بھاگتا ہوا اندر آتا ہے 

چلو احد نکاح خواں آچکے ہیں۔۔۔

چلو جاؤ بیٹا اللہ تمھیں خوش رکھے..

احد آج ہمیشہ کی طرح بہت ہی دلکش لگ رہا تھا نہ جانے کتنی لڑکیوں نے اسے پانے کی چاہ رکھی ہوگی وہ کسی ریاست کے شہزادے کی مانند ہی تو تھا مگر اسکی ایک غلطی آج اسے اپنی نظروں میں گرا چکی تھی۔۔۔

نکاح ہو چکا تھا۔۔۔شاہ بیگم سلونی کو لیکر احد کے کمرے میں  آ چکی تھی ۔۔۔سلونی کی دھڑکنیں اب بے ترتیب ہونے لگی تھی جب شاہ بیگم اسےاحد کے کمرے میں بیڈ پہ بٹھاکر جا چکی تھی۔۔

کمرہ نارمل حد تک گلاب کی پتیوں سے سجا ہوا تھا جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔

سلونی اس کشاده کمرے کو دیکھ ہی رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آنے پر سلونی نے اپنا سر جھکا لیا اور اب گبھرانے لگی تھی۔۔۔

احد کمرے میں آکر اک نظر سلونی پر ڈال کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا کافی دیر کے بعد احد ایک بیگ لیکر ڈریسنگ روم سے نکلتا ہے اور آکر بیڈ کے قریب صوفے پر بیٹھ جاتا ہے ۔۔کچھ دیر خاموشی رہتی ہے ۔۔۔تبھی احد کی فون کی آواز خاموشی کو توڑتی ہے جس پر دونوں ہی چونکتے ہے ۔۔

ھیلو ۔۔۔ہاں۔۔ok and thanks نہیں بس میں نکل رہا ہوں اچھا یار پتہ ہے مجھے میں ہینڈل کر لوں گا۔۔

اپنی بات مکمل کرکے احد فون جیب میں ڈال کر جانے کیلۓ اٹھ جاتا ہے ۔۔

سلونی ۔۔۔احد سلونی کو مدھم سی آواز میں مخاطب کرتا ہے۔۔۔

جس پر سلونی چونک کر احد کی جانب دیکنھے لگتی ہے۔۔

مجھے بہت مشکل ہو رہی ہے تم سے ایک منٹ بھی بات کرتے ہوۓ تو سوچو کیا میں تمھارے ساتھ زندگی گزار سکو گا۔۔میں گھما پھرا کر بات نہیں کرتا اسلۓ جو ہے وہ سیدھا سیدھا بتانا چاہتا ہوں اگر تمھارا دل دکھے تو مجھے معاف کر دینا ویسے بھی جو گناہ میں نے کیا ہے وہ معافی کے لاءق نہیں ہے۔۔میں یہاں سے ہمیشہ کیلۓ جا رہا ہوں تم یہاں ٹھیک رہو گی یہاں سب تمھارا خیال رکھے گے۔۔

آحد یہ کہہ کر دروازہ کی جانب بڑھتا ہے اور دروازہ کھولتے ہوۓ سلونی کی سسکیاں سن لیتا ہے ۔۔

سلونی تم میرے بچے کی ماں بننے والی ہو اور میری بیوی ہو ۔میں یہاں سے جا رہا ہوں یہ بات میں نے سب سے پہلے اور ابھی تک صرف تمھیں بتائی ہے یقین کرتا  ہوں کہ تمھیں ان سب سے اپنے مقام کا اندازہ کا ہو گیا ہوگا۔میں  تم سے رابطہ رکھو گااللہ حافظ۔۔

احد یہ کہہ کر چلا جاتا اور سلونی کیلۓ اب بس رونا ہی رہ گیا تھا۔

!!!!!!!!!!!!!!!::::::::!!!!!!!!!!!!!:::::;;;;;;;;;;

آھل!!!!!!!

زور سے آھل کوآواز  دینے والا شخص کوئ اور نہیں بلکہ dr A S meer تھا۔۔جیسے دیکھ کر ڈاکٹر آھل کو چھوڑ کر سارے ڈاکٹر کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔

اوہ ڈاکٹر میر   کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔

سب ٹھیک ہے یا نہیں مجھے نہیں تمھیں زیادہ پتہ ہوگا آھل۔۔

کیاں مطلب آپکا dr meer.؟؟

مطلب تو تمھیں پتہ ہے مگر بہانہ بنانا ہے تو کوئ ضرورت نہیں میرا وقت ضائع کرنے کی۔۔میں نے ہمیشہبےہوشی تم سے کہا ہے کہ جوکرو مگر یہاں مجھے بتا کر اورillegal کچھ بھی نہیں ۔۔

کیا نہیں بتایا اور کیاں illegal ہوا ہے؟؟؟

بنو مت آھل تم نے اپنی plastic surgery کی نءی ریسرچ جس لڑکی پر آزماءی ہے وہ یہاں تک کیسے آءی ہے مجھے سب پتہ چل چکا ہے ۔۔۔

آپ کو کچھ نہیں پتہ پلیز اسکے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اسکی اجازت لیکر  ہوا ہے اور اسے سب پتہ ہے وہ یہاں کس طرح پہنچی ہے اسلۓ آپ اس بارے میں زیادہ نہ سوچے میں آپ کو سب بتانے والا تھا بس نتیجہ کا انتظار کر رہا تھاا۔۔

مجھے کوئ دلچسپی نہیں ہے اور مجھے اس ریسرچ کا کوئ benefit نہیں چاہیۓ نہ ہی کوئ share....

as u wish dr meer آپ کی مرضی سے ہی سب ہوگا لیکن ہماری کامیابی کی خوشی میں party جلدہی organise ہوگی پلیز آپ شرکت ضرور کیجیے گا۔

آہہہہ۔اگر وہ لڑکی اس سب سے مطمئن ہے تو سمجھلو کہ میں نے شرکت کر لی ہے۔۔

یہ کہہ کر dr meer تو چلا جاتا ہے مگر آھل ایک گہری سوچ میں پڑ جاتاہے۔۔

ڈاکٹر آھل اور انکے کچھ ساتھی ڈاکٹر اسوقت اسپتال کے اس کمرے میں ہے جہاں وہ جولی اس لڑکی کی پٹیاں dr Aahil کے کہے مطابق کھول رہی ہے ۔پٹی کھلنے کے بعد آھل کے اشارہ پر جولی آءینہ سامنےرکھتے ہوۓ اس لڑکی کی آنکھوں کی پٹیاں ہٹاتی ہے۔۔

چلو angel آنکھیں کھولو اور اپنا نیا چہرہ دیکھو اور مجھے بھی یعنی جولی کو۔۔۔

 

پٹی کھل جانے کے بعد جب وہ اپنا چہرہ آءینہ میں دیکھتی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔


احد چلا گیا تھا شاہ زمان نے اس سے رابطہ کیا تو اسنے کسی کورس وغیرہ کا بہانہ بنایا کہ اسلۓ لندن چلا گیا اور آتا رہے گا مگر شاہ زمان سب سمجھ چکے تھے اسلیے چھپ رہے اور یہ چھپ انکی زندگی کا حصہ بن چکی تھی مگر شاہ بیگم کی طبیعت اسکے بعد دن بدن گرتی چلی گئ ان سے بیٹے کی اسطرح کی جدائی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔

ثناه ناز گھر آچکی تھی ۔سلونی اس سے ملنے گئ مگر وہ تو کم گو تھی اس لۓ زیادہ بات چیت نہیں کی مگر اسے سلونی پہ ترس آرہا تھاپر ساتھ ساتھ اک ڈر بھی اب اسکے دل میں بیٹھ چکا تھا۔۔شاہ بیگم نے ثناه کا بیٹا سلونی کی گود میں دیا تو سلونی کے منہ سے بےاختيار نکل پڑا ۔۔

یہ تو بلکل شہزاده احد کی طرح لگتا ہے۔۔

جسے سن کر ثناه چونکی اور شاید سلونی خود بھی مگر شاہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگۓ انھوں نے سلونی کوگلے سے لگا لیا۔۔

بیٹا ہوسکے تو ہمیں اور اپنے شہزاده کو معاف کر دو۔۔

سلونی کے دادا اور دادی جا چکے تھے۔۔تارہ آپا کی وجہ سے سلونی کا دل لگا رہتا جوآجکل اپنی ایک سال کی نواسی کے ساتھ مصروف رہتی تھی ۔۔

سلونی کے ڈیلیوری کا وقت قریب آ چکا تھا مگر احد اب تک بس ٹیلیفونک رابطہ رکھے ہوۓ تھاجو بہت کم تھا ۔۔صرف شاہ بیگم اور فہد ہی اس سے بات کرتے شاہ زمان نے تو بات کرنا بند کر دیا تھاا ور سلونی کا بس شاہ بیگم سے پوچھتا کبھی بات نہ کرتا۔۔

آخر کار وہ وقت بھی آگیا جب سلونی نے ایک بیٹی کو جنم دیا مگر اسوقت بھی احد نے بس شاہ بیگم اور فہد سے مبارکباد وصول کی مگر کوئ خاص خوشی ظاہر نہ کی۔۔

شاہ بیگم اکثر فہد کے بیٹے کو سلونی کے پاس لاتی رہتی کیونکہ سلونی کمرے میں ہی رہتی تھی اور شاہ بیگم بھی اسے کچھ نہ کہتی تو وہ سلونی سے کافی گل مل گیا تھا

جب شاہ بیگم کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تو ایک دن انھوں نے فہد کو اپنے پاس بلوایا۔۔

فہد بیٹا ۔۔میں نے تمھیں یہاں بس یہ کہنے بلایا تھاکہ شاہ خاندان کی لڑکیاں شاہ خاندان میں ہی رہتی ہے تم سمجھ رہے ہو نہ۔۔

ہاں اماں مجھے پتہ ہے ۔۔آپ اپنا خیال رکھے یہ باتیں نہ سوچے احد کی بیٹی آج سے میری بیٹی ہے۔

فہد تو یہ بات کہہ گیا مگر ثناه پریہ جملہ کسی کہرام کی مانند تھاوہ جس ڈر میں تھی آج وہ اسکے سامنے آگیا۔

کچھ دنوں کے بعد فہد اور شاہ زمان کسی بزنس کے کام سے کچھ دنوں کے لۓ شہر سے باہر گۓ اور شاہ بیگم طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اپنے کمرے تک محدود رہ گئ تھی تو ثناه جو اتنے دنوں سے اپنے دل میں ایک غبار لیے یوئ تھی آج ایک فیصلہ پر پہنچی اور سلونی کی کمرے کی جانب چلی گئ جہاں تارہ آپا ثناه کے بیٹے اور اپنی نواسی کو لیکر پہلے سے ہی موجود تھی۔۔

زور سے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ کمرے میں جیسے ہی داخل ہوئ جلدی سے اپنے بیٹے کو اٹھایا اور سلونی کی جانب حقارت سے دیکھتی ہوئ گویا ہوئ ۔۔

اب کیاں شاہ خاندان کے لڑکے ان مراثیوں کی بیٹیوں سے شادی کرنے کیلئے ہی رہ گۓ ہیں ۔نہیں میں ایسا ہونے نہیں دونگی۔تارہ آپا جب تک اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی ایسے اور اسکی بیٹی کو ملازماؤ کے کوارٹر میں جگہ دے اور ان سے کہو نوفل یعنی میرے بیٹے  سے دور رہنا۔۔

ثناه اپنی بات پوری کرکے چلی گئ مگر تارہ آپا اب روتت پڑی تھی اور سلونی اپنا ضروری سامان سمیٹنے لگیں اسے تو ویسے بھی دربدری کی عادت ہوگئی تھی۔۔

!!!!!!!!!!!!!!!!:::::::::::::!!!!!!!!!!!!!!!:::::::؛؛

پٹياں کھلنے کے بعد اپنا نیا روپ دیکھ کر وہ حیران ہو گئ تھی مگر پھر بھی اسکی آنکھوں میں آنسوں تھے مگر آھل اسے دیکھ کر کہیں کھوچکا تھاابھی وہ بےخیالی میں اسے پکارنے والا ہی تھاکہ جولی کی آواز پر چونک گیا۔۔

ھیلو angelمیں ہوں جولی اب بتاؤ کیسا لگا اپنا نیا look ..

جولی اس سے باتیں کرتے ہوۓ سب کے بارے میں تھوڑا بہت بتانے لگی تھی جبکہ آھل باقی سب کے ہمراہ وہا ں سے باہر آجاتا ہے۔

چلتے چلتے ایک ڈاکٹر کہتا ہے۔

سر وہ اپنی یاداشت کھو چکی ہے تو اب کیا کرنا ہے۔۔؟

کچھ نہیں بس انتظار ویسے بھی اسکے بارے میں ابھی تک کچھ بھی پتہ نہیں چلا ہے اور ان تین سالوں میں وہ ہمیں جان چکی ہے فلہال اتنا کافی ہے ۔۔تم بس پارٹی

کا سوچو ok.

ok sir

جولی کسی کام سے کمرے سے باہر جاتی ہے تو وہ دوبارہ آءینہ کے سامنےاک آکر کھڑی ہو جاتی ہے اور اپنے آپ کو دیکنھے لگتی ہے

مجھے کوئ نہیں جانے گا اب یہی میرا مقدر ہے سب یاد ہے مجھے مگر کسی کو نہیں بتاؤ گی کہ میں کونسی منحوس ہوں۔۔


جاری ہے🌹

The Black Angel 

#کالی_پری🌹

از محمد شارق

قسط 4


سلونی کے سارے سگے رشتے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے دور ہو چکے تھے اسکے دادا دادی ۔۔اب بچے بھی بڑے ہو رہے تھے سلونی کی بیٹی کا نام پری رکھا تھا سلونی نے۔اور وہ لوگ وہی ملازموں کے کوارٹر میں ہی رہتے تھے شاہ بیگم سے اسنے یہاں دل لگے رہنے کا بہانہ بنالیا تھا۔۔جس پر شاہ بیگم کو دکھ تو ہوا تھاا ور وہ سمجھ بھی گئ تھی۔کہ اسکی وجہ کون ہے۔

پری اب چھ سات سال کی ہوگئ تھی وہ نازک سی خوبصورت نین نقش والی گندمی رنگت والی لڑکی تھی اور تارہ آپا کی نواسی سنبل جو ایک عام شکل وصورت کی مگر تیز لڑکی تھی۔۔نوفل کو ثناه نے جانبوجھ کر بورڈنگ اسکول میں ڈالنے کیلۓ اپنی بہن کے پاس بجھوا دیا تھا تاکہ وہ ان سب سے دور رہے۔۔

ایک دن سلونی کو پری نے گنگناتے سنا تو پوچھی۔

امئ آپ کیاں کہہ رہی ہے مجھے بھی سکھاۓ؟

جس پرسلونی مسکراتے ہوۓ اسے اپنی گود میں لیکر بیٹھ گئ اور پھر سے سنانے لگی جیسے پری دہرا رہی تھی۔۔

محمد نبینا من نورالادینا

من مکہ حبیبی نور استاءل مدینہ

مگر امئ اسکا مطلب کیاں ہے؟؟

بیٹا نہیں پتہ مجھے اچھا لگتا ہے سننے میں اسے گنگناتی ہوں۔۔

کہاں سے سنتی ہے ۔؟

سلونی ایک پرانا ریڈیو اسے دکھا کر کہتی ہے۔۔

اس سے یہ میں نے اپنےدادا جی کا لیا تھا اس سے۔

اور اسے چلا کر دکھاتی ہے۔۔

من صلی صلواۃ من الم شفاۃَ

پری بھی اب سلونی کے ساتھ گنگنانے لگتی ہے جبکہ سلونی کو کچھ یاد آتا ہے اور اسکی آنکھوں میں آنسوں آ جاتے ہیں۔۔

شاہ بیگم کی موت سب کیلۓ ایک قیامت سے کم نہ تھی مگر شاہ زمان نے سختی سے منع کیا تھا کہ احد کو کوئ بھی اطلاع نہیں دیگا۔۔

سلونی اور پری بہت روۓ تھے کیونکہ پری کو اپنی دادی سے بہت لگاؤ تھاانھوں نے پری کو بہت پیار دیا تھا۔

شاہ بیگم کے انتقال کے ایک سال کے بعد احد کسی میڈیکل سیمینار میں شرکت میں مجبوری کی وجہ سے وطن آیا  تو اسے پتہ چلا کہ اسکی اماں اب نہیں رہی ۔۔

وہ اور فہد صبح کے وقت باہر گارڈن میں بیٹھے تھے 

بھائ نوفل کیسا ہے؟

ٹھیک ہے بورڈنگ اسکول میں ہوتا ہے ،،

کچھ اور پوچھنا چاہتا تھا مگر ہمت نہ کرسکا۔۔

اور کب واپسی ہے تمھاری ؟؟فہد نے پوچھا۔

آج شام کو نکل جاؤں گا۔۔

کیا کل رات کو ہی تو آۓ ہو۔۔

پتہ ہے مگر اب یہاں رہنے کا حق نہیں رکھتا شاید ورنہ اماں کا انتقال ہوا اور کسی نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔

ٹھیک کہا تم نے احد ۔۔!!!!

یہ آواز شاہ زمان کی تھی جیسے سن کر دونوں بھائ کھڑے ہو گۓ تھے۔

اس سے پہلے کے شاہ زمان کچھ کہتے ایک آواز آنے پر سب اس طرف دیکنھے لگے۔

دادا جان دادا جان۔۔

یہ پری تھی جو روتے ہوۓ اس طرف  ہی آ رہی تھی۔۔

شاہ زمان پری کی جانب دوڑے مگر عمر کا تقاضہ تھاا سلۓ پھرتی اتنی نہیں تھی ۔۔

پری شاہ زمان سے لپٹ کر رو رہی تھی

کیاں ہوا پری بیٹا؟؟!!

دادا جان یہ دیکھے امئ نے ہمارا ریڈیو تھوڑ دیا..

پری نے ہاتھ میں پکڑا ٹوٹا ریڈیو دکھاتے ہوۓ رو کر کہا۔۔

اوہو مگر کیو کیاں امئ نے ایسا بیٹا؟؟؟

ہم نے کہا کہ اسکول نہیں جانا اسلۓ ۔۔پری اب بھی رو رہی تھی۔

تبھی وہاں سنبل ہانپتے ہوۓ اسکا اور اپنا بیگ اٹھاتے ہوئ آئ۔

چلو پری ورنہ ماسٹر جی مارےگیں۔۔

پری بیٹا آپ جاؤ ہم آپ کیلۓ نیا ریڈیو  لے آۓ گیں مگر آپ اسکول جاؤن گی تو ورنہ نہیں ۔۔

ہاں میں جاؤن گی چھٹی نہیں کرونگی پکا آپ جلدی لانا ۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔

سنبل اسکا ہاتھ تھامے اسے بیگ پہنانے کے بعد وہاں سے لے جاتی ہے۔۔

جبکہ احد اسی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے جاتے ہوۓ پری ایک دفعہ مڑ کر احد کی طرف دیکھتی ہے اور چلی جاتی ہے جبکہ سلونی جو پری کو لانے کے غرض سے اس طرف آتے ہوۓ احد کو دیکھ کر رک جاتی ہے اور وہی دیوار کی آڑ میں چھپ جاتی ہے اسکے سینے میں ایک درد اٹھنے لگتا ہے اور آنکھیں حیرت سے پھیل جاتی ہے یہ سارا منظر ثناه اوپر اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی دیکھ رہی ہوتی ہے اسے سلونی کیلۓ برا لگتا ہے مگر وہ وہاں سے چلی جاتی ہے

احد جو پری کی جانب ہی دیکھ رہا ہوتا ہے اسکے جاتے ہی فہد کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے۔۔

تبھی شاہ زمان کی بوجل آواز آتی

ہے ۔۔۔

فہد ایسے جاتے ہوۓ چھوڑ دینا ۔۔

اور وہ وہاں سے چلے جاتے ہیں۔۔۔

جبکہ احد اب بھی فہد کو ہی دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔

احد تم آرام کرلو میں شام سے پہلے ہی آجاؤ گا ساءیٹ سے ٹھیک ہے پھر ساتھ چلے گے ۔

فہد چلا جاتا ہے۔مگر احد وہی دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے کرسی پر بیٹھ جاتا ہے ۔۔

پری اور سنبل اسکول سے واپس آتے ہوۓ ہمیشہ کی طرح کھیتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔۔

چلو پری سناؤ آج کیا سناؤں گی۔۔

سنبل آج دل نہیں کر رہا گھر چلتے ہیں۔

سنبل اسکا ہاتھ تھامے گھر کی جانب چلتے ہیں گھر کے قریب گاڑی میں احد شاید انکا ہی انتظار کر رہا ہوتا ہے۔۔

ان دونوں کے قریب آتے ہی احد انھیں آواز دیتا ہے سنبل پری کو لیکر گاڑی کی طرف بڑھتی ہے۔

جی ۔۔۔

سنبل پہنچ کر کہتی ہے۔

احد ایک ڈبہ اسکی جانب بڑھاتا ہوۓ کہتا ہے۔۔۔

یہ لو اور اس لڑکی کو دیدو۔۔

اسکا نام پری ہے اور یہ کیاں ہے؟

یہ ریڈیو ہے۔۔

ریڈیو سنتے ہی پری بھاگتے ہوۓ آتی ہے اور ڈبہ لیکر سنبل کا ہاتھ پکڑ کر اندر کے جانب دوڑتی ہے۔۔

انکے جاتے ہی احد بھی وہاں سے نکل جاتا ہے۔

پری اندر جاکر شاہ زمان کو دیکھ کر ڈبہ دکھاکر ہنستی ہوۓ سلونی کے پاس جانے کیلۓ دوڑتی ہے ۔جبکہ سنبل کو شاہ زمان آواز دیکر روک کر پوچھتے ہیں۔

پری کے ہاتھ میں کیاں تھا سنبل۔۔

ریڈیو وہ پری کے ابو نے دیا۔۔

کیاں کس کی بات کر رہی ہو سنبل۔۔؟؟؟

وہی جو صبح یہاں کھڑے تھے جنکی تصویر بھی ہے اندر نانی نے بتایا تھاانکے بارے میں ۔

یہ کہہ کر وہ چلی جاتی ہے اور شاہ زمان بس آہ بھرتے وہاں سے چلے جاتے ہیں

!!!!!!¡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

۔ ¡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

تین سالوں میں اسکی جولی کے ساتھ ہی رہنے کی وجہ سے وہ جولی سے کافی کچھ جان چکی تھی کہ وہ یہاں کیسے آئ اور اب تک کیاں کیاں ہوا ہے اسے افسوس تو تھا کہ اسکی تلاش کسی نے نہیں کی تھی مگر دل بہلانے کیلۓ خود ہی سوچتی کہ اسکا تھا بھی کون۔۔اور ڈاکٹر آھل اسے ہمیشہ ایک ڈاکٹر کی طرح ہی ملتے اور اسکے کیے جانے والے procedure اسے بتاتے اسکے علاوہ کوئ بات نہ کرتے ۔۔

اچھا مجھے بہت دکھ ہے کہ تمھیں کچھ بھی یاد نہیں مگر یہ اچھا ہے تم یہاں ہو تمھیں بہت جلد ڈاکٹر آھل اپنے apartment میں shift کر دیگے جہاں میں تمھارے ساتھ رہو گی بڑا مزہ آۓ گاویسے بھی میرا کوئ نہیں ہے مگر اب تم ہو نہ ہم دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھے گے۔ارے تمھارا نام تو پتہ نہیں تھا تو میں تمھیں angel کہتی تھی اب تو یہاں سب تمھیں اسی نام سے جانتے ہیں۔تم کہو تو نام بدل دیں جو تم چاہو وہی رکھ لے۔۔

نہیں اچھا نام ہے نہ بدلو۔۔

ok چلو پھر گانے سنے میرے favourite کا ہمیشہ کی طرح اب تو تمھیں بھی میری وجہ سے عادت ہوگئ ہے جب سے تم بےہوشی میں تھی تب سے سنارہی ہو تمھیں ۔ہممممم یہ collection تو دکھی ہے چلو سنتے ہے۔

دھواں بناکے فضاء میں اڑا دیا مجھکو

میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیامجھکو۔۔۔۔۔

یہ سنکر اسکی آنکھیں نم ہوگئ تھی مگر جولی بے خبر تھی

تبھی intercome پہ کال آئ جسے سنکر جولی چہکنے لگیں۔

ہررررےےےےچلو تمھیں shift کرنے کا کہا ہے مزہ آۓ گا۔۔

وہ یہ سنکر ذرا سہم گئ ۔

مگر جولی ؟؟؟

او ڈیَر تم کیاں ڈر رہی ہو نہیں ڈرو دیکھنا تم خوش ہو جاؤن گی میں تمھیں گھمانے بھی لے جاونگی چلو شاباش ٹھیک ہے۔۔

اور وہ ہلکا سا مسکرا کر ہامی بھرتی ہے۔۔


یہ ایک وسیع modern appartment تھا جسکا ہر کمرہ جدید طرز سے سجا ہوا ۔۔جولی نے اسے اسکا کمرہ دکھایا اور خود اپنا سامان لیکر نیچھے servant quarter کی جانب بڑھ گئ۔

اس نے جولی کے جانے کے بعد پورے کمرے کا جاءزہ لیا مگر ڈریسنگ کے قریب پہنچ کر آءینہ میں اپنا عکس دیکھکر گبھرا گئ اور پھر سنبھل تو گئ مگر اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور کمرے سے نکل کر کیچن کے قریب آکر دیوار سے ٹیک لگا کر رونے لگی تبھی کسی نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا اور وہ اس سے لپٹ کر رونے لگی بغیر یہ دیکھے کہ اسکے آنسو کسے بھگا رہے ہیں۔اچانک وہ روتے ہوۓ اس سے دور ہوئ  تو اک اجنبی کو دیکھ کر گبھرا گئ مگر اسکے جو اجنبی تھاا سکے لۓ یہ چہرہ اجنبی نہ تھا وہ حیرت سے منہ کھولے اسی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔

سارہ!!!!!!!!!

سارہ بھابھی آپ مطلب ایسا کیسے کون ہو تم۔۔۔

یہ زید تھا جو اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔

hey young man she is Angel.my patientکیاں ہوا 

تبھی آھل کی آواز پر زید آھل کی جانب متوجہ ہوا۔۔

جولی بھی وہاں آچکی تھی تو آھل نے اسے angel کو اندر لیجانے کا کہا۔

بھائ یہ کون تھی مطلب کیاں یہ وہی لڑکی ہے اور آپ نے تو اف مطلب کمال کر دیا آپ نے۔۔زید ابھی  تک حیران تھا۔

ہاں جانتا ہو مگر چہرے کا انتخاب غلط تھا خیر تم fresh ہو جاؤن شام کو party میں بھی جانا ہے ok

یہ کہہ کر آھل چلا جاتا ہے مگر زید ابھی بھی حیران وہی پر صوفے پر گر سا جاتا ہے ۔


احد کے جانے کے بعد سب کی زندگی جیسے چل رہی تھی ویسے ہی چلنے لگی مگر سلونی کی زندگی ٹھہر گئ اسکے زخم تازہ ہوگئے تھے جو اسکی روح کو لگے ہوۓ تھے۔۔اسکی صحت دن بدن گرتی گئ تارہ آپا کے ساتھ ثناه کو بھی اسکی حالت پر دکھ ہوتا تھا مگر وہ ظاہر نہیں کرتی تھی۔۔

ایک رات سلونی کی حالت بہت خراب ہوگئ ڈاکٹر کو بلایا گیا مگر تب تک سلونی اپنے سارے دکھوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلۓ آزاد ہو چکی تھی۔۔

پری بہت روئی تھی مگر تارہ آپا نے اسے سہارا دیا ثناه چاہ کر بھی پری کو ساتھ رکھ نہیں پا رہی تھی جب فہد نے بھی اسے پری کو ساتھ رکھنے کا کہا تو ثناه نے بہانہ بنایا کہ وہ خود وہی رہنا چاہتی ہے اسکا دل وہی لگا رہتا ہے یہاں وہ خود رہنا بےنہیں چاہتی ۔۔یہ سنکر فہد خاموش ہو جاتا ہے اور شاہ زمان بھی پری کی خوشی کا سوچ کر صبر کر لیتے ہے۔۔

15سال بعد

صبح سویرے کھیتوں میں خوبصورت ہریالی اور سورج نکلنے کا وقت بڑا حسین منظر پیش کر رہا تھا تبھی ایک روح کو چھو لینے والی گنگناتی آواز آتی ہے

یا صاحب الجمال و یا سیدالبشر

من وجہۃالمنیر ولقد نول قمر

بعد از خدا بزرگ تو ہی

قصہ مختصر۔۔۔۔

مرحبا سیدی مکی مدنی العربی

دل وجانا کی ہدایت پہ عجب خوش لفظی

مرحبا سیدی مکی مدنی العربی۔۔

کھیتوں میں کام کرنے والے اسکول جانے والے چھوٹے بچے  وہاں ہر کوئ اس آواز کی سحر میں تھا جو روز انھیں اس وقت سنائی دیتی تھی۔

شاہ پیلس کے تمام رہنے والے بھی اس آواز کے سحر سے محفوظ نہ تھے مگر کوئ بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ کون ہے۔اور نہ کسی نے جاننے کی کوشش کی تھی۔۔۔

پری پری چل ورنہ آج نانی سچ میں پٹائی کر دیگی۔۔

ہاں ہاں چل تو رہی ہوں سنبل۔۔

دونوں دوڑتی ہوئ شاہ پیلس کے پچھلے گیٹ سے اندر داخل ہو جاتی ہے جہاں تارہ آپا انہی کی منتظر تھی ۔۔

آگئ تم دونوں روز تم لوگوں کا جا کر واپس آنے تک کا وقت مجھ پر ایک قیامت سے کم نہیں ہوتا۔۔

اوہ نانی آپ کتنی ڈرپوک ہے۔۔ہم دونوں نقاب میں ہوتی ہیں کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ گانے والا کون ہے۔۔"سنبل تارہ سے لپٹتی ہوئ بولی

تارہ آپا آپ میرے لۓ اتنا کر رہی ہے آپکا احسان ہے۔۔پری کی آنکھیں بھیگ گئ تھی۔

نہیں ہاں رونا نہیں ہے تمھاری ماں کو بھی گنگناتے سنا ہے اکثر بہت میٹھی آواز تھی سلونی کی ۔۔

سچ میں نانی پری جیسی آواز  تھی۔۔

ہمممم پری سے بھی میٹھی اسی آواز نے تو اس سے !!!!!تارہ آپا کچھ کہنے والی تھی کہ اچانک رک گئ ۔۔

ارے میں تو بھول گئ چلو جلدی ناشتہ کرو دونوں اور پھر سنبل کو تیار کرو آج لڑکے والے آءیں گے سنبل کو دیکنھے ۔۔

سنبل شرما گئ اور پری کو لیکر اندر چلی گئ۔۔

جبکہ تارہ آپا کو آج پھر سلونی کی یاد رلا گئ۔۔


شاہ پیلس میں سب خوش تھے کیونکہ فہد اور ثناه کا بیٹا نوفل آنے والا تھا ۔سب دل سے خوش تھے مگر ثناه اندر سے ڈری ہوئ تھی۔۔اسنے اتنے سالوں سے نوفل کو یہاں سے دور رکھا مگر اب نوفل آگے کی پڑھائی کیلۓ ملک سے باہر جانے کا پلان کر رہا تھا اسلۓ  کچھ دنوں کیلۓ اپنے چند دوستوں کے ساتھ شاہ پیلس میں رکنے آرہا تھا۔

ثناه نے اپنی بہن کو بھی ساتھ آنے کا کہا تھا کیونکہ اسی کی بیٹی سے نوفل کی شادی کروانے کا سوچ رکھا تھا ثناه نے۔

ملازمہ نے ثناه کو اسکی بہن کے آنے کی اطلاع دی تو وہ مہمان خانہ کی جانب گئ

 السَّلَامُ عَلَيْكُمْ زیبا کیسی ہوارے تم اپنی بیٹی کو بھی لے آئ ساتھ میں ۔کیسی ہو یمنا بیٹا۔

وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ثناه آپی ہم ٹھیک ہے تم سناؤ کیسی ہو فہد بھائ کیسے ہے انکل کی طبیعت کیسی ہے۔

جبکہ یمنا جو کہ کم گو اور بڑی پیاری تھی اور اخلاق کی بھی اچھی بس مسکرا  دی 

سب ٹھیک  ہے بس بابا کی طبیعت زرا سست رہتی ہے کبھی کبھار۔نوفل نہیں آیا تم لوگوں کے ساتھ ۔؟

نہیں آپی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ آۓ گا۔۔

اوہ اچھا ۔۔پھر دونوں باتیں کرنے لگتی ہے جبکہ ثناه سے اجازت لیکر یمنا پری اور سنبل سے ملنے آجاتی ہے۔

تینوں دوست تو نہیں تھے مگر جب بھی یمنا یہاں آتی ان دونوں سے ضرور ملتی۔۔

سنبل کا رشتہ طے ہو چکا تھا وہ اور پری خوش تھے مگر پری ذرا افسردہ تھی کیونکہ سنبل سے بچپن کا ساتھ تھا۔

ارے تم کیوں منہ لٹکا کر بیٹھی ہوں پری چلو اب اک گانا سناؤ میری شادی کی خوشی میں ۔۔

پری سنبل کی طرف  دیکھتی ہے تو اس سے لپٹ کر رو پڑتی ہے۔

سنبل بہت یاد آؤ گی تم ۔۔

ارے تم رو رہی ہو تمھیں بھی تو شادی کرنی ہے پھر میں دیکھتی ہوں تم کیسے مجھے یاد کرتی ہو۔

چھپ کرو سنبل ۔۔

ارے ارے پری کو شرم آگئ تو جب نوفل سامنے آۓ گا تو کیا کروگی۔۔

نوفل !!!!!!!

یمنا یہ سنکر چونک گئ تھی کیونکہ اسے تو یہ بتایا تھاا سکی ماں اور خالہ نے کہ نوفل سے یمنا کی شادی ہوگی۔

ارے آؤ بیٹا یمنا تم کب آئ؟؟

تارہ آپا نے اسے دیکھ کر پوچھا جو آجکل بس اپنے کمرے میں ہی رہتی تھی زیادہ کیونکہ عمر اتنی ہوگئ تھی کہ کامکاج نہیں کر سکتی تھی۔

ابھی امئ کے ساتھ مگر یہ تم دونو ں نوفل کے بارے میں کیا کہہ رہی تھی۔۔


ارے بیٹا یہ سنبل کی عادت ہے ہمیشہ پری کو اسکے منگیتر کے نام سے چھیڑنے کی خود کا رشتہ ہوگیا تو بس اب پری کو ستا رہی ہے۔

کیا کہاں  آپ نے منگیتر مگر منگنی کب ہوئ مطلب میں سمجی نہیں ۔۔!!!یمنا دل دھڑک اٹھا تھاا۔

بیٹا شاہ خاندان کا رواج تمھیں بتایا نہیں کسی نے شاید اس خاندان کی بیٹیوں کا باہر رشتہ نہیں کیا جاتا تو پری اور نوفل کی شادی تو طے ہے

یمنا سے برداشت نہیں ہوا اس نے ایک نظر سانولی سی پری کو دیکھا اور پھر اسکے ہاتھوں پیرو کو جو چہرے سے گورے تھے پھر نوفل کا چہرہ اسکے آنکھوں کے سامنےلہرایا کہ کیسا خوبصورت اور دیوانہ کر دینے والا انسان جیسے رب نے خوبصورتی کے ساتھ آواز بھی دی ہے اور یہ لڑکی جو کہیں سے بھی اسکی برابری نہیں کرتی یہ سوچ لیے وہ وہاں سے بنا کچھ کہے چلی جاتی ہے۔


نوفل اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شاہ پیلس کیلئے نکلنے کیلۓ تیار کھڑا ہے اور کسی کا انتظار کر رہا ہے۔۔وہ فون نکال کر کال ملاتا ہے

ہیلو میم آپ ابھی تک آئ نہیں جی yes ok ok 

کیاں ہوا نوفل کیاں کہا میم نے؟؟ایک دوست نے پوچھا

ہمیں نکلنے کا کہا ہے وہ کل تک آجاۓ گی۔نوفل نے جواب دیکر گاڑی اسٹارٹ کرلی

یار نوفل کیاں تجھے لگتا ہے یہ البم جلدی مکمل ہوگا میرا مطلب الگ الگ زبانوں کے گانے اور ریمیکس کے ساتھ اگر مقررہ وقت سے لیٹ ہوۓ تو۔ایک اور دوست بولا

نہیں ہونگے ریمیک مشکل نہیں بس میم کو جو نئی آواز ملی ہے وہ بھی میرے گاؤں سے یہ strangeہے کہ کون ہےجس نے میم کو پاگل بنا دیا ہےاسکو ابھی میم کہاں سے اور کیسے لائی گی یہ ذرا پیچیدہ معاملہ ہے۔۔

ہاں excited تو میں بھی ہوں سنا ہے بڑی جادوئ آواز ہے lets see۔ایک اور دوست بولا

yes lets see

نوفل نے جواب دیا

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!::::::::؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛!!!!!!!!!!!!!!!!!

رات بہت ہوچکی تھی زید اور آھل ابھی تک پارٹی سے واپس نہیں آۓ تھے تو جولی angel کے ساتھ dinner کرکے اسی کے کمرے میں بیٹھ گئ۔۔اور اپنے بارے میں بتارہی تھی۔۔

angel میں تم سے عمر میں بڑی ہوں مگر تمھیں میری حرکتيں بچکانا لگتی ہوگی ہے نہ


نہیں جولی بلکہ مجھے اچھا لگتا ہے تم ایک زندہ دل انسان ہو۔

ہاں ہوں مگر آھل سر کی وجہ سے ورنہ میں جیکب کے مرنے کے بعد تو ٹوٹ چکی تھی ایک بیوہ کو سہارہ دیکر آھل نے نہ صرف میری زندگی سنواری بلکہ ہر طرح سے میری مد د کی  he is a great man مگر پھر بھی اتنے درد اور تکلیف کے باوجود دوسروں کی مدد کرتے ہیں

کیسا درد؟؟

چھوڑو مجھے نیند آرہی ہے وہ لوگ پتہ نہیں کب آءیں گے میں تو سو رہی ہوں اٹھا دینا مجھے okاور نیند نہیں آرہی تو میوزک سن لو ہااااااااااgood night angel 

جولی کے سوتے ہی وہ ہینڈ فری کانوں میں ڈال کر میوزک آن کرتی ہے جس میں صرف نوفل کے گانے ہوتے ہیں 

کیوں ہوا آج یو گا رہی ہے 

کیون فضاء رنگ چلکا رہی ہے

یہ سنتے ہوۓ وہ اسکے سحر میں کھو کر ساتھ ساتھ گانے لگتی ہے تبھی گاڑی مین گیٹ سے اندر آتی ہے اور آھل اورزید لفٹ کے ذریعے اپنے اپارٹمنٹ کے فلور پر پہنچتے ہے تو انھیں کسی کے گانے کی آواز آتی ہے۔

یہ کسکا ہے چہرہ جیسے میں  

ہر ایک پھول میں دیکھتا ہوں

یہ کسکی ہے آواز جسکو

نہ سنکے بھی میں سن رہا ہوں

کیسی یہ آہٹیں آرہی ہے

کیسے یہ خواب دکھلا رہی ہے

میرے دل بتا آج ہونا ہے کیا

کیوں ہوا آج یو گا رہی ہے 

گا رہی ہے گا رہی ہے

وہ اپنے دھن میں مگن گاتے گاتے جب پیچھے مڑتی ہے تو اسکی آنکھیں خوف اور ڈر سے پھیل جاتی ہے


تارہ آپا !!تازہ آپا!!!

ثناه سونٹ کوارٹر تک خود چل کر آئ تھی شاید تارہ آپا کی عمر کا لحاظ کر رہی تھی۔۔

تارہ آپا سمجھی شاید سنبل کے رشتے کی مبارکباد دینے آئ ہے مگر جب انکے چہرہ کے تاثرات دیکھے تو ذرا پریشان ہوئ ۔۔

جی جی چھوٹی بیگم ۔۔

کیاں کہا ہے تم نے یمنا سے ؟؟؟؟

جی وہ میں نے------

رکو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بس میری بات یاد رکھنا اس کالی پری کو میرے شہزاده سے دور رکھنا وہ آنے والا ہے اور یاں نوفل کی شادی میرے جیتے جی اس منحوس سے کبھی نہیں ہوگی اپنے دلوں سے یہ خیال سب نکال دو اور اسے نوفل کے رہنے تک اسطرف ہی رکھنا سمجھ گئ آپ۔

جی چھوٹی بیگم!!

ثناه کے جاتے ہی تارہ آپا وہی بیٹھ جاتی ہے اور رونے لگتی ہے۔۔

یا اللہ یہ کیاں ہوا میری پری پر اور کیاں کیاں ستم ہونے باقی ہے۔۔

تبھی اندر سے پری اور سنبل کے ہنسنے کی آوازیں آتی ہے۔۔

شکر ہے اسنے سنا نہیں ۔۔

جبکہ سنبل یہ ساری باتیں سن چکی تھی اور پری کو اسی طرف آتا دیکھکر جلدی سے اسے باتوں میں لگا لیا تھا

کہاں جا رہی ہوں رکو پہلے مجھے وہ اپنا بچپن والا گانا سناؤ ۔۔

کیاں وہ نہیں یار۔۔۔

اور دونوں ہنسنے لگتی ہے۔۔

مگر سنبل کی ضد کے آگے پری ہتھیار ڈال دیتی ہے۔

نار دانہ انار دانہ

اسا رومی ٹوپی والے نار دانہ

اور دونوں پھر بھاگتی ہوئ پچھلے گیٹ سے کھیتوں کی طرف نکل جاتی ہے۔

یہ ٹوپی یہ چاند سا چہرہ 

جو دلہے کے سر پہ سہرا

مر جانا مر جانا

اسا تینوں تک تک مر جانا

تبھی نوفل جو گاڑی روک کر اپنے دوستوں کو کھیت دکھا رہا ہوتا ہے انکی سماعتوں میں یہ آواز اپنا رس گھولنے لگتی ہے

oh my wt  a voice 

نوفل یہ کہتا ہوا گاڑی سے اترتا ہے

اسکے ساتھ اسکے دوست بھی

نوفل آواز کاپیچھا کرتا ہے مگر اسکے دوست وہی رک جاتے ہیں

پیار کی ڈوری دل کو کھینچے

تو آگے میں پیچھے پیچھے

ٹکرانا ٹکرانا 

تیرے لۓ سارا جگ ٹکرانا 

نار دانہ انار دانہ

اچانک آواز آنا بند ہو جاتی ہے نوفل سب طرف دیلھتا ہے مگر اسے کوئ نظرنہیں آتا تو وہ واپس پلٹتا ہے

کیاں ہوا کون تھی؟؟

کوئ نہیں تھالگتا ہے کوئ recording یا ریڈیو ہوگا چلو بیٹھو چلتے ہیں

انکی گاڑی نکلتے ہی سنبل اور پری جو نوفل کو دیکھ کر وہی کھیتوں میں چھپ جاتی ہے باہر نکل آتی ہے

بچ گۓ یار چلو گھر بھاگتے ہے جلدی سے۔۔سنبل یہ کہہ کر پری کا ہاتھ تھامے بھاگنے لگتی ہے۔

گھر کے قریب پہنچتے ہی انھیں گیٹ کے قریب فہد اور گاڑی سے اترتے کچھ لوگ نظر آتے ہیں۔

یہ سب کون ہے اوریہ تایا ابو  کس  سے گلے مل رہے ہیں

سنبل پری کی بات سنکر اسی طرف دیکھتی ہے تو وہ پری کی جانب دوبارہ دیکھتی ہے جسکے چہرے پہ شرمیل مسکراہٹ پھیلنے لگتی ہے سنبل کو ثناه کی باتیں یاد آتی ہےتو وہ پری کو کھینچتی ہوئ اندر لے جاتی ہے۔۔


نوفل کھانے کے ٹیبل پر سب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھااسکے دوست guest room میں تھے تبھی یمنا اور اسکی ماں وہاں آتے ہے۔

ارے واہ خالہ یمنا کیسے ہے آپ دونوں ۔؟؟

ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔جبکہ یمنا بس مسکرا دیتی ہے

پری کہاں ہے ثناه ؟؟فہد سوال کرتا ہے جیسے سنکر ثناه چونکتی ہے اور نوفل کے چہرے کے زاویے بگڑ جاتے ہیں جسے فہد کو چھوڑ کر باقی تینوں دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوجاتے ہیں خاص کر ثناه جو کئ سالوں سے نوفل کے دل میں پری کیلۓ اپنی نا پسندگی اور کالے رنگت سے نوفل کی نفرت کو بڑھانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔

نہیں اس نے کھانا کھا لیا تھاا ور سو رہی تھی تو میں نے جگایا نہیں ۔۔

ہممم۔۔نوفل تم بھی نہیں ملے پری سے ابھی تک۔۔

افففف بابا پلیز آپ کیاں چاہتے ہیں میں جاؤن یہاں سے۔ڈیم

یہ کہتا ہوا نوفل وہاں سے چلا جاتا ہے۔۔

فہد آپ کو پتہ ہے نہ کہ اسے پری سے الرجی ہے تو پھر۔۔ثناه تپ کر بولی۔۔

تو ثناه نار بیگم اس الرجی کا علاج جلدی کر دے کیونکہ نوفل کے جانے سے پہلے اسکا پری سے نکاح ہوگا سمجھی آپ ۔۔فہد یہ کہہ کر چلا جاتا ہے جبکہ اس کی بات پر یمنا کوچھوڑ کر ثناه اور اسکی بہن دونوں حیران ہو جاتی ہے۔۔

 


رات دیر گۓ تک پری کو نیند نہیں آرہی ہوتی اسے بار بار نوفل کا چہرہ اپنی آنکھوں کے سامنے لہراتا نظر آتا ہے۔۔

اپنی پری تو نوفل کے سنگ اڑ جاۓ گی۔۔

نوفل سے ہوگی پری کی شادی ۔۔

اسے تارہ آپا کی باتیں یاد آتی ہے تو وہ شرما جاتی ہے 

تبھی اسے شورشرابے کی آوازیں آتی ہے لگتا ہے انکے تہوار کا فنکشن شروع ہوچکا ہے۔۔

سنبل سنبل اٹھو نہ یار چلو نہ چھت پہ پروگرام شروع ہو گیا ہے چلو نہ۔۔۔

اففففف تمھیں انیتا کے گھر چھوڑ کر آنا چاہیۓ تھا چلو ۔۔

دونوں درخت کے سہارہ لیکر حویلی کی چھت کے کونے والے حصے پہ چڑھ جاتی ہے جہاں سے پروگرام آسانی سے نظر آرہا ہوتا ہے

پری تو دیکھ ناچ مگر خدارا گانا مت جب تیرا ہو جاۓ تو مجھے اٹھا دینا تب تک میں اس میز پر سو جاتی ہوں بہت نیند آرہی ہے مجھےےےےےےےے

سنبل سو جاتی ہے اور پری انتظار کرنے لگتی ہے

اسکا انتظار ختم ہو جاتا ہے اب وہ بھی گانے کے بولو کو گنگناتے ہوۓ  ناچنے لگتی ہے

گھر مورے پردیسیا

آؤں پدھارو پیا

جبکہ اسے کتنی دیر سے کوئ دیکھ رہا تھا کہ اچانک سنبل کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ نوفل کو چھت کے دروازے پر دیکھکر کانپ جاتی ہے جو پری کو دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ پری اپنی دھن میں ناچ رہی تھی۔۔

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

واؤؤؤؤؤؤؤ اینجل یہ تم ہو تمھاری آواز تمھاری آواز تو کمال ہے یار اتنی پیاری اور تم نے بتایا نہیں میں آھل سر کو ضرور بتاؤں گی۔۔

نہیں جولی تمھیں میری قسم ہے تم کسی کو کبھی بھی نہیں بتاؤں گی وعدہ کرو مجھ سے پلیز وعدہ کرو۔۔

یہ کہتے ہوۓ وہ رو پڑتی ہے تو جولی پریشان ہو جاتی ہے۔۔

اینجل میں نہیں بتاؤں گی تم رونا بند کرو دیکھو دروازے کی آواز ہے وہ لوگ آگۓ ہونگے میں جاتی ہوں اور پلیز رونا مت میں نہیں بتاؤ گی۔۔

جولی باہر آتی ہے تو زید اسے ملتا ہے 

جولی تم نے گانا سنا کتنی میٹھی آواز تھی لگتا ہے کوئ آسپاس سنگر رہنے آئ ہے۔ 

جی سر سنی ہے اور بلکونی سے صاف آواز آرہی تھی اسلۓ ریکارڈ بھی کی ہے۔

جولی اس نے کھانا کھایا اور میڈیسن دیتی رہتی ہو نا۔۔

آھل نے پوچھا۔

جی سر میں یہی تھی اب بس جارہی ہوں۔۔

اگر تم چاہو تو اسکے ساتھ اسی کمرے میں رہ سکتی ہو۔

نہیں سر میں وہی ٹھیک ہوں۔۔

ہمممم ok julie 

hey julie listen 

مجھے وہ ریکارڈنگ تو send کردو

زید نے کہا۔

ہاں ضرور مگر اسوقت بیٹری لو ہے کل ok

ok julie goodnight 

goodnight both of u sir

جولی چلی جاتی ہے اور زید بھی اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔


آھل اپنے کمرے میں آتا ہے لاءیٹ آن کرتا ٹائ کوٹ اتار کر بیڈ پر بیٹھ جاتا ہے۔

ہمممم ابھی تک ناراض ہو سوری بول تو چکا ہوں اس دن کچھ سمھ ہی نہیں آرہا تھا اور دیکھوں تم نے میری کتنی مدد کی اچھا ہوا تمھاری pic تھی میرے پاس ورنہ پتہ نہیں میں اسے کیاں چہرہ دیتا ۔۔اوہ ہو تو آپ جل رہی تھی اس وقت jealous really

ہاہاہاہاہا فکر مت کرو وہ بھی اپنا تم جیسا چہرہ دیکھ کر خوش ہوگی اور تم بھی ہے نہ کہ ابھی تک مجھے تمھاری ضرورت پڑتی ہے۔

وہ اٹھ کر بیڈ کراؤن کی جانب آتا ہے جہاں سارہ کی بڑی سی تصویر لگی ہوئ ہے وہ اس پر سر ٹکا کر ماضی کو یاد کرنے لگتا ہے۔۔

۔

کیاں کہہ رہے ہے بھائ سچ میں آپ اور سارہ شادی کرنے والے ہیں

واؤؤ کب آرہے ہیں یہاں ؟؟زید فون پر آھل سے بات کرتے ہوۓ بہت خوش لگ رہا تھا

ہم آچکے ہیں رستے میں ہے کیسا لگا سرپراءز دیور جی۔۔

اوہ سارہ مطلب بھابھی بتاۓ بغیر پہنچ گۓ چلے جلدی آۓ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔

ہاں چھوٹے بس آرہا ہوں باۓ۔۔

باۓ بھائ۔۔

ہمممم finally we r getting marry im really happy thankyou Aahil for this .

اوہ شکریہ تو مجھے کہنا چاہیۓ کہ تم میری زندگی میں آئ اب بس شادی ہو جاۓ اور میں تمھارا مجازی خدا بن جاؤن ۔۔

ہاہاہاہا آھل مجازی خدا so sweet

تبھی سامنے سے ایک بے قابو ٹرالر آکر انکی گاڑی کو ٹوکر مار کر خود تو نکل جاتی ہے مگر ساتھ سارہ کی سانسیں بھی۔۔

آھل پندرہ دنوں تک بےہوش رہا جب ہوش میں آیا تو سارہ کا آخری دیدار تک نہ کرسکا۔


اک آواز پر آھل سوچوں کی دنیا سے باہر آیااور کمرے سے باہر آکر ہال کی طرف گیا جہاں کیچن کی لاءیٹ آن دیکھ کر اسی طرف گیاتو دیکھا اینجل فرش پر سے کانچ کے ٹکرے اٹھا رہی ہے

کیاچاہیۓ تمھیں آواز دیتی کسی کو۔

وہ چونک گئ تو کانچ اسکی انگلی میں لگ گیا

آہ ۔!!!وہ ہلکا ساچلائ

اوہ گاڈ۔!!!آھل نے اسکی انگلی کو اسکا ہاتھ پکڑ کر دیکھا اور اسے باہر کرسی پر بٹھا کر فرسٹ ایڈ باکس لاکر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔

کانچ اسکی انگلی میں گھسا ہوا تھاا۔

وہ اب سی سی کرتے ہوۓ ہلکا ہلکا رو رہی تھی۔

آھل نے اسکا کانچ نکالنے کیلۓ فارسپ لیا تو اسنے ڈر کے ہاتھ پیچھے کر لیا۔

کیاں ہوا؟؟؟

یہ کھینچی سے درد ہوگا ۔۔

کھینچی !!!ہاہاہاہا یہ کھینچی نہیں ہے اور اس سے درد نہیں ہوگا۔۔

مگر اب اسکے آنسوں نکلنے لگتے ہیں۔۔۔آھل غور سے اسکا چہرہ دیکھتا ہے تو کہیں کھو جاتا ہے مگر فوراَ نظریں ہٹا لیتا ہے۔۔

اچھا اچھا تم کیچن میں کیاں کرنے گئ تھی؟

چاۓ بنانے۔۔وہ روتے ہوۓ کہتی ہے۔

ہممم اس سے پہلے کیاں کر رہی تھی ؟؟

گانا سن رہی تھی۔

اچھا تم روکو میں تمھیں گانا لگا کر دیتا ہوں ٹی وی پر ok

وہ اٹھکر ریموٹ سے ٹی وی آن کرکے کوئ میوزک چینل لگاتا ہے جہاں گانا سنکر پھر سے اسکے چہرے میں کھو جاتا ہے۔

اور آہستہ کیجیے باتیں 

دھڑکنیں کوئ سن رہا ہوگا

لفظ گرنے نہ پاۓ ہونٹوں سے

وقت کے ہاتھ انکو چن لیگے 

کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار

راز کی ساری بات سن لیگے 

اور آہستہ کیجیے باتیں 

غزل سنتے ہوۓ  آھل اسکی آنکھوں میں کھویا رہتا ہے جبکہ اسے نیند آ گھیرتی ہے اور وہ کرسی سے ٹیک لگا کر سو جاتی ہے جبکہ اسکا ہاتھ ابھی تک آھل نے پکڑا ہوا تھاا۔

اوہ یہ تو سو گئ۔۔آھل یہ کہکر اسکی نیند خراب نہ ہو اسی لۓ اسے گود میں اٹھا کر  اسکے کمرےمیں لاکر آرام سے لٹا کر اسکی پٹی کرنے لگتا ہے کانچ نکالتے ہوۓ  وہ ہلکا سا کسمساتی ہے اور آھل جو کہ بیڈ پر اسکے قریب بیٹھا پٹی کر رہا ہوتا ہے اسکا بازو دبوچ کر پکڑ لیتی ہے 

آھل اسکی ڈریسنگ کرکے جانے کیلۓ اسکا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹانے لگتا ہے تو وہ اسکی ہتھیلی تھام لیتی ہے۔آھل اب کی بار ہاتھ چھڑانے کے بجاۓ بیڈ کے قریب نیچھے اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا بیڈ پر سر رکھ لیتا ہے۔

خوبصورت ہے وہ اتنا سہا نہیں جاتا

کیسے ہم خود کو روک لے رہا نہیں جاتا

چاند پہ داغ ہے یہ جانتے ہے ہم لیکن

پیار دھرتی پہ فرشتوں سے کیاں نہیں جاتا

ٹی وی چلتا گانا سنکر آھل اسکا چہرہ دیکھتے ہوۓ نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔


🌹جاری ہے🌹

Read more. ...

The Black Angel 2
4/ 5
Oleh