Pages

Popular Posts

Showing posts with label Novels. Show all posts
Showing posts with label Novels. Show all posts
The Black Angel 3

The Black Angel 3

 Novel 

The Black Angel 

#کالی_پری 🌹

از محمد شارق 

قسط 5


سلونی نوفل کو دیکھ کر کانپ گئ جو اندھیرے میں جھومتی پری کو دیکھ رہا تھا ۔

نوفل بھی شورشرابے کی آوازیں سنکر اوپر آیا تھاا سے نیند نہیں آ رہی تھی۔لیکن چھت کے کونے میں اندھیرے میں کسی کو جھومتے ہوۓ دیکھ کر رک کر اسے دیکھنا لگا۔

کون ہے یہ اندھیرے میں ؟؟نوفل نے سوچا اور دیکھنے کیلۓ جیسے ہی آگے بڑھا تبھی سنبل نے میز کے قریب رکھے ہوۓ پرانے پردے دیکھ لیے اور بڑی پرتی سے اٹھا کر اپنے اوپر ڈال کر  نوفل کی طرف  دھوڑ لگادی ۔

The Black Angel
The Black Angel 


نوفل  کسی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر گبھرا گیا 

ہی ہی ہی ہی ہی کرتے ہوۓ سنبل اسکے جانب بڑھی تو نوفل غیر ارادی طور پر الٹے پیر بھاگا۔۔

پری یہ شور سنکر مڑی تو چیخی مگر سنبل کے پردہ ہٹاتے ہی سنبل نے اسے لیکر واپس نیچھے اترنے

لگی۔

وہ جلدی میں نیچھے اترے اور سرونٹ کوارٹر میں داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کی جانب بڑھے۔

اوہ میرے خدا پری کی بچی اگر میری آنکھ نہ کھلتی تو آج شامت آنی تھی دونوں کی۔۔سنبل نے ہانپتے ہوۓ کہا۔

کیسی آفت سنبل اور یہ تم دونوں کہاں گئ تھی اس وقت؟؟؟تارہ آپا کو اپنے سامنے دیکھکر دونوں سہم گئ۔

وہ آپا میں نے ہی سنبل سے کہا تھا کہ حویلی کی۔۔۔۔پری آگے بولنے ہی والی تھی کہ تارہ آپا نے اسے پکڑتے ہوۓ پوچھا

کیاں حویلی میں کیوں تم وہاں نہیں جا سکتی کچھ دنوں تک جب تک میں نہ کہوں سمجھی ۔۔

یہ کہہ کر تارہ آپا چلی گئ۔جبکہ پری حیران تھی مگر سنبل وجہ جانتی تھی اس لیے اسے پری کیلۓ دکھ ہو رہا تھاا۔۔


صبح ہوتے ہی پری اور سنبل ہمیشہ کی طرح کھیتوں سے واپس آرہی تھی تو انھیں نوفل اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوۓ  نظر آیا سنبل نے نوفل کو دیکھتے ہی پری کو وہاں سے جلدی چلنے کا کہتی ہے مگر پری بار بار نوفل کی جانب  دیکھ کر چل رہی تھی مگر نوفل نے ایک دفعہ بھی اسکی جانب نہیں دیکھا


میم آج آنے والی تھی نہ نوفل کب تک آۓ گی؟

آجاۓ گی لبنہ میڈم ۔

نوفل یہ کہہ کر گاڑی کی آواز پر کھیتوں سے باہر نکلا اور حویلی کی طرف چل پڑا دوستوں کے ساتھ۔ 

ہیلو everyone!!!!کہا کی سیر کر رہے تھے؟؟؟؟

اوہ میم لبنہ آپ wellcome !!!

شکریہ نوفل اور سناؤ گھر والوں سے مل لیے اور ریکارڈنگ کہاں تک پہنچی؟؟

ہممم گھر والے سب ٹھیک ہے اینڈ 

ریکارڈنگ تو آپ کے آنے کے بعد ہی کرنی تھی ۔۔ویسے وہ سنگر ملی آپکو؟؟

no یار میری ایک دوست پچھلے مہینے اسی طرف ٹور پر آۓ تھے تو اسے وہ لڑکی ملی تھی وہ ہمیشہ نقاب میں رہتی تھی مگر گاتی واقعی میں کمال ہے اسنے اپنا مایک ہوشیای سے بچوں کے ذریعے اسے دیکر ریکارڈنگ کی ہے 

u dont beleive she is an allrounder 

کتنی زبانیں آتی ہوگی ایسے پتہ نہیں ۔اچھا چلو جلدی کرو ہمارے پاس صرف ایک ہفتہ ہے جلدی سب ارینج کرو اور ریکارڈنگ اسٹارٹ کرو۔

جی میم پہلے آپ اندر تو آۓ اور میری فیملی سے ملے۔

ہممم چلو۔

نوفل لبنہ کو لیکر اندر جاتا ہے ہال میں انٹر ہوتے ہی سامنے دیوار پر بڑی سی تصویروں میں سے ایک کی طرف لبنہ اشارہ کرکے ہوچھتی ہے

نوفل یہ جینٹل مین کون ہے؟؟؟

اوہ یہ میرے لولی چاچوں ہے یہاں نہیں ہوتے انکی واءف کی موت کے بعد باہر ہی بزنس کرتے ہے۔

اوہ گریٹ پرسنالٹی!!

لبنہ ایک نظر دیکھ کر آگے چل پڑتی ہے۔۔


پری جب سے نوفل کو دیکھ کر آئ ہوئ تھی تب سے بار بار کچھ سوچنے لگتی اور گنگناتی ۔۔سنبل پری کی ساری حرکتيں نوٹ کر رہی تھی مگر کچھ کہہ نہیں رہی تھی۔

تبھی یمنا وہاں آجاتی ہے اور تینوں ہلکی پلکی باتیں کرنے لگتی ہے کیونکہ یمنا اب نوفل کے معاملے میں مطمءن تھی اور سارا دن اکیلے بور ہو جاتی تھی تو انکے ساتھ آکر ٹاءم پاس کر لیتی ۔

یار یہاں صبح کے وقت بڑی پیاری گانے کی آواز آتی ہے اکثر جب میری آنکھ جلدی کھلتی ہے تو سنتی ہوں جبکہ خالہ تو اس آواز کی دیوانی ہے روزانہ بالکونی میں ہی صبح کی چاۓ پیتی ہے تاکہ وہ آواز سن سکے گاؤں کی خاموش ماحول کی وجہ سے سن لیتے ہے ورنہ اگر شہر ہوتا تو کوئ چیختا بھی تو آواز نہ آتی۔شہر سے یاد آیا نوفل اور اسکی میوزک ٹیم سے ملی تم دونوں ؟؟ یمنا نے باتوں کے دوران پوچھا

میوزک ٹیم کیاں مطلب؟؟سنبل نے حیرانی سے پوچھا جبکہ پری کے تاثرات بھی سنبل جیسے ہی تھے۔

ارے تم لوگوں کو نہیں پتہ نوفل کا سوشل میڈیا کے مختلف  ساءٹ پہ اپنا مشہور میوزک گروپ ہے اسے لوگ بہت پسند کرتے ہیں وہ اور اسکی ٹیم کچھ دنوں میں لندن کے ایک بڑے میوزک شو میں پرفارم کرنے والی ہے اسی لۓ وہ یہاں سب کے ساتھ آیا ہے کیونکہ وہ ہم سب سے ملکر جانا چاہتا تھا اسکے بعد یہ سب یہی سے نکلے گے سیدھا لندن کیلئے اور آگے کی باقی پڑھائی بھی نوفل وہی جاری رکھے گا۔۔۔یمنا  نے ذرا اترا کر کہا۔

اوہ!پری کی ہلکی سی آواز 

آئ جو صرف اسی نے ہی سنی.

اچھا میں چلتی ہوں امی کی مس کال آرہی ہے۔

یمنا چلی جاتی ہے تو سنبل پری کا اترا ہوا چہرہ دیکھ لیتی ہے 

اللہ ایسے کیسے کہوں کہ اسکا خواب صرف خواب ہی رہے گا 

نوفل اسکا نہیں ہوسکتا۔تبھی اسے کچھ یاد آتا ہے 

پری یاد ہے تو نے نوفل کیلۓ ایک گانا سنایا تھا مجھے کہ جب نوفل تمھارا ہوجائے گا تو وہ وہی گانا گآتا نظر آۓ گا چلو نہ سناؤ نہ مجھے بہت پسند ہے پلیز پلیز ۔۔۔

پری مسکرانے لگتی ہے۔۔

ہاں وہ وہی گاتا نظر آۓ گا،،،،

تو ہی تو جنت میری

تو ہی میرا جنون 

تو ہی تو منت میری

تو ہی روح کا سکون

تو ہی انکھیوں کی ٹھنڈک

تو ہی دل کی ہے دستک 

اور کچھ نہ جانوں میں 

بس اتنا ہی جانوں

تو میرے دل میں رہتا ہے

یارا میں کیاں کروں

رب کے آگے سر جھکتا ہے

یارا میں کیاں کروں

کیسی ہے یہ دوری 

کیسی مجبوری 

میں نے نظروں سے 

تجھے چھوں لیا

کبھی تیری خوشبو 

کبھی تیری باتیں 

بن مانگے یہ جہاں پالیا

تو ہی دل کی ہے رونق

تو ہی میری ہے دولت

اور کچھ نہ مانوں میں ۔

بس اتنا ہی مانوں

تو  میرے دل میں رہتا ہے 

یارا میں کیاں کروں

رب کے آگے سر جھکتا ہے

یارا میں کیاں کروں

رب نے بنا دی جوڑییییییی 

گاتے گاتے پری رونے لگتی ہے اور سنبل کے گلے لگ جاتی ہے سنبل کی آنکھیں بھی نم ہوتی ہے تارہ آپا بھی کمرہ میں ہوتی ہے وہ بھی پری کی مستقبل کا سوچ کر رو پڑتی ہے۔جبکہ کوئ دروازے کی آڑ میں کب سے پری کے گانا شروع کرتے ہی موبءیل پہ ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا تھاا ور اب وہاں سے واپس جا رہا تھاا۔۔

!!!!!!!!!!!!!!!!!!::::::::::::!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

آھل کے چہرے پہ کسی کا ہاتھ چھو کر گزرتا ہے تو اسکی آنکھیں کھل جاتی ہے اور وہ خود کو اینجل کے کمرے میں دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے اور فوراً اٹھکر اپنے کمرے میں آجاتا ہے 

اوہ میں وہی پہ سو گیا مگر کیسے اچھا ہوا وہ سوئ ہوئ تھی میں نے اسے یہ چہرہ دیکر غلطی تو نہیں کردی اففف آدھی رات ہے ابھی مجھے سو جانا چاہیۓ اوکے جان میں سو رہا ہوں اور میں صرف تمھارا ہوں i love u...

آھل سارہ کی تصویر سے باتیں کرکے لاءیٹ آف کرکے سونے لگتا ہے۔


good morning angel !!!

جولی اینجل کے کمرے میں آکر 

 اس سے کہتی ہے جو کب سے جولی کا ہی انتظار کر رہی تھی۔

چلو اینجل جلدی ناشتہ کرو اور ریڈی ہو جاؤ آج ہم باہر جاءیں گے گھومے گے شاپنگ کرے گے چلو جلدی کرو اور ہاتھ کیسا ہے تمھارا اب۔؟؟

تم نے کب دیکھا؟؟

ابھی!!آھل سر نے جانے سے پہلے بتایا اور اب جلدی کرو ہمیں واپسی پر ہاسپٹل بھی جانا ہے ۔

ہاسپٹل کیوں ؟؟؟؟پری نے گبھرا کر پوچھا

او ہو ایسے ہی بس کچھ ٹیسٹ کرنے ہے اور روٹین چیک اپ چلو جلدی کرو یار۔۔جولی اب اسکا کمفرٹر کھینچتی ہے اور وہ مسکراتے ہوۓ اٹھ جاتی ہے۔۔

 جولی اینجل کو کئ جگہوں پر گھماتی ہے اور شاپنگ کرتے ہوۓ اینجل کو کچھ سمجھ نہیں آتا تو جولی اسے اپنی پسند سے کچھ ایشیئن اور وسٹرن ڈریسس سلکٹ کرواتی ہے اینجل ڈھنگ کے کپڑے دیکھ کر کچھ نہیں کہتی تبھی آھل کی کال آتی ہے 

جی سر ہاں سیکنڈ فلور پر۔۔

اینجل میں نے تمھیں بتایا نہیں یہ مال آھل سر کا ہے انکا بزنس کافی پھیلا ہوا ہے مگر وہ اکیلے ہے کاش انکو کوئ سچا چاہنے والا مل جاۓ وہ یہاں کسی میٹنگ میں آۓ ہوۓ ہیں تو اب ہم انکے ساتھ ہی ہاسپٹل جاۓ گیں وہ دیکھو سر آگۓ۔

good evening sir!!

good evening julie .

اور شاپنگ ہوگئ تو چلے ۔۔

جی سر جو جو آپ نے کہا سب لے لیا بس پارٹی ڈریس نہیں لیا ٠٠٠

اوہ میں مدد کر دوں؟؟

شیور سر!

آھل مختلف ڈریسس دیکنھے لگتا ہے تبھی اسکی نظر لال اور وائٹ کلر کی سلیو لسا میکسی پر پڑتی ہے تو وہ جولی کو بلا کر کچھ کہتا ہے۔

جولی ہاں میں سر ہلاتی ہوئ اینجل کو لیکر چینجنگ روم کے پاس لاکر وہی میکسی ٹرائ کرنے کا کہتی ہے۔

مگر جولی اسکی آستین ؟؟؟

اوہ ڈیئر نیٹ کا یہ گاؤن کیو ہے ساتھ یہ پہن کر پھر میکسی پہنو اور گاؤن فل سلیو ہے اوکے جلدی کرو۔

اینجل چینج کرنے جاتی ہے 

تھوڑی دیر بعد اینجل باہر آتی ہے تو جولی کا منہ اسے دیکھکر کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے 

او ماۓ اینجل تم تو سچ میں اینجل لگ رہی ہو چلو آھل سر کو دکھاتے ہیں ۔

جولی یہ کہہ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر آھل کی جانب جانے لگتی ہے۔

آھل ایک بڑے سے آئینہ کے سامنا کھڑا ہوتا ہے تبھی اسے آئینہ میں جولی اور اینجل نظر آتے ہیں۔

اینجل کا عکس آئینے میں دیکھکر آھل کی آنکھیں حیرت سے اسی کو تکنے لگتی ہے مگر وہ پلٹ کر دیکھتا نہیں ہے۔۔

سر اینجل مطلب ڈریس اوسم ہے نہ۔جولی پوچھتی ہے۔

جبکہ آھل بغیر مڑے کہتا ہے۔

ہاں پیک کوراکر جلدی پارکنگ میں آؤ۔

آھل بڑے بڑے قدم آٹھا کر وہاں سے چلے جاتا ہے جبکہ جولی کو سوچ کر اینجل کی طرف دیکھکر مسکراتے ہوۓ کہتی ہے

رب کرے تجھ کو بھی پیار ہو جاۓ۔

کیاں کہا تم نے جولی۔

اوہ کچھ نہیں چلو جلدی چینج کرو ۔۔اور وہ دونوں واپس جاتی ہے

جبکہ آھل گاڑی میں بیٹھا اپنے آپ سے ہمکلام ہے۔۔

کیاں ہو رہا ہے مجھے یہ صرف اسلۓ ہیھکہ وہ سارہ کی طرح ہے مگر اسے دیکھکر سارہ کی یاد نہیں آتی مطلب مجھے نہیں نہیں وہ صرف میرے اکسپریمنٹ کیلۓ کامیاب کیس کے سواء کچھ نہیں ہے میرے لۓ مگر بار اب اسکا چہرہ ہی کیوں سارہ کا کیوں نہیں ۔۔

کیونکہ آپکو اینجل سے پیار ہو گیا ہے۔

آھل یہ سنکر حیرت اور گھبراہٹ کے ملے جلے تاثرات لیکر پیچھےمڑتا ہے 


نوفل کی پوری ٹیم جو اسکے دوست اور انچارج میڈم لبنہ کے ساتھ ملکر ریکارڈنگ کیلۓ سیٹنگ کر کے ریکارڈنگ مکمل کر چکے تھے  جس میں ہر گانے میں نوفل کی آواز کے ساتھ ایک اور آواز کو ایڈٹ کیا گیا تھا ۔۔

واؤ نوفل یہ البم تو اوسم ہوگا بس ایک سیڈ سونگ ہوتا نہ اسی آواز کے ساتھ تو بس ۔۔

لبنہ کھانے کے دوران بہت خوش ہو کر کہہ رہی تھی جبکہ فہد اور شاہ زمان کے علاوه ٹیبل پہ سب موجود تھے اور نوفل کیلۓ خوش تھے تبھی ثناه کی نظر یمنا پر پڑی جوپلیٹ میں چمچ چلاۓ جا رہی تھی جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔

یمنا کیا ہوا کیاسوچ رہی ہو ؟

یمنا چونکی مگر وہ کچھ کہتی اس کے کہنے سے پہلے ہی ثناه نے خود ہی جواب دیا

فکر مت کرو نوفل کے جانے سے پہلے اسکی منگنی کروا دیگے ہم۔

یہ کہہ کر ثناه مسکرانے لگی جبکہ یمنا وہاں سے چلی گئ

مام پلیز مجھے ٹینشن نہ دیں میں نے اس بارے میں ابھی تک نہیں سوچا۔۔

نوفل چڑتا ہوا کہنے لگا۔۔

ہاں آنٹی اگر ہو سکے تو اس لیڈی سنگر کو ڈھونڈھ لے کیونکہ نوفل تو اسکا دیوانہ ہو چکا ہے ہر وقت اسی کی باتیں جیسے اسے دیکھاہو جانتا ہو کیوں نوفل ڈھونڈھے جاکے اسے؟؟؟؟

لبنہ یہ کہہ کر ہنسنے لگتی ہے جبکہ ثناه کی آنکھیں حیرت سے پھیل جاتی ہے اور وہ نوفل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے اور زیبا بھی۔

نہیں میم ایسی بات نہیں ہے بس ایک بار اسے دیکھنا چاہتا ہوں واقعی اسکی آواز میں جادو ہے سحر ہے 

i wish to see her !!!

نوفل یہ کہتے ہوۓ دیوانہ لگ رہا تھا۔۔

تبھی ثناه زیبا کا پریشان چہرہ دیکھکر کہتی ہے 

اچھا ہمیں کب سنا رہے ہو اپنی ریکارڈنگ ؟؟؟

آج رات کو گیسٹ ہاؤس کے باہر سیٹ اپ کرکے ۔۔اچھا مام میں اب چلتا ہوں مجھے پاسپورٹ آفس سے کال آئ تھی ۔۔

تبھی وہاں فہد بھی آجاتا ہے 

رکو برخددار چلے جانا پہلے یہ لو اپنے احد چاچوں سے بات کرلو وہ بھی اگلے ہفتہ  لندن میں ہی ہوگے اور یہ لو کال مل گئ جلدی بات کرلو پھر سے کال کٹ نہ جاۓ یہاں نیٹ ورک کا مسئلہ لگا رہتا ہے ۔۔

نوفل فون لیکر جلدی سے ھیلو بولتا ہے

ھیلو جینٹلمین کیسے ہو ؟

یہ کہتے ہی فون کٹ جاتا ہے 

اوہ ابو فون تو کٹ گیا ۔۔

نوفل نے فون فہد کی جانب بڑھاتے ہوۓ کہا تو فہد نے اسکے ہاتھ سے فون لیکر ایک بار اور کاملائ مگر کال لگی نہیں تو فہد کے فون پہ وائس میسج آیا جسے فوراً ہی اسنے ریسیو کیاں کیونکہ وہ احد کا ہی تھا

فہد سے تو میری بات ہوچکی ہے پھر بھی بابا کو میرا سلام کہنا اور نوفل میری جان کم سون آئ ایم ویٹنگ فار یو ڈیئر اینڈ تھینکس کہ تم  پری کو اپنا رہے ہواور فہد میرا آنا نکاح میں ممکن نہیں ہوگا اسلۓ ایڈوانس میں سبکوبہت مبارک ہو

میسج ختم ہوتے ہی نوفل   ثناه   اور زیبا   پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑتی  ہے جبکہ فہد نوفل  کی طرف  خوش ہو کر دیکھکر باہر چلے جاتے ہے اور لبنہ بھی نوفل کو  مسکرا کر کانگرس کہتی چلی جاتی ہے۔

زیبا وہاں سے جانے لگتی ہے تو ثناه بھی اسکے پیچھے جاتی ہے کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اب زیبا رونا شروع کرنے والی ہے 

جبکہ نوفل کچھ سوچ کر غصہ سے باہر کی جانب بڑھتا ہے۔۔


رات کے وقت پری اور سنبل سونے کیلئے بستر بچھانے لگتی ہے تو تارہ آپا انھیں آکر بتاتی ہے کہ سنبل کی ماں کی طبیعت ذرا خراب ہے تو اسکے ابو کل شام تک سنبل کو لینے آئیں گے تارہ آپا تو سو جاتی ہے مگر اب پری اور سنبل کی نیند اڑ چکی تھی

سنبل تم جلدی آنا !!پری بس رونے کو تھی۔

سنبل ابھی جواب دینے والی ہی تھی کہ میوزک کے ساتھ آنے والی آواز پر سنبل اور پری دونوں چونک کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگتی ہے

لیلی نهارى تعال

ما حبيبي البى 

ما حبىبى حب منى

یہ سننا تھا کہ دونوں نے باہر کی جانب دوڑ لگا دی

یار پری کہیں سبکو پتہ تو نہیں چل گیا

ایسے مت کہو مجھے ڈر لگ رہا ہے!!!

پری ڈرتے ہوۓ کہتی ہے جب دونوں گانے کا تعاقب کرتی تو پری کی آواز کے ساتھ کسی اور آواز کو بھی سنتی ہے تو پری سنبل کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے

سنبل یہ تو نوفل کی آواز ہے !!

تجھے کیسے پتہ پری؟؟؟؟

میں نے سنا ہے بہت بار اسے::

وہ باتیں کرتی کرتی گیسٹ روم کے قریب پہنچ کر ایک کونے میں کھڑی ہوکر وہاں سبکو دیکھنے لگتی ہے جہاں سب لوگ نوفل کی میوزک ٹیم سمیت بڑے سے اسپیکر پر چلنے والے اسکے گانوں کا مزہ لے رہے تھے۔

اب لگن لگی کی کریے 

نہ جی سکیے تے نہ مریے۔

یمنا کی نظر ان پر پڑتی ہے تو وہ مسکراتی ہے اور انکو آنے کا اشارہ کرتی ہے تبھی ثناه کی بھی نظر ان پر پڑتی ہے جو کہ نوفل کے گانوں میں دوسری آواز سنکر پہلے سے ہی خود کو کنٹرول کیے ہوۓ تھی مگر پری کو دیکھتی ہی یمنا کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے اور بڑی حقارت سے پری کی طرف دیکھتی ہے اور سنبل کو اسے لیجانے کا اشارہ کرتی ہے تو سنبل پری کو وہاں سے لے جاتی ہے

یمنا انھیں جاتا دیکھکر ثناه کی طرف دیکھتی ہے تو ثناه اسے ہی دیکھ رہی ہوتی ہے تو وہ گبھرا جاتی ہے پھر فوراً مسکرا کر کہتی ہے 

یہ لڑکی جو بھی ہے مگر اسکی آواز تو بس دل میں اتر رہی ہے کاش بیچاری کو پتہ ہوتا کہ وہ اب مشہور ہونے والی ہے۔

جبکہ ثناه اب یمنا کو حیرانی سے دیکھتی ہے اور وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی ہے 

بیچاری نہیں منحوس کہو  پری تمھارا میں کیا کروں

ثناه اپنے دل میں آگ لیے پری کو سوچ سوچ کر اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے کیونکہ اسے سب پتہ تھا کہ پری کے گانے کے بارے میں مگر  کسی کو کبھی بتایا نہیں ۔۔

اگلی صبح۔۔۔

اری سنبل !!!! تارہ آپا سنبل  کو آواز دیتی ہے جو اپنا ضروری سامان پیک کر رہی ہوتی ہے 

بس آئ نانی :

جی نانی !! 

ہوگیا تمھارا کپڑے باندھ کر تمھارے ابو شام تک آجاۓ گے تمھیں لینے۔۔۔

ہاں نانی بس ہوگیا بس دوپٹہ طے کر رہی تھی پری کے ساتھ ملکر۔۔

اچھا اچھا جلدی کرو جاؤ۔۔۔

سنبل اندر آتی ہے تو پری کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھکر خود بھی دکھی ہوتی ہے۔۔

سنبل جلدی آجانا ٹھیک ہے۔۔

ہاں بس دعا کر امئ کی طبیعت زیادہ خراب نہ ہو بس جیسے ہی امئ ٹھیک ہوگی ویسے ہی میں آجاؤں گی تیرے پاس ارے جلدی چھت پہ جاکر میرے باقی کے کپڑے لے آ اگر میں گئ تو نانی پھر شروع ہو جاۓ گی کہ میں دیر کر رہی ہوں۔۔

پری اثبات میں سر ہلا کر چھت کی جانب چلتی ہے 

ابھی وہ چھت کی سیڑهیاں چڑھ ہی رہی تھی کہ اسے کسی نے آواز دی 

اے لڑکی آئ مین ھیلو پری 

یہ نوفل تھا جیسے پری دیکھکر شرماتے ہوۓ دوبارہ مڑی 

سنو اچھا ہوا تم اکیلی مل گئ ورنہ جب بھی دیکھو وہ چھپکلی تم سے چپکی رہتی ہے وہی سنبل 

پری مسکرانے لگتی ہے مگر مڑتی نہیں ہے نوفل اسکے ذرا قریب آکر کہنا شروع کرتا ہے جبکہ پری اسکی جانب پیٹھ کیے ہی کھڑی ہوتی ہے

دیکھوں مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے میں گھما پھرا کر بات نہیں کرتا سیدھی بات کہتا ہو تو سنو گھر والے ہماری شادی کی بات کر رہے ہیں مگر میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا دیکھو پلیز برا مت ماننا تمھیں اچھا لڑکا مل جاۓ گا بابا ہے نہ تمھارے تایا وہ دیکھنا اچھے گھر میں تمھارا رشتہ کروادیگیں مگر مجھ سے نہیں ہوگا مام تو ڈرا رہی تھی کہ تم مجھے بد دعا دوگی مگر میں نے کہا اسنے کبھی دعا نہیں کی ہوگی تو بد دعا بھی نہیں دیگی

دیکھو اگر تم میرا احد چاچوں جیسا اور اپنا چاچی جیسا حال یقیناً نہیں چاہتی ہوگی ہے نا تو پلیز پلیز میرے لیے اتنا کردو کہ تم سب سے کہو کہ تمھیں مجھ سے شادی نہیں کرنی ۔پلیز میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا رائیٹ!! آج پہلی اور آخری بار مانگ رہا ہوں بس اتنا کردو میرے لیے میں خود منع کرلیتا مگر احد چاچوں کا دل مجھ سے بدظن نہ ہوجائے بس اسی لیے ڈر لگتا ہے باقی سب کا مسئلہ نہیں ہے۔تم کرلونگی نا میری لیے اتنا ہے نا کیاں ہوا جواب تو دو۔۔

نوفل تو اپنی دل کی باتیں کہہ گیا مگر پری کے پھول سے دل پہ اب چھالے پڑ چکے تھے۔

پری خاموش کیو ہو جواب تو دو جلدی۔۔

جبکہ پری تو گویا اب تباہ ہو چکی تھی۔


کیاں کہے عشق میں ہم تیرے بےزباں ہوگۓ

کہ تم سے جدا ہوکے ہم تباہ ہوگئے 

اچھا پری میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر وعدہ کرو کہ تم اس شادی کیلۓ منع کردوگی پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔

نوفل یہ کہہ کر اپنا ہاتھ پری کی جانب بڑھاتا ہے جبکہ پری ابھی تک اسی طرح کھڑی تھی اور اپنے آنسوؤں کو روکے ہوۓ تھی۔مگر نوفل کے ہاتھ بڑھاتے ہی کانپتے ہوۓ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھتے ساتھ ہی وہ وہاں سے بھاگتے ہوۓ چلی گئ

اسکے جاتے ہی نوفل بھی مسکراتے ہوۓ چلا گیا بنا یہ جانے کہ اسکی باتیں پری کے ساتھ کسی اور کا دل بھی چھیر چکی تھی اور وہ تھے شاہ زمان کیونکہ جہاں نوفل پری سے بات کر رہا تھا وہی شاہ زمان کے کمرے کی کھڑکی تھی اور انکے ساتھ ثناه نے بھی ساری باتیں سن لی تھی جو شاہ زمان کو دوائی دیکر دروازہ پر پہنچ کر نوفل کے پری کو بلانے کی آواز پر رک گئ تھی ۔۔۔


پری جو اپنے آنسوؤں ظبط کیے ہوۓ تھی اب وہ بہنا شروع ہوگئے تھے ۔وہ بھاگتے ہوۓ سنبل کے پاس آتے ہی اس سے لپٹ کر رو پڑی تھی 

سنبل جلدی آنا خدا کیلئے ۔۔۔

کیاں ہوا پری ؟؟؟سنبل اسے اسطرح دیکھکر پریشان ہوگئ 

پری سنبل سے الگ ہوتے ہی پچھلے گیٹ سے کھیتوں کی طرف دیوانہ وار بھاگنے لگی سنبل بھی اسکے پیچھے اسے آوازیں دیتے ہوۓ دوڑ پڑی 

یمنا جو حویلی کے چھت سے یہ سارا ماجرہ دیکھ رہی تھی انکو جاتا دیکھکر  وہ بھی انکے پیچھے گئ۔


پری یار رک جاؤ بارش ہونے والی ہے رکو تو کہاں جا رہی ہو؟؟؟؟

سنبل اسکے  پیچھے جاتے ہوۓ اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی مگر پری کو تو جیسے آواز ہی نہیں آرہی تھی تبھی پری کسی چیز سے لڑکھڑا کر گر پڑتی ہے تو سنبل اسے سنبھالتے ہوۓ اٹھاتی ہے 

پری کیا ہوا بتاؤ  تو سہی نا؟؟

سنبل تم جانے سے پہلے گاناسنانے کو نہیں کہونگی؟؟؟؟پری روتے ہوۓ سنبل کے گلے لگتی ہے اور سنبل کی آنکھیں بھی بھیگ جاتی ہے

سناؤ پری سناؤ میں سننا چاہتی ہوں

دی نہیں دعا بھلے 

نہ دی کبھی بد دعا

نہ خفا ہوۓ نہ ہم

ہوۓ کبھی بے وفا

تم مگر کیو خفا ہوگئے 

بے وفا ہوگئے 

کہ تم سے جدا ہوکے ہم

تباہ ہوگئےتباہ  ہوگۓ

نوفل جو دوستوں کے ساتھ کھیتوں کی سیر کو نکلا تھا یہ آواز سنتے ہی اسکا تعاقب کرنے لگتا ہے اور تیز بارش شروع ہو جاتی ہے


سجدہ میں ہم نے مانگا تھا

عمر بھی ہماری لگ جاۓ تم کو

خود سے ہی توبہ کرتے تھے 

نظرنہ ہماری لگ جاۓ تم کو

ہم مگر ناگوارہ تمھیں کسطرح ہوگئے 

کہ تم سے جداہوکے ہم 

تباہ ہوگئے تباہ ہوگئے 


نوفل آواز کے تعاقب میں ایک تالاب کے پاس پہنچتا ہے اور تب تک وہ آواز آنا بند ہوجاتی ہے


کاش تم مجھے مل سکو تو تمھیں بتاؤ کہ بنا تمھیں دیکھے 

صرف تمھاری آواز سنکر میں تمھارا دیوانہ ہوچکا ہوں 

i think i m really fall in love with u 


جبکہ یہاں پری اور سنبل دونوں ہی رو رہے تھے 

پری چلو گھر بارش اب تیز ہوتی جا رہی ہے۔

سنبل اسے خود سے الگ کرکے اسکا ہاتھ تھامے واپس مڑتی ہے اور یمنا جو انکا پیچھا کرتی ہوئ آئ تھی وہ وہی موجود تھی انکے مڑنے سے پہلے ہی کھیتوں میں چھپ جاتی ہے۔۔انکے جاتے ہی وہ بھی دوسرے راستے سے محل کے جانب بوجھل قدموں سے چلنے لگتی ہے


جاری ہے🌹

💞💕💕🌹🌷🌼💐⚘🌹

Novel 

The Black Angel 

#کالی_پری🌹

از محمد شارق

قسط 6


کیونکہ آپکو اینجل سے پیار یوگیا ہے!!!!!!!!!!!!!!!!
آھل اپنے پیچھے آئ ہوئ آواز پر چونکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں کوئ نہیں تھا 
سارہ!!!!
آھل کو لگا سارہ بلکل اسکے کانوں کے قریب یہ کہہ گئ تھی مگر وہاں کوئ نہیں تھا تبھی اسے سامنےسے جولی آتی ہوئ دکھی تو وہ بغیر رکے وہاں سے تیزی سے گاڑی دوڑاتا ہوا نکل گیا۔۔

ارے یہ آھل سر کہاں گۓ کہیں بھول تو گۓ کہ ہمیں بھی لیجانا ہے
جولی جو مال سے باہر آئ تھی اپنے پیچھے آتی ہوئ اینجل سے کہنے لگی تو جواب میں اینجل نے بس اسی طرف دیکھا جس طرف جولی دیکھ رہی تھی۔

چلو چھوڑو  میں ڈرائیور کو یہی بلا لیتی ہوں  ۔۔۔۔جولی نے یہ کہتے ہوۓ فون نکالا اور ڈرائیور کو بلانے لگی۔

کچھ دیر بعد وہ ہسپتال پہنچ چکی تھی اور اب لفٹ کے ذریعے اوپری منزل پہ جا رہیں تھی جہاں اینجل کا چیک اپ ہونا تھا۔۔

اینجل تم باہر ویٹنگ میں روکو میں جا کر بتا دوں کہ ہم آگۓ ہیں
ok
جولی اینجل کو بولتے ہوۓ جانے لگتی ہے تو اینجل اسکی طرف دیکھکر آس پاس نظر دوڑاتی ہے 
اور ایک بینچ پر بیٹھ جاتی ہے 
تھوڑی دیر بعد سامنے کا بڑا شیشے کا مین گیٹ کھلتا ہے اور وہاں سے جولی مسکراتی ہوۓ باہر آتی ہے 
چلو اینجل تمھارے کچھ اسکین ہوگے پھر نیورو سرجن سے چیک اپ ہوگا۔۔۔۔
اینجل جواب میں مسکراتے ہوۓ اسکے ساتھ چل پڑتی ہے ۔۔۔

well Dr Aahil i have examine her nd scans too she has no any neurological problem even she may have good memory according to her scan
So i wonder how she loose her memory plz check her 

ڈاکٹر آھل جو کب سے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اسے نیوروسرجن کی کہی ہوئ کوئ بات سنائی نہیں دے رہی تھی
ok than my patients r waiting so i m leaving 

ڈاکٹر نے آھل کو ساری تفصیل بتائ اور اٹھ کر جانے لگا تو آھل ہوش میں آیا
ha!!! ok doctor thanks 

 آھل اب اپنے کیبین میں  بلکل اکیلا بیٹھا ہوا تھا اور شاید ابھی تک کسی سوچ میں گم تھا اس نے نظریں اٹھا کر وال کلاک کی طرف دیکھ کر گہری سانس لی اور  گھر جانے کیلۓ اٹھا۔

اینجل اور جولی اس وقت آھل کے اپارٹمنٹ میں بالکل اکیلےتھے۔

اینجل مجھے پھر سے بھوک لگ رہی ہے تم اپنے سیڈ سونگ سنتی رہو میں توکچن میں جارہی ہوں۔۔۔ جولی اٹھکر گئ تو اینجل بھی ٹی وی بند کرکے بالکونی کی طرف گئ اور کچھ گنگنانے لگی جسے جولی کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی سن رہے تھے جو اس آواز سن سن کر اسکے اس قدر  گرویدہ ہوگۓتھے کہ اب اس آواز کے مالک کو دیکھنے کی آرزو کرنے لگے تھےجن میں آھل اور زید بھی شامل تھے

تم میرے ہو اس پل میرے ہو
پھر شاید یہ عالم نہ رہے 
پھر ایسا ہو تم ؛تم نہ رہو
پھر ایسا ہو ہم؛ہم نہ رہے
یہ راستے الگ ہو جائیں
چلتے چلتے ہم کھو جائیں
میں پھر بھی تمکو چاہوں گا
میں پھر بھی تمکو چاہوں گا
اس چاہت میں کھو جاؤں گا
میں پھر بھی تمکو چاہوں گا

وہ گاتے گاتے پورے گھر میں ٹہل رہی تھی اور اب وہ آھل کے کمرے میں تھی جہاں  اندھیرے کی وجہ سے اسے کمرے میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
تبھی زید اپارٹمنٹ میں داخل ہوا

یہ گانے کی آواز ۔۔۔۔؟؟؟؟!!!!
کون گا رہا ہے وہ بھی یہاں ۔۔جولی جولی ۔۔۔
وہ آواز دیتے ہوۓ اس آواز کے قریب آتا جا رہا تھا۔۔
ایک دروازے کے قریب پہنچ کر اسے آواز وہاں سے آتی محسوس ہوتی ہے۔۔وہ دروازہ آہستہ سے کھولتا ہے اور اس آواز کے سحر میں کھونے لگتا ہے۔۔
میں پھر بھی تم کو چاہوں گی
اس چاہت میں کھو جاؤ گی۔۔
تبھی آھل بھی اسی آواز کے تعاقب میں وہاں پہنچ جاتا ہے جسے کتنے دنوں سے سن کر ڈھونڈھنے کیلۓ تڑپ اٹھا تھا۔۔مگر اسے اس کمرے میں دیکھ کر غصہ سے پاگل ہونے لگتا ہے۔۔۔
جولی !!!!
جولی!!!!!!!!
آھل کی گونج سنکر اینجل کے ساتھ ساتھ زید بھی کانپ گیا تھا

جولی لڑکراتے ہوۓ اپنا منہ صاف کرتے ہوۓ وہاں آئ جسکی حالت بھی زید اور اینجل جیسی ہی تھی۔۔ 
 جی سر!!
wt the hell is she doing in my room?????!!!!!!
سر وہ اصل میں 'میں کچن میں تھی اور میں نے ابھی تک اس کو آپ کے رولز بتاۓ نہیں ہیں سوری سر اس میں اسکی کوئ غلطی نہیں ہے میں اسے سب سمجھا دونگی آئیندہ ایسا نہیں ہوگا sorry sir..
جولی نے یہ کہتے ساتھ ہی کمرے سے اینجل کو باہر لیکر آئ اور اسے اسکے کمرے تک لے جانے لگی
تو جاتے ہوۓ اینجل پر آھل کی نظرپڑی جسکی آنکھیں بھیگ  چکی تھی اور اینجل نے بھی آھل کی طرف بھیگی نظروں سے دیکھآ تو آھل کو اک عجیب سا ہوا مگر اسنے نظریں ہٹاکر اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بند کرلیا

زید کو آھل کا اسطرح چلا کر بات کرنا اچھا نہیں لگا اسلیے وہ جولی اور 
اینجل سے معذرت کرنے کیلئے اینجل کے روم کی طرف چلاگیا۔

سنبل جا چکی تھی مگر اسے پری نے کچھ نہیں بتایا تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہوا

پری!!!
تارہ آپا کی آواز سن کر وہ کمرے سے باہر آئ ۔
جی آپ نے بلایا،،،

ہاں بیٹا تمھارے تایا نے بلاوا بھیجا ہے کہ جلدی آجاؤ چلو میرے ساتھ جلدی کرو۔۔۔

پری کا دل دھڑکنے لگا 
یا اللہ کیا آج ہی میری تباہی کا دن ہے؟؟؟

وہ دل ہی دل میں  کہتے ہوۓ تارہ آپا کے ساتھ چل پڑی۔۔

ہر بڑھتا قدم اسکی دھڑکنوں کو بڑھا رہا تھا 
ارے بیٹا میں اپنا چشمہ لانا بول گئ رات ہوتے ہی مجھے کچھ نظر نہیں آتا ٹھیک سے ذرا ہاتھ پکڑ لینا جب سیڑهیاں آۓ تو۔

تارہ آپا نے اسے کہا تو اسنے فوراً ہی تارہ آپا کا ہاتھ تھام لیا۔۔

یہ کیا بیٹا تمھارے ہاتھ اتنے ٹھنڈے کیوں ہو رہے ہیں اور تم کانپ رہی ہو کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟

مگر پری نے کوئ جواب نہ دیا اور تارہ آپا کا ہاتھ پکڑے اسی سمت جا رہی تھی جہاں تارہ آپا چل رہی تھی 

وہ دونوں حویلی کے اندرونی دروازہ سے ہوتے ہوۓ ڈرائینگ روم کی طرف جا رہے تھے 

سامنے دیوار پر بہت سی تصویریں لگی ہوئ  تھی شاہ زمان کی روب دار جوانی سے لیکر شاہ شاہان بڑھاپے تک کی انکے دونوں بیٹوں کے ساتھ بھی فہد کی اور   نوفل کی بچپن کے وقت کی اور جس تصویر  پر پری کی نظر ٹھہر گئ تھی وہ تھی احد کی جو سواۓ شاہ زمان اور فہد کے اور کسی کے ساتھ نہ تھی  وہاں پری  کی بچپن کی کوئ تصویر نہیں تھی احد کے ساتھ ۔۔

بابا!!! 
پری نے روندھی آواز کے ساتھ احد کی تصویر کی جانب دیکھ کر کہا تبھی ثناه نے تارہ آپا کو آواز  دی
تو اسنے مڑ کر اسی طرف دیکھا۔

جی چھوٹی بیگم!!

تارہ آپا نے ثناه کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا جہاں اب یمنا اور زیبا بھی آچکے تھے

کہاں جا  رہیں ہیں آپ دونوں رکو میں خود بتاتی ہوں فہد نے بلایا تھا ہے نا مگر فہد سے پہلے مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔پری ذرا میرے قریب آنا۔۔۔۔
۔
ثناه کا پری کو اپنے قریب بلانا تارہ آپا کو حیرت میں ڈال چکا تھا جبکہ یمنا افسوس سے پری کی طرف دیکھ رہی تھی جب زیباکی نظر یمنا پر پڑی تو اسے عجیب لگا۔

آپکو پتہ ہے پری کہ آپکے بابا یہاں کیو نہیں رہتے اور آپ اپنی ماں کے ساتھ سرونٹ کوارٹر میں کیوں رہتی تھی اتنی بڑی حویلی ہونے کے باوجود اور ہاں آپ تو پوتی ہو نا شاہ زمان بابا کی تو پھر کبھی جاننے کا دل نہیں ہوا تمھارا؟؟؟؟؟

ثناه کا رویہ بولتے بولتے طنز آمیز ہوچکا تھا۔۔

پری کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر تارہ آپا گبھرا چکی تھی۔

چھوٹی بیگم پری چھوٹے شاہ نے بلاوا  بھیجا تھا میں تو بھول گئ  چلو پری بعد میں اپنی تائی سے باتیں کرتی رہنا۔۔

تارہ آپا  پری کا ہاتھ تھامے مڑی تو ثناہ نے پاس آکر  پری کا ہاتھ الگ کیا اور اسے اپنے سامنےاک کھڑا کر دیا ۔۔

بولو پری تم جاننا چاہتی ہو یا نہیں اگر نہیں تو تب بھی سن لو۔
احد کی اک بھول کا برا نتیجہ ہو تم اسکی غلطی سے نشہ لینے پر  اسے تمھاری ماں سے شادی کرنے کی بھیانک سزا ملی کیونکہ تم  اپنی منحوسیت کا اعلان کرچکی تھی ۔۔

ثناه کی باتیں کسی نشتر کی طرح پری پر برس رہے تھے ۔پری  نے گردن جھکا لیتی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جو ثناه کہہ رہی ہے وہ سچ ہے

تمھاری ماں کے بے برکت قدم اس گھر میں کیا پڑے اس گھر کو اپنا جواں بیٹا کھونا پڑا جسے اسکی ماں اپنی موت کے وقت بھی نہ دیکھ سکی اور تم وہی بے برکتی میرے بیٹے پہ ڈالو میں یہ ہونے نہیں دونگی ۔۔۔۔۔

یمنا کی آنکھیں بھیگ چکی تھی مگر زیبا چھپ کھڑی بس یمنا کو دیکھ کر ثناه کی جانب متوجہ ہو رہی تھی ۔

تم لوگ بے شرم اور بے حیا لوگ جب حویلی سے سرونٹ کوارٹر شفٹ ہوکر بھی اپنی اوقات نہیں بھولے تو کم از کم اپنی کالی رنگت ہی دیکھ لیتے اک سیاہ پرچھائ جو نہ جانے کب ہمارا پیچھا چھوڑے ۔۔۔

ثناه کہتے کہتے رک کر پری کی جانب حقارت سے دیکھنے لگی مگر پری کا جھکا ہوا سر دیکھکر اسکا چہرہ اوپر کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ دانت پیستی ہوئ گویا ہوئ 
 

میرے بیٹے سے رشتہ رکھنے کی خواہش نہ رکھنا کیونکہ تم کالی نسل سے ہو اور تم سے رشتہ کوئ مجبوری میں بھی نہ رکھے ۔۔۔

ثناه یہ کہہ کر پلٹی اور تارہ آپا کو دیکھکر  کہنے لگی

آپا پانی پلا کر اسے اندر لے آنا چلو زیبا اور یمنا تم بھی۔۔

ان سب کے جانے کے بعد تارہ آپا پانی کا گلاس لیکر آئ اور پری کی جانب بڑھائ جو اسی طرح ابھی تک کھڑی تھی اور احد کی تصویر کو دیکھتی جا رہی تھی

پری پانی پیلو بیٹا بہت دیر ہوچکی ہے چلو۔۔

پری چونکی ۔۔۔

ہاں بہت دیر ہو چکی ہے چلیں مجھے پانی نہیں پینا۔۔۔

تارہ آپا سے پہلے ہی وہ ڈرائینگ روم داخل  ہوئ

پری بیٹا آؤ کہاں تھی اب تک آؤ بیٹو میرے پاس۔۔۔

فہد نے اسکی جانب شفقت سے دیکھتے ہوۓ بلایا جنکے برابر میں نوفل بھی بھیٹا ہوا تھا۔۔

پری کی نظر نوفل پر گئ تو دوسری جانب ثناہ پر جو اسے نظر انداز کیے ہوئ تھی

نہیں میں ٹھیک ہوں تایا جی آپ نے بلایا  مجھے کوئ کام تھا آپکو۔؟

ہاں اب تو کام ہی کام ہونگے تم سے بیٹا کیونکہ اگلے ہفتے آپکا نکاح ہے نوفل کے ساتھ ارے ثناه بابا کو لیکر آۓ ۔اوہ میرا فون بج رہا ہے ایک منٹ۔۔

فہد فون سننے کیلئے ایک طرف چلا گیا اور ثناہ شاہ زمان جو ویل چیئر پر بیٹھے ہوۓ تھے انھیں لاچکی تھی ۔۔
تبھی تارہ آپا اندر آئ تو انھوں نے پری کے پاس جاکر کچھ کہا مگر پری نے شاید سنا ہی نہیں 
یمنا بھی پری کے قریب  آئ اور اسے صوفے پر بیٹھنے کا کہا تو زیبا نے یمنا کو گھورا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا تو یمنا بیٹھ گئ جبکہ شاہ زمان پری ہی کی جانب خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔

پری کے دل و دماغ میں بس اسکی تباہی گونج رہی تھی وہاں موجود اسکے اپنے جو پتہ نہیں اپنے تھے بھی یا نہیں  کیاں کہہ رہے ہیں کیاں پوچھ رہے ہیں اسے کچھ  سنائی  نہیں دے رہا تھا۔تبھی فہد کی آواز نے اسے اس کشمکش سے باہر نکالا 
بیٹا لو اپنے پاپا سے بات کرو جلدی ورنہ پھر سے کال کٹ نہ  جاۓ انھیں بتاؤ کہ تمھاری شادی میں وہ آۓ۔۔
وہ کبھی فون کو توکبھی نوفل کو دیکھتی  اور اپنےوجود سے اپنی تباہی کی سدائیں سنتی تھک گئ اور آخر جو اسنے کہا اس نے پورے شاہ خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔۔
مجھے یہ شادی نہیں کرنی!!!!!
پری کے یہ الفاظ فون پر احد نے بھی سنے۔
مگر فون کٹ چکا تھا پری کے یہ الفاظ شاہ زمان برداشت نہ کر پاۓ  اور ویل چیئر سے گر پڑے تو سب انکی جانب دوڑ پڑے اور پری روتے ہوۓ محل سے باہر نکلی جہاں اسکے ساتھ آسمان بھی رو پڑا تھا اور وہ بھاگتے بھاگتے کہاں جا نے والی تھی اسے نہیں پتہ تھا پھر ایک تصادم اور پری ہوا میں اڑتے ہوۓ کہیں گر چکی تھی

دھواں بناکے فضاء میں اڑا دیا مجھکو
میں جل رہی تھی کسی نے بجھا دیا مجھکو

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟

اینجل رو رہی تھی اور جولی اسے چھپ کرا رہی تھی تبھی دروازہ پہ دستک ہوئ اور وہ دونوں دروازہ کی جانب متوجہ ہوۓ اینجل اب چھپ ہوگئ جولی  باہر گئ جہاں زید کھڑا تھا۔

جولی بھائ کی طرف سے سوری کہنے آیا تھا تمھیں پتہ ہے نہ انکے روم میں مجھے بھی جانے کی اجازت نہیں پلیز اسے سمجھا دینا اور تم جانتی ہو بھائ اتنے سخت نہیں ہے بس اپنے روم میں کسی کا دخل برداشت نہیں کرتے اچھا میں چلتا ہوں مگر مجھے کچھ اور بھی جاننا تھا وہ گانا کی آواز !!!

زید کی بات کاٹتے ہوۓ 
جولی شروع ہوگئ 
وہ گانا ریکارڈ کیا ہوا تھا اصل میں اسی ریکارڈنگ کی وجہ سے ہی سارا مسئلہ ہوا ہے سر کے کمرے کی بالکونی سے آواز کلیئر آرہی ہوگی اسی لیے اینجل اس لیے اینجل اس کمرے میں چلی گئ ہوگی اور میں نے اسے بتایا نہیں تھا کہ سر کے کمرے میں جانا منع ہے مگر اب میں بتا چکی ہوں اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔

ہممم۔۔۔اوکے تو میں چلتا ہوں بے۔۔۔

زید کے جاتے ہی جولی کمرے میں آئ تو اینجل سو چکی تھی 

اوہ میری کیوٹی سوری تمھیں اتنا دکھ ہوا سو جاؤ کل ملے گیں ۔۔

جولی کمرے کی لایئٹ آف کرکے  دروازہ بند کرکے چلی گئ جبکہ اینجل اسکے جاتے ہی سسکیاں لینے لگی ۔

شاہ زمان کو دل کا دورہ پڑا تھا جو انکی جان لے گیا انکا غم اور دوسری طرف پری کی گمشدگی ایک ہفتہ ہوچکا تھا مگر پری کی کوئ خبر نہیں تھی اور اس بات کو چھپا کے رکھا تھا تاکہ شاہ خاندان کا نام خراب نہ ہو

چھوٹے شاہ نہر سے ایک لاش ملی ہے کسی لڑکی کی ہے ہم نے آس پاس معلوم کیا ہے مگر کسی کی گمشدگی کی کوئ رپورٹ نہیں ہے سو ہمیں دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ آپکی بھتیجی ہی ہے۔۔
پولیس آفیسر نے سر جھکا کر اپنی بات پوری کی تو فہد پر جیسے پہاڑ آگرا ہو
ثناه بھی اپنے آپ کو کوس رہی تھی جبکہ تارہ آپا کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی تو وہ اپنی بیٹی کے پاس چلی گئ تھی مگر سنبل کا دل نہیں مان رہا تھا
نوفل کو دکھ تو تھاکہ پری کی جان گئ مگر اب وہ اپنے کنسرٹ اور ریکارڈنگ میں مشغول رہنے لگا اور مختلف ممالک میں اسکے شوز ہونے لگے 
 

پری کی موت کو چار سال ہونے والے تھے شاہ خاندان اب بدل گیا تھا فہد کے ساتھ ثناه کو بھی اپنی زہریلی باتیں جو اسنے پری سے کی تھی یاد آتی تو وہ فہد سے لپٹ کر رو پڑتی مگر فہد یہ سمجھتا کہ وہ پری کویاد کرکے روتی کیونکہ ثناه نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔۔جبکہ احد کو پری کی موت ایک حادثہ بتائی گئ وہ آیا مگر کسی سے کچھ کہے بنا چلا گیا اسکے دل میں کیا تھا کسی کو نہیں پتہ۔
یمنا اب دبئ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی کیونکہ اسکے ابو کا وہی پہ بزنس سیٹل تھا۔۔

نوفل اس بار کنسرٹ میں کافی نۓ سنگر ہونگے ڈی جیز بھی تو تمھاری تیاری ہر بار کی طرح اوسم ہی ہے نا۔۔؟؟
لبنہ نے نوفل سے کہا تو نوفل جو گٹار پر انگلیاں چلا رہا تھا رکا اور مسکرا کر لبنہ کو دیکھا

جی میڈم بالکل مگر ڈی جے زید سے ذرا ڈرتا ہوں بس مگر اس بار دبئ کنسرٹ میرے نام ہوگا۔۔
نوفل کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!؟!؟؟؟؟؟؟؟!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟

سلونی کسی سر سبز اور خوبصورت پہاڑی پر احد  کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ لیے خوش ہے اور احد اس کیلئے کچھ گا رہا ہے جنھیں دور کھڑے ہوکر پری اورنوفل بھی دیکھکر مسکرا کر کبھی ایک دوسرے کو کبھی انکی طرف دیکھ رہے ہیں

راتوں  رات تارا کوئ 
چاند یا ستارہ کوئ
گرے تو اٹھالینا
او سنیو رے
تارہ چمکیلا ہوگا
چاند شرمیلا ہوگا
نتھ میں لگا لینا

ذرا سی سانولی ہے وہ
ذرا سی باولی ہے وہ 
وہ سرمہ کی طرح میرے 
آنکھوں میں ہی رہتی ہے
صبح کے خواب سے اڑائ ہے
پلکوں کے پیچھے چھپائی ہے
مانو نہ مانو تم سوتے سوتے خوابوں میں بھی خواب دکھاتی ہے
مانو نہ مانو تم پری ہے وہ پری کی کہانیاں سناتی ہے

اچانک نوفل حقارت سے پری کی طرف دیکھتےہوۓ اپنے ہاتھوں میں کچھ چھپاتے ہوۓ سلونی کی طرف بڑھتا ہے اور اسکے آتے ہی احد سلونی کا ہاتھ چھوڑ کر اس سے دور چلا جاتا ہے سلونی حیرانی سے اسے جاتا ہوا دیکھتی ہے اور جیسے ہی اسکی طرف بڑھنے لگتی ہے نوفل اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئ چیز اسے دکھاتا ہے تو سلونی چیخ کر گر جاتی ہے پری جب یہ دیکھتی ہے تو دوڑتے ہوۓ سلونی کے پاس آتی ہے 
ماں!!! ماں!!!!
نوفل کیاں ہوا امی کو کیا ہے تمھارے ہاتھ میں اسے دیکھتے ہی امی گر گئ دکھاؤ مجھے بھی کیا ہے؟؟؟؟

پری نے نوفل کو جھنجوڑتے ہوۓ پوچھا تو نوفل نے اسے خود سے دور کیا ۔

میرے ہاتھ میں وہ ہے جسے دیکھکر تمھاری ماں کو اپنی اوقات یاد آگئ مگر تم شاید بھول گئ ہو چلو تمھاری خواہش پوری کرتا ہو لو دیکھو!!!

نوفل نے نفرت سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ اپنے ہاتھ میں موجود آئینہ پری کو دکھایا تو اسکی آنکھیں ڈر سے پھیل گئ کیونکہ وہاں پری کی بجاۓ کوئ بھیانک چہرہ تھا

نہیں !!نہیں!!!

 اینجل چلاتے ہوۓ نیند سے اٹھی تو اسے ہلکی ہلکی گانے کی آواز آرہی تھی اور سامنے آئینہ میں اسے اپنا عکس نظر آیا تو وہ اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرنے لگی اور رونے لگی۔

وہ روتے روتے چھپ ہوئ تو گانے کی آواز پھر سے آنے لگی 

اس وقت کون گانے سن رہا ہے جولی آگئ ہوگی میں جاکر دیکھ لیتی ہوں۔۔

جولی آج کسی کام سے ہاسپٹل گئ تھی اور آنے کا کچھ بتایا نہیں تھا آھل بھی گھر پر نہیں تھا اور زید دبئ جانے والا تھا 

وہ بستر سے اٹھکر کمرے سے باہر آگئ اور ٹی وی لان میں آئ تو وہاں کوئ نہیں تھا اور ٹی وی بھی بند تھا اسے آواز جس طرف سے آرہی تھی وہ اسی طرف جانے لگی تو اسے ایک کمرے کا دروازہ کھلا نظر آیا وہ کمرے کے قریب گئ تو کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔۔

اوہ سوری اینجل تمھیں کچھ چاہیۓ تھا کیاں؟

نہیں میں سمجھی جولی ہوگی  سوری میں چلتی ہوں۔۔۔

اینجل نے واپس مڑتے ہوۓ کہا اور جانے لگی

ہممم اوکے۔۔زید اسے جواب دیتا ہوا اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے کرتے رکا 

سنو تم بور ہو رہی ہو تو میرا بلوٹوتھ رکھ لو اس میں جولی کے پسند کے گانوں کا میموری کارڈ ہے یہ لو۔۔

زید نے اسے بلوٹوتھ دیا تو اینجل نے لے لیا اور اپنے کمرے میں آگئ 

بلوٹوتھ کانوں پہ لگا کر وہ اسے آن کر چکی تھی اور اس میں  وہی گانا تھا اور نوفل کی آواز میں تھاجو اسکے خواب میں چل رہا تھا وہ اکثر اپنی ماں کیلئے یہ گانا گاتی اسے لگتا اگر اسکے بابا ہوتے تووہ بھی اسکی ماں کیلۓ ایسا ہی گاتے اور کبھی اپنا اور کسی کا ساتھ  سوچتی 

زید آھل کو کال کرکے جا چکا تھا کیونکہ اسکے فلائٹ کا ٹائیم ہو گیا تھا اور آھل آنے والا تھا اینجل اپنے کمرے میں گانے سنتے سنتے باہر آئ تو زید کو جاتے ہوۓ دیکھکر کیچن کی طرف گئ اور چاۓ بنانے لگی زید جا چکا تھا اب اینجل چاۓ لیکر ہال میں بیٹھ گئ اور گنگنانے لگی ساتھ اس نے بلوٹوتھ کا والیم بھی بڑھا دیا 

آج ہاسپٹل میں آھل کی طبیعت ذرا ڈھل تھی اسی لیے اس نے آفس ورک کیلۓ جولی کو بلایا تھا۔۔

سر آپ چلے جاۓ میں فائیلز دیکھ لونگی آپ کافی دنوں سے سوۓ نہیں ہے زید نے بتایا آپ گھر جاکر آرام کرلیں۔۔۔

آھل واقعی میں بہت تھک چکا تھا۔

اففففففف!!!!

اوکے جولی میں چلتا ہو اگر تمھیں مدد چاہیۓ ہو تو کسی کوبلا لینا ۔۔

آھل اٹھکر جانے لگا تو اسکے موبائل پر میسج آیا 

happy birthday bro love u
ur gift is in my room nd im in airport come soon in u.a.e
i will wait

آھل مسکرایا اور گھر کی طرف نکل پڑا۔۔

 تو ہوا میں زمین 
تو جہاں میں وہی
جب اڑے مجھے لیکے کیو اڑتے 
 نہیں 
تو گھٹا میں زمین 
تو کہیں میں کہیں 
کیو کبھی مجھے لیکے برستے نہیں  
ذرا سا سانورا ہے وہ 
ذرا سا باؤلہ ہے وہ
وہ سرمہ کی طرح میرے 
آنکھوں میں ہی رہتا ہے

اینجل اپنی دھن میں گنگناتے ہوۓ اپنے کمرےمیں چلی گئ اور آھل فون پر زید سے بات کرتے ہوا اپارٹمنٹ میں داخل ہوا

ہاہاہاہا اچھا میں جا رہا ہوں تمھارے روم میں ہاں یار میں ٹینس نہیں ہوگا کیونکہ تم نے اس سے ہر سال میرے برتھ ڈے پہ یہی گفٹ دینے کا وعدہ کیاں تھا مجھے یاد ہے اوہ بھائ یاد ہے بس اگلے ہفتے تک ہم دبئ میں ہونگے اور تیرا کانسرٹ انجواۓ کریگےاوکے اللہ حافظ۔۔

وہ باتیں کرتے کرتے زید کے کمرے میں آکر لیپ ٹاپ آن کرکے سامنے چلنے والی ویڈیو دیکھنے لگا اسکی آنکھیں نم ہوگئ کیونکہ ویڈیو میں سارہ کے ساتھ وہ کسی اسٹیج پر پرفارم کر رہا تھااور اب ہنس پڑا تھا

اینجل بلوٹوتھ رکھ چکی تھی تبھی اسے کسی کے گانے اور قہقہے کی آواز آئ تو وہ باہر آکر آواز کا تعاقب میں زید کے کمرے تک پہنچی جہاں آھل وہی گانا لیپ ٹاپ پر سنکر بے سرا دھرا رہا تھا تو اینجل کی ہنسی چھوٹ گئ ۔آھل نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا تو دھنگ رہ گیا وہ ہنستے ہنستے بے اختیار اسکے پاس آئ 

اف اتنا بے سرا نہیں میں بتاتی ہوں سنو

جب دانت میں انگلی دباۓ 
یا انگلی سے لٹ سلجھا ۓ
بادل یعنی چڑھتا جاۓ 
میں یہ سوچوں
کچھ کہہ کے 
وہ بات کو ٹالے
جبے ماتھے پہ 
وہ بل ڈالے 
امبر یہ سڑکتا جاۓ
میں یہ سوچوں
وہ جب ناخن کترتا ہے ۔۔
تو چندا گھٹنے لگتا ہے ۔
وہ پانی پر قدم رکھے
ساگر بھی ہٹ جاتا ہے

اینجل گاتے گاتے رکی اور اب مارے حیرت کے اپنے آس پاس دیکھنی لگی تو اسکی نظر آھل پر پڑی جو لیپ ٹاپ کے قریب ٹیبل پر سر رکھے سو چکا تھا اینجل فوراً وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں  آئ 

یا اللہ یہ میں نے کیا کردیا!!!
اینجل ڈرتے ہوۓ بستر پر گرسی گئ اور کب اسکی آنکھ لگی پتہ نہیں ۔۔۔

جاری ہے🌹

کیسی لگیں قسط 😊

🌹⚘💐🌼💕🌷💞⚘🌹

Novel 

The Black Angel 

#کالی_پری 🌹

از محمد شارق

قسط 7


اگلی صبح جولی کے آتے ہی اینجل نے اسے ساری رات والی بات بتائی وہ بہت گبھرا چکی تھی 

ہمممم مطلب تمھاری کمزوری گانے ہیں میوزک ہے اچھا ناچ بھی لیتی ہو یا نہیں ؟؟؟
جولی نے اینجل کو تنگ کرنا چاہا 

جولی کیا مطلب میں پریشان ہوں اور تم !!

اینجل رونے کو تھی کہ جولی نے اسے کندھے سے پکڑ کر بٹھا دیا 

اف تم کتنی ڈرپوک ہو یار کچھ نہیں ہوا ورنہ مجھے ضرور جانے سے پہلے بتاتے اور تم نے کہا نہ وہ سوچکے تھے تو سنو آھل سر کافی دنوں سے ٹھیک طرح سے سوۓ نہیں ہے وہ نیند میں ہوگے اور ایک مزے کی بات ہم اگلے ہفتے دبئ جانے والے ہیں بہت مزہ آۓ گا وہاں زید کا کنسرٹ میں پرفارمنس بھی ہے
جولی خوش ہوتے ہوۓ اینجل کو بتانے لگی تو وہ حیران ہوئ 

کیاں کہا کنسرٹ ؟؟؟

ارے سوری یار وہ میں نے تو بتایا ہی نہیں تمھیں کبھی زید گانے ریمیک کرتا ہے اپنے میوزک ایڈ کرکے یعنی ڈی جے چلو سونے دو مجھے بہت تیاری بھی کرنی ہے 

جولی اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوۓ بولی تو اینجل بھی اب پرسکون ہوکر اپنے کمرے میں چلی گئ۔

۔..................................................................................................
ھیلو ڈاکٹرآھل کیسے ہیں آپ؟؟؟

میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سناۓ dr A.s  meer  ؟؟؟

میں بس آپکا انتظار کر رہا ہوں باقی ڈاکٹرز تو آ چکے ہیں تو میٹنگ کب رکھنی ہے سب پوچھ رہے تھے؟؟؟

میں بس اگلے ہفتے آنے والا ہوں تو پلیز سب سے کہے تب ہی میٹنگ رکھ لیتے ہیں۔

ok than take care come soon bye Aahil

bye dr meer

آھل نے فون بند کرکے ویزا آفس میں کال ملائ۔۔

..................................................................................................
وہ تینوں اس وقت دبئ ایئرپورٹ میں موجود اپنے گیج لینے کیلۓ کھڑے تھے تبھی کسی نے آھل کو آواز دی جسے آھل اور جولی کے ساتھ اینجل نے بھی سنا مگر اینجل نے جب آواز دینے والے کو دیکھا تو اسے لگا کہ اب وہ سانس نہیں لے پاۓ گی۔۔۔

آھل سر پہچانا مجھے ھیلو ۔۔کہتے ہوۓ اسنے آھل سے ہاتھ ملا لیا تھا جبکہ جولی نے مارے خوشی کے اینجل کا ہاتھ تھام لیا تھا  

افففففف اینجل دیکھ یہ تو نوفل ہے مگر یہ آھل سر کو کیسے جانتا ہے ؟؟؟
جولی کو خوشی ہورہی تھی مگر اینجل کی پلکیں بھی نہیں جپکنا بھول گئ تھی

اوہ ینگ بواۓ کیسے ہو اور یہ سب تمھاری ٹیم ہے رائٹ ھیلو ایویری ون مجھے بتایا تھا تمھارے چاچوں نے کہ تم آنے والے ہو اور گھر میں سب ٹھیک تھے ۔؟؟

جی سب ٹھیک ہیں وہ میری ٹیم ہے مگر یہ میری کزن ہے یمنا میرا شو دیکھنے آئ ہے اور ۔۔۔

نوفل کچھ کہتا اس سے پہلے لبنہ نے اسکی بات کاٹی

رکو نوفل میں خود ملوں گی ھیلو آھل بھائ کیسے ہے آپ اور زید کہاں ہے نظرنہیں آرہا ہاۓ جولی اور یہ لڑکی کون ہے؟؟

لبنہ نے آھل سے ملتے ہوۓ ہوۓ اینجل کو دیکھکر سوال کیا جو ابھی تک سبکو پٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی 

اوہ یہ اینجل ہے میری patient ۔اور تمھاری زید سے بات نہیں ہوئ وہ تو پچھلے ہفتے ہی آگیا تھا۔۔

آھل نے لگیج ٹرالی میں رکھتے ہوۓ پوچھا

نہیں اب کنسرٹ میں ملاقات ہوگی اوکے ہماری بس نکلنے والی ہے چلو نوفل یمنا اوکے آھل بھائ باۓ

وہ لوگ چلے گۓ اور آھل بھی اینجل اور جولی کو گاڑی میں بٹھا کر خود کسی کام کا کہہ کر الگ گاڑی میں بیٹھ گیا اور کافی دیر تک بس گاڑی سڑکوں پر دوڑاتا رہا۔۔

اور یہاں گھر آکر بھی اینجل اب تک گم سم تھی

لگتا ہے ضرور نوفل کا کوئ چاچوں میڈیکل شعبہ میں ہوگا میں پتہ لگا لونگی۔۔
جولی کافی دیر سے اینجل سے باتیں کیے جا رہی تھی مگر وہ ابھی تک کسی سوچ میں ڈوبی ہوئ تھی تو جولی اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے ہلانے لگی کہاں گم ہو ؟؟

کہیں نہیں بس دیکھ رہی تھی تم کتنی بڑی فین ہو نوفل کی؛

اینجل نے سنبھلتے ہوۓ  پوچھا۔

ہاں وہ تو ہے وہ ہے تو میرے بیٹے جتنا مگر پھر بھی اچھا بچہ ہے

جولی کی بات پر دونوں ہنسنے لگی تبھی دروازہ پر نوک ہوئ تو جولی باہر گئ اور تھوڑی دیر بعد اندر آئ تو بڑی بہت خوش لگ رہی تھی 

یہ دیکھوں کیاں ہے انویٹیشن پتہ ہے ہر سال آھل سر کے یہاں والے ہاسپٹل میں سالانہ پارٹی ہوتی ہے جو آھل سر کبھی نہیں چھوڑتے تھے مگر اب کچھ سالوں سے وہ اٹینڈ نہیں کر رہے جب سے انکی منگیتر ایک کار ایکسیڈنٹ میں انھیں چھوڑ کر ہمیشہ کیلیے چلی گئ تب سے وہ بلکل اکیلے ہو چکے اور تمھیں پتہ ہے ۔۔

جولی کچھ کہتے ہوۓ رکی اور پھر بولنے لگی

تمھیں اس پارٹی کی خوبیاں بتاؤنگی نا تو تم تو پاگل ہو جاؤگی۔۔

اب جولی اینجل کو پارٹی کے بارے میں بتا رہی تھی اور اینجل کبھی ہنستی تو کبھی حیران ہوتی

جبکہ انکی ہنسی کی آوازیں کمرے کی کھولی کھڑکی سے باہر آرہی تھی جھنیں آھل سنکر خوش ہو رہا تھا۔۔۔

..................................................................................................
جولی اور اینجل پارٹی کیلۓ تیار تھی اور وہ آھل اور زید کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی 

اینجل وہی ڈریسن پہنا تھا جو آھل نے اسے مال میں جولی سے کہہ کر دلوائ تھی مگر آھل نے ایک دفعہ بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا جبکہ جولی جب اسے پارلر سے تیار کرواکر لائی تھی تب سے اسکی تعریف ہی کر رہی تھی مگر اب گاڑی میں چھپ تھی شاید آھل کا ڈر تھا اسے

وہ چاروں پارٹی ہال میں داخل ہوۓ تو وہاں مختلف ممالک سے آۓ ہوۓ ڈاکٹر کی کافی تعداد تھی آھل سب سے ملنے لگا جبکہ جولی اور اینجل ایک ٹیبل پر بیٹھ گئ اور زید بھی ان سے ذرا فاصلہ پر مگر اسی ٹیبل پر انکے ساتھ تھاکہ اچانک آھل کسی کو لیکر وہاں آیا۔۔

ڈاکٹر ایس اے میر یہ ہے میرا بھائ زید اس سے تو آپ مل چکے ہے اور جولی سے بھی اور یہ ہے اینجل جسکی کامیاب سرجری کے بعد اب وہ بالکل ٹھیک ہے اینجل یہ ڈاکٹر میر ہے میرے پارٹنر اور سینیئر۔۔

آھل نے جب اینجل سے ڈاکٹر میر کا تعارف کروایا تو اینجل  مارے حیرت کے اپنی نشست سے اٹھ گئ کیونکہ سامنے موجود شخص اسکی دل کی دھڑکنیں بڑھا چکا تھا۔۔

روکو آھل میں خود ملتا ہوں ینگ لیڈی میرا نام ڈاکٹر احد شاہ میر ہے آپ سے ملکر خوشی ہوئ 

احد نے یہ کہہ کر اپنا ہاتھ مصافحہ کیلئے آگے بڑھایا تو اینجل نے کانپتے ہاتھ آگے بڑھایا اور ہاتھ  ملا کر اب احد اور آھل بھی اسی ٹیبل پر  بیٹھ گۓ تبھی اسٹیج پر دو لیڈی ڈاکٹر آئ اور انھوں نے پروگرام شروع کردیا جس میں کافی سارے ڈاکٹرز کو سرٹیفکیٹ ملے کچھ نے اسپیچ  دیے جن میں آھل بھی شامل تھا جس نے اپنی پلاسٹک سرجری کی نئی تیکنک اور پروسیجر کے بارے میں بریف دیا ۔۔

ان سب کے دوران اینجل وقفے وقفے سے احد کی طرف دیکھتی رہتی تبھی اسٹیج پر دوبارہ وہی دونوں لیڈی ڈاکٹر آئیں

اوکے فرینڈز اب ہمارا گیم ٹائم چلے اپنے ٹیبل پہ موجود چٹ اٹھاۓ اور اپنی اپنی ٹیم میں آجاۓ 

سب نے اپنی اپنی چٹز اٹھائ اور دو ٹیمیں بننے لگی جولی اور آھل ایک ٹیم میں جبکہ احد اینجل اور زید الگ گروپ میں تھیں

کافی سارے مقابلے ہوۓ  جھنیں دیکھکر اینجل گبھرا گئ تھی کہ وہ دونوں ڈاکٹرز دوبارہ اسٹیج میں آئ 

اوکے دوستوں اب سب بیٹھ جاۓ اپنی نشسو پر کیونکہ اب آپکے سیٹ پہ موجود نمبرز کی قرعہ اندازی ہوگی اور ہر ٹیم سے ایک ممبر آۓ گا اور سیلیکٹڈ سونگ پر پرفارم کے ساتھ صحیح لپسنگ بھی کرے گا اور وہی اپنی ٹیم کو جتواۓ گا سو قرعہ اندازی شروع پہلی ٹیم سے نمبر 38 

تبھی ایک ڈاکٹر آتا ہے سیلیکٹد سانگ پہ ڈانس تو اچھا کرتا ہے مگر لپسنگ اتنی خاص نہیں کر پاتا کیونکہ گانا ہی ایسا ہوتا ہے 
سب ہنس رہے ہوتے ہیں پھر دوبارہ قرعہ اندازی اگلی ٹیم کیلۓ مگر اس میں جو نمبر ہوتا ہے اس پر احد ہوتا ہے تو وہ گبھرا جاتاہے 

اوہ آھل یہ تو برا ہوا یہ تو میرا نمبر ہے مجھے گانے بہت پسند ہے مگر ڈانس تو نہیں اور یہ مجھے چھوڑے گے نہیں میرا مذاق بن جاۓ گا۔۔

آھل اٹھتا ہے کہ جاکر منع کرے تبھی اینجل احد کے ہاتھ سے وہ چٹ لیکر آٹھتی ہے تو ساتھ زید بھی اٹھتا ہے تو اسے پکڑ کر ڈی جے ٹیبل پر کھڑا کر دیتے ہیں۔

اینجل اسٹیج پہ جاتی ہے تو انسے بلوٹوتھ مائیک ارینج کرواتی ہے اور گانے کی ویڈیو بھی دکھانے کا کہتی ہے 
اینجل دوبار گانے کی ویڈیو دیکھتی ہے اور اب اسٹیج پر تیار کھڑی میوزک کا انتظار کرتی ہے تبھی زید اس سے اشارہ میں اجازت مانگتا ہے تو وہ بھی اشارہ سے ہاں کہہ کر احد کی طرف دیکھتی ہے جہاں جولی اسے excited جبکہ آھل اور احد کنفیوز نظر آتے ہیں اور میوزک شروع ہوتا ہے

girl ur my chamak challo
where u go with long long pallo
what u want just let me know 
u can be my chamak challo
show me i gonna gitchcha
u know i gonna gitchcha
u know i never let u leave
until be my chamak chamak challo

kaisa sharmana aja nach ke dika de
aa meri hole aja parda gira de
aa meri ankhiyu se 
ankhiya mila le
aa thora nakhre dika de
wanna be my chamak challo

وہ گا رہی تھی ناچ رہی تھی سب جھومنے لگے تھے احد زید اور جولی حیران تھے مگر آھل حیران ہونے کے ساتھ اب غصہ میں تھا اسے سبکا اینجل کو ناچتے دیکھنا برداشت نہیں ہو رہا تھا جولی کی نظر آھل پہ گئ تو وہ اسکی نیلی آنکھوں کو غصہ سے لال ہوتا دیکھ کر ڈر گئ تو اسنے اپنے موبائل سے زید کو کال کی زید جو کہ خود حیرت میں تھا فون پر جولی کالنگ دیکھکر جولی کی طرف دیکھنےلگا تو جولی نے اسے آھل کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیاں جب اسنے آھل کا سلگتا چہرہ دیکھا تو وہ بھی ڈر گیا اور سسٹم کی سیٹنگ خراب کرکے میوزک بند کرکے اٹھکر اینجل کے پاس آیا

سوری وہ سسٹم خراب ہوگیا چلو اینجل 

وہ دونوں اسٹیج سے اترے مگر سبکی تالیوں کی گونج بتا رہی تھی کہ اینجل نے سبکو پاگل بنا لیا تھا۔۔

وہ دونوں ٹیبل تک آۓ تو آھل جانے کیلۓ اٹھا اور جولی سے سبکے ساتھ جلدی باہر آنے کا کہہ کر احد سے مصافحہ کرتا غصہ سے ایک نظر اینجل پر ڈال کر چلا گیاجس سے اینجل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔زید اور جولی بھی احد سے ملکر جانے لگے تو اینجل بھی انکے پیچھے نکلنے لگی تو احد کی آواز پر رک گئ

شکریہ بیٹا تم نے مجھے بچا لیا ویسے تمھاری آواز بہت پیاری ہے میری ایک دوست سے کافی ملتی ہے 

اینجل کی آنکھوں میں آنسوں آگۓ 
مگر اسنے نہ تو مڑ کر دیکھا نا کوئ جواب دیا اور باہر چلی گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،......۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چاروں بنگلہ میں داخل ہوۓ تو آھل نے  جولی کو آواز دی

جولی اینجل کو میرے کمرے میں بھیجو ابھی !!!!

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تو جولی اینجل کو اسکے روم کے دروازہ تک پہنچا کر روم نوک کرکے دروازہ کھلتے ہی اینجل کو اندر جانے کا کہہ کر وہاں سے چلی گئ تھی ۔

کیاں ہوا جولی ؟؟
زید نے جولی سے پریشان ہوتے ہوۓ پوچھا

اینجل کے آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا

اینجل کمرے میں موجود ہر چیز کو دیکھ رہی تھی تبھی آھل ڈریسنگ روم سے نکلا اور اسے دیکھکر وہی تری سیٹر پر بیٹھ کر سر جھکا لیا 

کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد اسنے اینجل کی طرف دیکھا تو وہ سر جھکاۓ کھڑی تھی 

اینجل اپنے پیچھے دیوار پر تصویر دیکھو۔۔

اینجل اسکی آواز پر چونکی اور جلدی سے مڑ ی دیوار پر موجود تصویر دیکھ کر پل بھر کیلۓ وہ ٹھٹک گئ۔۔

مجھ سے شادی کروگی اینجل؟؟؟؟

آھل کا یہ سوال اور سامنے دیوار پر موجود تصویر اینجل کو ہلا چکی تھی۔ 

دروازہ پر دستک ہوتے ہی آھل  اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر آیا اور اٹھکر بیڈ کراؤن سائیڈ کی لائیٹ آف کرکے دروازہ کھول کر خود  چیئر پر  بیٹھ کر اینجل کو اندر آتے ہوۓ دیکھنے لگا جسکا صرف چہرہ  سارہ سے تقریباً ملتا تھا جبکہ اسکے بال سارہ کے بالوں سے بہت لمبے تھے سارہ کے بال اسکے کندھے تک تھے اور اینجل کے بال کمر سے بھی نیچھے جاتے تھے سارہ کا قد بھی اینجل سے کم تھا وہ بامشکل آھل کے شولڈر تک آتی تھی مگر اینجل آھل کے ٹھوڑی تک ہوگی ۔۔

آھل اسے دیکھے جا رہا تھا جبکہ اینجل  سر جھکاۓ کھڑی تھی۔۔تو آھل نے ایک گہری سانس لی اور اس سے مخاطب ہوا

تم نے آج جو کیاں مجھے شاید کوئ حق نہیں تمھیں اپنی راۓ دینے کا مگر پھر بھی میں نہ جانے کیوں مجھے تمھارا وہاں پرفارم کرنا پسند نہیں آیا گانا گانے تک تو ٹھیک تھا مگر اسکے علاوہ جو تھا مجھے برا لگا دیکھو میں تم پر اپنی مرضی نہیں توپ رہا بس جو دل میں آیا سوچا بتا دوں تم اب جا سکتی ہوں۔۔

آھل نے اپنی بات مکمل کی تو اینجل جو سر جھکاۓ ہی کھڑی تھی جانے کیلئے پلٹی تو آھل نے دوبارہ کچھ پوچھا

اچھا بات سنو تم Dr ahad کو جانتی ہو مطلب کیا پہلے کبھی دیکھا ہے ؟

آھل کے سوال پر اینجل چونکی مگر مڑی نہیں اور نفی میں گردن ہلایا ۔۔

ہممممم وہ تم نے انکے لیے فیور  دی اسلۓ سوچا کیا پتہ ہاسپٹل میں ملاقات ہوئ ہو۔۔اچھا تم جاؤ۔۔

اینجل نے قدم آگے بڑھاۓ ہی تھے کہ آھل نے پھر سے اسے پکارا۔۔

اینجل اس اپارٹمنٹ میں جو گانے کی آوازیں آتی تھی وہ تم تھی پتہ چل گیا آج اچھا گاتی ہو سچ میں بڑا جادو ہے تمھاری آواز میں کب سے گاتی ہو مطلب کچھ یاد ہے ؟؟

اینجل نے کوئ جواب نہیں دیا اور اسکی طرف دیکھا بھی نہیں مگر آنسو اسکے آنکھوں سے نکلنے والے تھے ۔۔

کوئ بات نہیں تم ذہن پر زور مت دو اور اگر تمھیں سنگنگ میں کوئ ہیلپ چاہیۓ تو تم زید سے بات کر سکتی ہو کیونکہ وہ بھی میوزک فیلڈ میں ہی ہے اچھا تم جاؤ اور اب چھپ کر گانے کی ضرورت نہیں ٹھیک ہے 
ok good night Angel

آھل شاید چاہ رہا تھا کہ وہ رکے مگر اینجل جا چکی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینجل اپنے روم میں آئ تو بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی وہ جب سے دبئ آئ تھی تب سے جب اکیلی ہوتی روتی کیونکہ جن لوگوں سے وہ دور رہنا چاہ رہی تھی وہ اسکے پاس ہی تھے اور نوفل یمنا کے بعد آج احد کو دیکھکر تو وہ جیسے اپنا دل سنبھلنے کی دعائیں کر رہی تھی۔۔۔

!!!!!!!!!!!!!""""""""!!!!!!!!!!!""""""""!!!!!!!!!!!

نوفل کانوں میں ہینڈفری ڈالے اپنے گانے بدل بدل کر سن رہا تھا تاکہ اپنے پرفارمنس کیلۓ گانا سیلیکٹ کرے تبھی یمنا اور لبنہ ہاتھ  میں کافی لیے اسکے قریب صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔وہ دونوں اپنی باتیں کر رہی تھی کہ نوفل گنگنانے لگا اسکی آنکھیں بند تھی اور چہرے پر عجیب سا احساس 

اب لگن لگی کی کریے
نہ جی سکیے تے نہ مریے

گنگناتے ہوۓ نوفل کی آنکھیں بھیگ گئ تو یمنا نے اسے آواز دی

نوفل تم ٹھیک تو ہو؟

لبنہ بھی پریشان ہوگئ تھی 

ہاں ٹھیک ہوں بس پتہ نہیں کیو اسکی آواز سنتا ہوں تو خود پر قابو نہیں کر پاتا کیا کروں کہاں ڈھونڈھو اسے ؟؟؟؟

نوفل یہ کہتا ہوا ہینڈ فری وہی صوفے پر پھینک کر چھت کی طرف چلا گیا۔۔

مجھے یقین نہیں ہوتا چار سال ہوگۓ اور یہ اس دور میں صرف آواز سنکر دیوانہ ہوا پڑا ہے ۔۔۔

لبنہ افسوس کرتی وہاں سے چلی گئ اور یمنا جو وہی بیٹھی تھی وہ ایک گہری سوچ میں جانے لگی یہ کوئ پہلی بار نہیں تھا کہ نوفل نے ایسے ری اکٹ کیا ہو وہ شاید پل پل اس آواز کیلۓ مرتا تھا جیسے خود ٹکرا چکا تھا یمنا نے ایک گہرا سانس لیا 

نوفل یہ قدرت کا انصاف ہے تم نہیں سمجھو گے کل وہ جیسے تمھیں جان کر تڑپی آج تم اسے نہ جانتے ہوۓ تڑپ رہے ہو۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینجل کے جانے کے بعد آھل نے بیڈ کراؤن کے پاس آکر لائیٹ آن کی مگر آج وہ سارہ کی تصویر کو نہیں دیکھ پا رہا تھا۔۔

مجھے کیاں ہورہا ہے سارہ کچھ سمجھ نہیں آرہا میں تم سے نظریں نہیں ملا پا رہا پتہ نہیں کیوں اسے تمھارا چہرہ دیکر بھی مجھے اس میں تم نظر نہیں آتی میں جب اسے دیکھتا ہوں تمھیں بھول جاتا ہوں جبکہ وہ تمھاری طرح ہے نہیں وہ الگ ہے معصوم ہے پیاری ہے پتہ ہے جادو ہے اسکی آواز میں اور ناچتی تو کمال ہے چمک چلو ہا ہا ہا ہاہا

آھل کہتے کہتے ہنس پڑا تو اسکی پلکیں بھیگ گئ اور  وہ شاید رو رہا تھا

سارہ میں نے تمھیں دھوکا دیا سارہ مجھے پیار ہوگیا ہے اینجل سے مگر مجھے تم چاہیۓ ہو پلیز ہیلپ می پلیز ۔۔۔

آھل سر جھکاۓ آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا تبھی ہوا کا ایک زور دار جھونکا آیا اور اسکے کمرے کی کھڑکی کھولی اور پردے اڑنے لگے 

آھل اٹھکر کھڑکی بند کرنے لگا تو کھڑکی سے باہر 
اسکی  نظر پڑی جہاں ایک بڑے سے بورڈ پر کچھ مزدور کوئ اشتہار لگا رہے تھے تو آھل کھڑکی بند کرکے روم کی بالکونی میں بیٹھ  موجود ہینگنگ چیئر پر بیٹھ کر اسی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ 

اسے بیٹھے کچھ سیکنڈ ہی ہوۓ تھے کہ اسے اینجل کے گانے کی آواز آئ جو اپنے روم کی بالکونی میں تھی اور اسکا روم آھل کے روم کے برابر ہی تھا۔۔

تیرے جانے کا غم اور نہ آنے کا غم
پھر زمانے کا غم کیا کرے
راہ دیکھے نظر رات بھر جھاگ کر 
پر تیری تو خبر نہ ملے

بہت آئ کئ یادیں مگر اس بار تم ہی آنا
ارادے اپنے جانے کے نہیں لانا تم ہی آنا۔۔

آھل نے چیئر سے سر پیچھے کرکے ٹھکا لیا اور اب وہ اینجل کی آواز میں کھونے لگا تھا اور ساتھ ساتھ سامنے بورڈ پر بھی دیکھے جا رہاتھا جہاں کام چل رہا تھا۔۔

اینجل بھی اپنے سوچو میں گم اسی بورڈ کی طرف دیکھتے ہوۓ گا رہی تھی۔

میری دہلیز سے ہوکر بہاریں جب گزرتی ہیں
یہاں کا دھوپ کیاں ساؤن ہوائیں بھی برستی ہے 
ہمیں پوچھو کیاں ہوتا ہے بنا دل کے جیے جانا

بہت آئ گئ  یادیں مگر اس بار تم ہی آنا۔

اینجل اب رونے لگی تھی اسلیے چھپ ہوگئ مگر نظریں ابھی بھی اسی بورڈ کی طرف تھی 

جبکہ دوسری طرف نوفل بھی چھت پر بیٹھا سر جھکاۓ کچھ گا رہا تھا۔۔

کوئ تو راہ وہ ہوگی جو میرے گھر کو آتی ہے
کرو پیچھا صداؤں کا سنو کیا کہنا چاہتی ہے
تم آؤ گے مجھے ملنے خبر یہ بھی تم ہی لانا

بہت آئ گئ یادیں مگر اس بار تم ہی آنا

نوفل گاتے گاتے رو پڑا اور ٹھنڈی ہوائیں اسے سلانے لگی 

یمنا چھت پر کمفرٹر لیکر آئ اور نوفل پر ڈالنے لگی اسکی آنکھیں بھی نم تھی ۔وہ کمفرٹر ڈال کر پلٹی تو اسکی نظر سامنے دیوار پر گئ جہاں کسی دل جلے نے ایک جملہ لکھا تھا

Never break an innocent heart

یمنا نے اسے پڑھتے ہی ایک نظر نوفل پر ڈالی اور اپنے آنسوں پونچھتے ہوۓ نیچھے چلی گئ

جبکہ آھل اور اینجل جس بورڈ کو بنتا دیکھ رہے تھے وہ تیار ہو چکا تھا اور وہاں کی لائیٹ آن ہوئ تو دونوں نے پڑا جو وہاں لکھا تھا

Dont afraid i am yours plz fall in love again 

اور نیچھے کسی چاکلیٹ کی تصویر تھی 

دونوں اسے پڑ کر مسکراۓ تھے تبھی ایک پتا اڑتا ہوا اینجل کے چہرے کو چھوتا ہوا گیا تو اینجل نے بالکونی سے جھانک کر اسے دیکھنے کی کوشش کی وہ پتا اسے چھو کر اڑتے ہوۓ آھل کی گود میں آکر گرا تو آھل نے اسے اٹھا لیا اور ہاتھ میں اس پتے کو لیے اٹھکر بالکونی سے باہر جھانکا تو   اسکی نظر اینجل پر پڑی اور اینجل نے بھی اسکے ہاتھ میں اس پتےکو ایک نظر دیکھا اور روم میں جاکر بیڈ پر لیٹ کر سامنے بورڈ پر لکھے جملوں کو اپنی آنکھوں میں لہراتا ہوا دیکھنے لگی جبکہ آھل اس پتے کو لیکر اپنے کمرے میں آیا اور سارہ کی تصویر کے پاس آکر اسے پتا دکھا کر مسکرایا

thanks for this massage 

یہ کہہ کر وہ بھی بورڈ پر لکھے جملے دہراتے ہوۓ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

🌹 جاری ہے 🌹
💐🌼💕🌷🌷💞⚘🌹

Novel 

The Black Angel 

💞💕🌹🌷🌼💐⚘

#کالی_پری 🌹

از محمد شارق

قسط 8


اینجل جولی کو اپنے اور آھل کے درمیان ہونے والی رات کی باتیں بتا رہی تھی جسکے بارے میں جولی نے ہی پوچھا تھا۔۔۔

ارے واہ یہ تو اچھا ہے یار تم زید سے بات کرلو وہ بہت اچھا اور فرینک ہے یقین کرو اس سے بات کرکے تمھیں اچھا لگے گا اور وہ کیا پتہ تمھیں اپنے ساتھ ملا کر ٹیم بنالے ویسے بھی لبنہ کے جانے کے بعد اسکی ٹیم میں اب وہ اکیلا ہی کنسرٹ وغیرہ میں جاتا ہے کیاں پتہ تمھاری وجہ سے اسکی کوئ مشکل حل ہوجائے ۔۔۔

جولی نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا تو لبنہ کا نام سنکر اینجل ذرا چونکی اور جولی سے پوچھا

لبنہ کون ہے؟

زید کے ساتھ اچھی میوزک ٹیم بنی ہوئ تھی دونوں کی ارے وہ لڑکی یاد ہے جو ایئر پورٹ میں ملی تھی لبنہ میں اسی لبنہ کی بات کر رہی ہوں مجھے پتہ نہیں تمھیں بتانا چاہیۓ یا نہیں مگر اگر تم راضی ہو تو  ہم چلتے ہے زید کے پاس اسکے میوزک سینٹر میں دیکھ لینا وہ کھلی کتاب کی طرح ہے  سب اگل دیگا کیا کہتی ہو؟

جولی اب اینجل کے ہاں کے انتظار میں تھی۔۔

لیکن اگر اس نے منع کیا مطلب وہ تو ماہر ہے میں تو بس یونہی۔۔۔

اینجل نے ذرا گبھراتے ہوۓ کہا۔۔

اسکا مطلب تم تیار ہو آگے بڑھنے کیلئے تو پھر اٹھو تیار ہوجاؤ دیکھ لیگے جو ہوگا چلو۔۔۔

جولی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا تو اینجل بھی مسکراتے ہوۓ اٹھی اور تیار ہونے لگی مگر وہ اب بھی نروس تھی کہ وہ صحیح ہے بھی یا نہیں ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زید آکیسٹرا کے ساتھ لگا ہوا تھا اور مختلف گانوں کے بیک گراؤنڈ میوزک کمپوز کر وا رہا تھا تبھی جولی کو آتا دیکھ کر اپنے کسی ساتھی کو کچھ بتا کر اسکی طرف بڑھا تو جولی کے پیچھے آتی اینجل کو دیکھکر حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی ہوا۔۔

جولی تم یہاں اینجل لٹل سس کیسی ہو ۔۔؟؟

زید کا اسے سس کہنا  اینجل کو بہت اچھا لگا اور وہ ہلکا سا مسکرائ پھر وہ تینوں زید کے ساتھ سینٹر کے اندر لے گیا جہاں کئ  مختلف گانوں کی ریکارڈنگ 
ہو رہی تھی یعنی ہر طرف میوزک دیکھکر اینجل کا چہرہ دھمکنے لگا تھا۔۔۔

زید ان دونوں کو ایک ریکارڈنگ روم میں لے گیا اور ایک سائیڈ پر موجود ٹیبل کے قریب کرسیاں کسکا کر  تینوں بیٹھ چکے تھے زید نے اپنا لیپ ٹاپ آن کرتے ہوۓ بات کا آغاز کیا۔۔

مطلب تم تیار ہو میوزک ورلڈ میں آنے کیلئے تو پلیز میری پارٹنر بن جاؤ پلیز آج سیلیکشن کا لاسٹ ڈے ہے اور یہ پیچھے دیکھ رہی ہو جو عرب میڈم بیٹھی ہے یہ بھی سیلیکشن کمیٹی کی ممبر ہے تو کیا کہتی ہو کچھ سناؤ گی ویسے تم تو کمال گاتی ہو اور ہم تمھیں دیکھنےکیلیے ترستے رہے یعنی بچہ بگل میں اور ڈھونڈھورا شہر میں ارے جلدی کرو وہ چلی نہ جاۓ ۔۔۔

زید اسکے جواب کا انتظار کیے بغیر اٹھا اور اس عرب میڈم سے مصافحہ کے بعد کچھ بات کرنے لگا اور یہاں اینجل کانپ رہی تھی اسنے کانپتے ہوۓ جولی کا ہاتھ پکڑا تو جولی بھی اسکی حالت دیکھ کر ڈر گئ تبھی انکی نظر اس عرب لیڈی پر پڑی جو اٹھکر باہر جانے لگی اور زید کا چہرہ مرجھا چکا تھا۔۔وہ جلدی سے اینجل کے پاس آیا اسکے کانوں میں بلوٹوتھ لگانے لگا جسکے ساتھ مائیک بھی اٹیچ تھا۔

اینجل پلیز کچھ گاؤ پلیز جلدی چلو تم جو گاؤ گی اس پورے سینٹر میں وہ موجود ہر اسپیکر پر وہ آواز گونجی گی پلیز میڈم پر بھی اپنا جادو چلاؤ وہ منع کرکے گئ ہے انھیں مجبور کردو اپنا فیصلہ بدلنے کیلئے چلو ۔۔۔

زید اسکا ہاتھ پکڑے باہر لے آیا مگر اینجل کو اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔۔

تبھی اسکی سماعتوں میں ایک مانوس گانے کی دف کی آواز آئ تو اسنے مڑ کر دیکھا تو اسے کچھ لڑکے دف بجھاتے ہوۓ وہی ناموس گانا گاتے ہوۓ دکھے تو وہ غیر ارادی طور پر انکے قریب دوڑتے ہوۓ گئ اور وہاں سے ایک دف لیکر انکی طرح بجانے لگی تو سارے سینٹر میں دف کی آواز گونجنے لگی زید بھی گانا پہچانے بیک گراؤنڈ میوزک آن کر چکا تھا اب دف اور میوزک کی آواز کے ساتھ اینجل کی آواز بھی آنے لگی تھی جسے جو جہاں تھا وہاں سنکر حیران ہو رہا تھا۔۔۔

لى لى نهارى تعال 
ما حبيبي البي يا
ما حبىبي كيف الحالي
غمبت حياتي في اجمل حيات
.
  

گانا شروع ہوا اور ختم ہونے تک سبکو پاگل بنا چکا تھا 

اینجل گاتے تک توٹھیک تھی مگر گانا ختم ہوتے ہی اپنے آس پاس لوگوں کا ہجوم دیکھکر اور تالیوں کی آوازیں اسے پریشان کرنے لگے تھے وہ رونے کو تھی تبھی جولی جلدی سے آئ اور اسے لیکر باہر لیکر آئ۔۔۔

زید نے سبکو منع کیا تھا کہ کوئ موبائل پر ویڈیو نہیں بناۓگا ان دونوں کے جاتے ہی زید بھی بھاگتا ہوا باہر آیا 

ہے اینجل تم تو چھا گئ یار چلو آج بہت کام ہے اب سیلیکشن تو ہوگئ ہے مگر محنت اب بھی کرنی چلو گھر کر چھوٹے میوزک سینٹر میں تمھیں سارے میجر چیزیں بتانے سے اسٹارٹ کرتے ہے اور شام کو مست سی پارٹی کیا کہتی ہو دونوں لیڈیز !!!!!

زید کے کہنے پر جولی تو بہت خوش ہوئ مگر اینجل ابھی بھی الجھن کا شکار تھی ان بات سے بے خبر کہ اس سینٹر میں وہ بھی موجود تھا جو اسکی آواز کے نام اپنی زندگی کرچکا ہے 

نوفل بھی اپنی ٹیم کے ساتھ اسی سینٹر کے کسی روم میں موجود تھا اور لبنہ اور یمنا بھی یہ سب یہاں  شو کے سلسلے میں ہی آۓ تھے کہ دشمن جان کی آواز سنتے ہی نوفل باہر کاؤنٹر کی طرف بھاگا نوفل کے پیچھے یمنا اور لبنہ بھی دوڑتے ہوۓ آۓ تھے پوری ٹیم حیران ہو چکی تھی مگر یمنا کانپنے لگی تھی کیونکہ اس وقت دیوانوں کی طرح ریسپشینسٹ سے کچھ پوچھ کر سب طرف دوڑتے ہوۓ اپنی زندگی کو ڈھونڈھ رہا تھا لبنہ تو وہی رک گئ تھی مگر یمنا نوفل کو آوازیں دیتی اسکے پیچھے جانے لگی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

زید اینجل اور جولی کے ساتھ اپنے کمرے میں تھا۔جہاں وہ اینجل کو مائیکروفون وغیرہ کا استعمال اور سنگنگ کے کچھ ٹرمس بتا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔۔

چلو آج کیلۓ اتنا کافی ہے ابھی بھی ہمارے پاس ایک ہفتہ ہے ہم تیاری کرلیگے تم یہ سی ڈی رکھلو اس میں جو گانے ہے انکی تیاری کرنا سیلیکشن تم ہی کرنا اوکے میں اپنی مرضی نہیں جاڑو گا ورنہ پھر اکیلا پرفارم کرنا پڑے گا۔۔

زید نے  گہری سانس لی۔۔

کیاں مطلب اکیلے؟؟؟؟

پری نے  حیرت سے پوچھا تو زید نے جولی کی طرف دیکھا تو جولی نفی میں سر ہلانے کے بعد زید سے مخاطب ہوئ ۔۔

کم آن زید بتادو اسے تمھارا دل ہلکا ہو جاۓ گا ۔۔

لبنہ سے تم ملی تھی ایئر پورٹ پہ وہ میری منگیتر ہے ہم ساتھ میں شو آرگانائز کرتے تھے لڑتے بھی تھے اور پھر اگلے پل ایک ہوجاتے مگر ایک دن کسی شو میں گانے کی سیلیکشن پر ہماری اچھی خاصی بحث ہوگئ اور میں اسے ڈی جے ٹیبل پر اکیلا چھوڑ کر شو سے نکل آیا اسکے بڑے ارمان تھے اس شو کو جیتنے کے مگر میرا غصہ کہو یا قسمت یہ نا ہوسکا ہم بات کرلیتے ہے کبھی کبھی مگر اب اسنے اپنی الگ ٹیم بنالی ہے بہت مشہور ہے اسکی ٹیم اور جولی آنٹی کی فیورٹ وہی نوفل سنگر کیو جولی میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟؟؟؟

زید نے غمگین ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے جولی کو چھیڑا تو اینجل بھی مسکرائ تھی۔۔

دیکھو زید مانتی ہوں تم سے عمر میں بہت بڑی ہوں but dont call me Aunty ok.

تینوں ہنس رہے تھے پھر رات کا پروگرام زید اور جولی نے فائینل کیا اور اینجل اور جولی اپنے کمروں میں چلی گئیں تو زید آھل کو بھی رات کے پروگرام کے بارے میں بتانے کیلۓ کال کرنے لگا اور اسے بلایا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوفل کا پاگل پن تب ختم ہوا جب یمنا نے اسے یقین دلایا کہ یہ گانا کوئ ریکارڈنگ ہوگی نوفل گھر تو آگیا تھا مگر اسکا دل نہیں مان رہا تھا ۔۔

یمنا بھی اب کسی نتیجے پر پہنچی تھی مگر ہمت نہیں کر پا رہی تھی مگر آج رات کی پارٹی کے بعد جو لبنہ نے اپنی ٹیم کیلۓ رکھی تھی اور نوفل نے احد کو بھی بلایا تھا ۔یمنا نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اس آواز کی حقیقت نوفل کو بتا دیگی۔۔۔۔

...................................................

قسمت سے آج لبنہ جس کلب میں اپنی ٹیم اور احد کے ساتھ تھی وہی زید بھی اینجل اور جولی کے ساتھ تھا۔۔۔

اینجل نے جولی کے کہنے پر نیوی بلیو کلر کا پلازو  سوٹ پہنا تھا اور اسکے اوپر لیدر کی جیکٹ وہ پیاری لگ رہی تھی ۔یہ تینوں آھل کا انتظار کر رہے تھے۔۔  جولی ڈانس فلور پر ناچتے لوگوکو دیکھتے ہوئ زید سے بولی۔۔

میرا بھی دل کر رہا ہے ناچنے کا۔۔

زید نے فوراً جولی کی طرف دیکھا اور کہا۔۔

تو پھر انتظار کسکا ہے رکو میں نے اینجل کے چمک چلو اور آجکے عربی سانگ کا میش اپ بنایا ہے وہ ڈی جے سے چلواتا ہوں ویسے اینجل تمھارا آئ کیو لیول کتنا ہوگا عربی آتی نہیں اور سنکر گانے گا لیتی ہو اچھا میں آتا ہوں آج بھائ بہن ساتھ ناچے گے اوکے اینجل تیار رہنا آنٹی کے ساتھ ۔۔

زید گیا تو دونوں مسکرائ مگر اینجل نے ڈرتے ہوۓ جولی کو دیکھا اسے ویسے بھی یہ ماحول عجیب لگ رہا تھا۔۔

جولی مجھے نہیں ناچنا تم زید کے ساتھ جاؤ پلیز ۔۔۔

جولی اینجل کی بات سمجھتے ہوۓ زید کو آتا دیکھ اسکے پاس گئ اور اسے لیکر فلور پر گئ اب وہ دونوں ناچتے ہوۓ باتیں کرتے تو کبھی ہنستے ۔۔اینجل وہی سے انھیں دیکھ رہی تھی تبھی کسی نے اسے آواز دی۔۔

اینجل بیٹا آپ یہاں کیاں کر رہی ہے اچھا زید کے ساتھ آئ ہو۔۔

احد نے اینجل سے بات کرتے ہوۓ زید کو دیکھا اور ہاتھ ہلا کر ہاۓ کیاں۔۔

میں اپنے بھتیجے کے دوستوں کے بلانے پر آیا تھا یہاں وہ لوگ کھانا کھا رہے ہیں  میں نے ڈینر کرلیا اور انھیں گڈ باۓ کہکر باہر کی طرف جا رہا تھا تو تمھیں دیکھا تو سوچا ھیلو کہدو۔۔

اینجل جو بیٹا لفظ سنکر احد کو حسرت سے دیکھے جا رہی تھی کوئ جواب نہیں دے رہی تھی۔۔

آپ نے جوائن نہیں کیا ڈانس فلور ویسے میں جوانی میں اکثر کالج یا یونیورسٹی میں اپنے گروپ کا سنگر رہتا تھا ڈانس سے ہمیشہ دور رہا ہوں آھل نے بتایا نہیں تمھیں اسکے ڈیڈ اور میں اچھے فرینڈ اور پارٹنر تھے ہماری ہی میڈیکل کالج میں آھل نے پڑھا ہے اور وہاں آھل کا ڈانس گروپ بہت مشہور تھا کیونکہ انکی ٹیم کا سنگر اکثر میں ہوتا تھا۔۔ہاہا ہا۔۔

احد بولتے بولتے ہنسا تھا مگر اینجل بس اسے دیکھے جا رہی تھی 

وہ دونوں کسی کی نظروں کے حصار میں تھے مگر دونوں کو پتہ نہیں تھا کہ کب سے انھیں کوئ گھور رہا ہے۔۔

ایک بات کہو میرا بھی آج دل چاہ رہا ہے کہ ڈانس کرکے دیکھا جاۓ کیونکہ تمھارا گانا مجھے مجبور کر رہا ہے تو کیا آپ میری مدد کرے گی؟؟؟

احد نے اینجل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اینجل نے ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر احد کا ہاتھ تھام لیا کہ ایسا نہ ہو یہ پل اسکے ہاتھ سے چھن جاۓ ۔۔۔احد اپنی عمر سے کافی ینگ اور پرکشش پرسنالٹی کا مالک تھا اسلیے دیکھنے والا اب شاید سیخ پا ہوچکا تھا۔۔

اینجل اب اسکے ساتھ فلور پر تھی احد نے اسکا ہاتھ تھامے ہوۓ گانےپر ہلکا پھلکا ناچنے لگا مگر اینجل کے کانوں میں فلور کا شور نہیں کچھ اور چل رہا تھا

ابھی مجھ میں کہیں باقی تھوڑی سی ہے زندگی 
جگی دھڑکن نئ جانا زندہ ہوں میں تو ابھی
کچھ ایسی لگن اس لمحے میں ہے 
یہ لمحہ کہاں تھا میرا 
اب ہے سامنے ایسے چھو لو ذرا
مر جاؤں یا جی لوں ذرا
خوشیاں جھوم لوں یا رو لوں ذرا
مر جاؤں یا جی لو ذرا۔

پتہ ہے بیٹا تمھاری آواز کسی کی آواز سے مجھے ملتی جلتی لگتی ہے وہ بھی اچھا گاتی تھی بلکہ بہت اچھا میری خواہش ہے کہ تم بھی کبھی اسکا وہ گانا گاؤ جو میں سنکر آج تک گنگناتا ہوں زید کے پاس آھل کی پرفارمنس کی ویڈیوز ہوگی تم اس میں دیکھ لینا کہ میں بھی برا سنگر نہیں ہوں ارے کیاں ہوا تم رو رہی ہو تم ٹھیک تو ہو۔۔؟؟؟

اینجل کی پلکیں بھیگ چکی تھی احد کے سوال پر اسنے اپنے لب ابھی کھولے ہی تھے 

با!!!!

کہ ایک تیز تھپڑ اسکے گال پر پڑا وہ گرنے کو تھی تو تھپڑ مارنے والے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور دونوں کی نظریں ملی۔۔۔۔۔۔۔۔

آھل جو نہ جانے کب سے اینجل اور احد کو بات کرتے دیکھ رہا تھا اور برداشت کیے ہوۓ تھا وہ یہ بھول گیا تھا کہ احد کی پرسنالٹی بھلے پرکشش تھی مگر  عمر کے لحاظ سے اینجل اور احد باپ بیٹی جیسے ہوگے اور احد کا
 ایسا کوئ غلط نیچر بھی نہیں تھا وہ بھول گیا تھا کہ وہ احد کو پرسنلی جانتا ہے ۔۔۔

آھل کا برداشت تب ختم ہوا جب اینجل احد کے ساتھ ڈانس فلور پر آئ  اور کچھ منچلے انھیں دیکھکر کمنٹس کرنے لگے 

واؤ یار کیا کپل ہے وٹ آ ڈیشنگ مین ود آ بیوٹی باربی۔۔۔

یہ سننا تھا کہ آھل خود کو روک نہیں پایا اور غصہ سے اسٹیج پر جاکے اینجل کو ایک تپھڑ مارا مگر اینجل جو شاید احد کو بابا کہہ کر پکارنے والی تھی اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ تپھڑ کی شدت سے وہ گرنے کو تھی کہ آھل نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور دونوں کی نظریں کچھ سیکنڈ کیلۓ ہی ملی مگر دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں بہت کچھ دیکھ لیا تھا۔۔

آھل اینجل کا ہاتھ تھامے اسے کلب سے باہر لے جانے لگا تو احد کی آواز پر رکا۔۔

ہے آھل کیا ہوا تم ::::

احد کی بات ادھوری چھوڑے وہ باہر کی طرف تیزی سے جانے لگا اسکی گرفت اینجل کے ہاتھوں پہ کتنی سخت ہے اسے اندازہ نہیں تھا۔۔زید اور جولی بھی سب دیکھ چکے تھے اور اب آھل کے پیچھے آۓ جبکہ احد آھل کی کیفیت سمجھتے ہوۓ مسکرانے لگا ۔۔

بے وقوف !!!!
احد کہتے ہوۓ مسکرا کر فلور سے نیچھے اترنے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زید اور جولی باہر پہنچتے اس سے پہلے ہی آھل اینجل کو اپنی کار کے فرنٹ سیٹ پر غصہ سے بٹھا کر زور سے کار کا دروازہ بند کرکے کار میں بیٹھ کر نکل چکا تھا۔۔

سارے رستے وہ تیز ڈرائیونگ کرتا رہا اس نے ایک دفعہ بھی اینجل کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔

مگر اینجل آنسو بہاتے ہوۓ  اک نظر اسکے غصہ سے ہوۓ لال چہرے اور نیلی  آنکھوں کو دیکھ کر ڈر گئ تھی اور دوبارہ دیکھتے ہوۓ ڈر رہی تھی۔۔۔

گھر پہنچ کر اسنے گاڑی وہی باہر روکی اور گارڈ کو چابی دیکر اب وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ کی طرف جانے لگا۔۔اسے آتا دیکھ اینجل سہم چکی تھی مگر اس نے اب بھی اینجل کی طرف نہیں دیکھا تھا اور فرنٹ ڈور کھول کر دوبارہ اسکا ہاتھ سختی سے پکڑتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف لے جانے لگا تو اینجل مزید گبھرانے لگی مگر وہ اسے کمرے میں لاکر صوفے پر پھینکے کے انداز سے بٹھا کر خود کمرے کے چکر لگانے لگا۔۔

اینجل اسے اسطرح دیکھ کر ڈر رہی تھی تبھی وہ اینجل کے پاس آیا اور اسکے وہی ہاتھ دوبارہ پکڑ کر بالکل اپنے سامنے کھڑا کیا تو اینجل کی آنکھیں ہاتھ کے درد سے مزید بہنے لگی۔۔

کیا کہا تھا میں نے تمھیں ہاں بھول گئ کیا کر رہی تھی ڈانس فلور پر ؟ بتاؤ احد سے اتنی آٹیچمنٹ کیوں بتاؤ چھپ کیوں ہو ہاں 

وہ اسکا پکڑا ہوا ہاتھ مزید اپنی جانب کھینچتے ہوۓ پوچھنے لگا تو اینجل کی درد کے مارے چیخ نکلی

آہ!!!!!!

مج!!!مجھے بہت دکھ رہا ہے بہت !!

اینجل یہ کہہ کر رونے لگی تو آھل نے اسے غور سے دیکھا اسکی آنکھیں رو کر سوج چکی تھی اور نچلے ہونٹ کے کنارے پر ہلکا خون جما ہوا تھا جو شاید تپھڑ کی وجہ سے ہوا تھا اور اب وہ اسکے تھامے ہوۓ ہاتھ کے گرد گرفت ڈھیلی کر کے اسے بس دیکھے جا رہا تھا مگر اینجل اب بھی سر جھکاۓ رو رہی تھی ۔۔

آھل اسے اپنے دل میں آئ ہوئ  بات کہنے لگا تھا تبھی اسکا موبائل بجا تو اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اینجل سے ذرا دور کھڑے ہوکر موبائل نکال کر کالر نیم دیکھ کر اسکا کھویا ہوا غصہ واپس اس پر حاوی ہو چکا تھا اسنے ایک نظر اینجل کی طرف دیکھا اور موبائل لیکر بالکونی میں آیا اور کال آٹھا کر ھیلو کہا اسکی آواز میں غصہ سامنے والے کو محسوس ہوا مگر وہ پھر بھی تحمل سے بات کرنے لگا

آھل  تمھیں بیٹا کہنے کی عمر ہے میری وہ الگ بات ہے کہ قدرت اب تک مہربان ہے ہاہا ہا

اسکی ہنسی آھل کو زہر لگنے لگی تو وہ خود کو ظبط کرتے ہوۓ بولا

کال کیوں کی ڈاکٹر احد شاہ میر!!!

اوہ اتنا برا لگا تمھیں کہ تم مجھے میرا پورا نام لیکر مخاطب کر رہے ہو افسوس ہو رہا ہے مجھے کہ تم مجھے اچھی طرح جاننے کے باوجود بھی ایسا بیہیو کر رہے ہو خیر میں نے ایسی لیا کال کی کہ میں کار میں بیٹھا گھر کی طرف جا ہی رہا تھا کہ میری نظر ایک چاکلیٹ اشتہار پر پڑی پتہ ہے اس پہ کیا لکھا تھا

dont afraid i m  yours plz fall in love again

 
تمھیں پتہ ہے مجھے یہی چاکلیٹ کھانا ہے وہ بھی اب تم مجھے کھلاؤ گے مبارک ہو بیٹا تمھیں پیار ہو گیا ہے اور مجھے کچھ بھی برا نہیں لگا اوکے اور ایک بات اور اینجل میرے لیے میری بیٹی جیسی ہے تو پھر جلدی تیاری کرو مجھے چاکلیٹ کھلانے کی میں ڈرائیو کر رہا ہوں بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔۔۔

احد سے بات کرتے ہوۓ اسکی نظر سامنے اسی بورڈ پر پڑی اسی وقت زید اور جولی اسکے کمرے میں آگۓ تھے جولی کو دیکھتے ہی اینجل اسکے پاس جاکر گلے لگ کر مزید رونے لگی تھی جولی نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور سائیڈ ٹیبل سے جگ گلاس لینے کیلۓ ہاتھ بڑھایا تاکہ اسے پانی پلا سکے مگر اسکا ہاتھ سوئچ پر جا لگا تو بیڈ کراؤن پر سارہ کی مسکراتی تصویر پر اینجل کی نظر پڑی اور وہ مارے حیرت کے رونا بھول گئ اور تصویر کو بنا پلکیں جھپکاۓ  دیکھنے لگی.......

جولی کو بھی حیرانی ہو رہی تھی کیونکہ آھل اپنے کمرے میں کسی کو آنے نہیں دیتا تھا اسلۓ اسے سارہ کی تصویر کا کوئ آئیڈیا نہیں تھا اور اب وہ اینجل کا حیرت میں ڈوبا چہرہ دیکھ رہی تھی

جبکہ دوسری طرف زید آھل کے پاس کھڑا تھا اور اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا جس میں اسے عجیب سی بے چینی نظر آ رہی تھی۔۔

بھائ کیا ہوا ہے آپ کو آپ ایسے ری اکٹ کیوں کر رہے ہیں کیاں پریشانی ہے مجھے پلیز بتاۓ  مجھے آپکو اسطرح دیکھنا اچھا نہیں لگ رہا پلیز بتاۓ کیا بات ہے؟؟؟؟

زید شاید اسکے احساسات سمجھ گیا تھا مگر پھر بھی اسکے منہ سے سننا چاہ رہا تھا۔۔۔

آھل کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوۓ اسنے زید کی طرف  دیکھا تو زید اسکے چہرے کی اداسی دیکھکر اور پریشان ہوا۔۔۔

زید میں سارہ کو دھوکا دے چکا ہوں میں سارہ کو بھول چکا ہوں وہ مجھے اب یاد نہیں آتی میں نے اسے سارہ کا چہرہ دیا ہے مگر یہ مجھے سارہ  کی طرح نہیں لگتی ۔۔۔مجھے اینجل کسی کے ساتھ برداشت نہیں ہوتی مجھے دوسروں کا اسکو دیکھنا برداشت نہیں یہ سارہ نہیں ہے یہ تو ایک پیاری سی اینجل ہے پری ہے افففف مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔

آھل بالکونی سے کمرے میں آیا جبکہ زید وہی کھڑا اپنے بھائ کی حالت پر حیران تھا۔

آھل کمرے میں آیا تو اینجل وہاں نہیں تھی جولی اسے لے جا چکی تھی تو آھل اپنے آنسوں پونچھتا ڈریسنگ کی طرف بڑھنے لگا پھر کچھ سوچ کر زید کو بلایا اور آئنمنٹ اور پین کلر دیکر جولی کو دینے کیلئے کہا ۔۔زید کمرے سے نکلنے لگا تو آھل نے اسے آواز دی۔

زید !!!!

جی بھائ !!

زید جب تک وہ خود اظہار نہیں کرے تم اس سے کوئ بات مت کرنا پلیز کیونکہ اسے بھی احساس ہوگیا ہوگا ۔۔اور اسکا ہاتھ جولی سے کہنا کہ دیکھ لے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھا جبکہ زید اینجل کے روم کی طرف۔۔۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

اینجل اب بھی گم سم بیٹھی تھی وہ پین کلر لیکر چینج کرکے آئ اور جولی نے اسے آئنمنٹ لگائی اور کافی بنانے چلے گئ۔۔

جولی کافی کے مگز لیکر آئ تو زید کا بتایا کہ وہ اپنے روم میں شو کی تیاری کر رہا ہے اور اینجل سے وہی چلنے کا کہنے لگی۔۔

چلو نہ چلتے ہے ذرا مائینڈ کنورٹ ہوجائے گا بہت بے چینی ہو رہی ہے زید بھی  شو کی تیاری کرنے کیلئے کیا پتہ تمھارا انتظار کر رہا ہو۔

جولی کے ایسا کہنے پر اینجل نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تو جولی پھر سے بولنے لگی۔

دیکھوں اس گھر میں فلحال بقول زید کے میں ہی آنٹی ہوں تو پلیز اس آنٹی کی عمر کا ہی لحاظ کرلو اور تمھیں جو پوچھنا ہوگا تم زید سے پوچھ لینا۔۔۔

جولی نے اینجل سے روتی شکل بناکر پوچھا تو اینجل نہ چاہتے ہوۓ بھی جانے کیلۓ راضی ہوئ ۔کیونکہ وہ بھی اب سارہ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی اور آھل کا ایسا ری اکٹ کرنا بھی۔۔

زید اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہا تھا جب جولی نے دروازہ نوک کرکے اندر آنے کی اجازت مانگی تو زید نے آنے کا کہہ کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ دیا۔

زید کیا کر رہے ہو ہم نے ڈسٹرب تو نہیں کیاں۔۔۔۔؟؟؟؟
جولی چیئر پر بیٹھتی ہوئ  پوچھنے لگی 

نہیں بلکہ میں خود اپنی بہن کی طبیعت پوچھنے کیلئے آنے والا تھا اور احد سر اور بھائ کے پروگرام کی سی ڈی دینے کیونکہ احد سر نے مجھے کال کی تھی کہ تمھیں سی ڈی دوں اور وہ تم سے بات بھی کرنا چاہتے تھے اگر تم کہو تو کال ملا کر دوں ؟؟؟

زید نے موبائل اٹھا کر پوچھا تو اینجل جو احد کا نام سنکر ویسے ہی خوش ہو چکی تھی فوراً ہاں بول دیا تو زید نے کال ملا کر اسے موبائل پکڑایا اور جولی کو کافی بنانے کے بہانے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔۔

جولی کو کچھ عجیب لگا تو باہر آتے ہی زید سے پوچھا۔۔۔

یہ کیاں تھا ہاں تم ہمیں باہر کیو لے آۓ ابھی تو تم نے کافی پی تھی ۔۔

زید نے ایک لمبی سانس لی اور جولی کی طرف مسکراتے ہوۓ دیکھکر کہنے لگا۔۔

کیونکہ میں نے ہی احد سر سے کہا ہے اینجل کو اپنے طریقے سے بتانے کیلۓ کہ بھائ کو اینجل سے پیار ہو گیا ہے ۔۔۔

جولی یہ سنکر حیرت میں پڑ گئ تھی اور زید اب اسے اپنے اور آھل کے درمیان ہونی والی ساری باتیں بتا رہا تھا  جسے سنکر جولی کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فون کی بیل جا رہی تھی اور اینجل کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔

ھیلو !!!کیسی ہو بیٹا؟؟

احد کی آواز سنتے ہی  اینجل کا چہرہ کھل چکا تھا مگر وہ حیران تھی کہ احد کو کیسے پتہ چلا کہ فون   پر اینجل ہی ہوگی۔

میں ٹھیک ہوں::

اینجل نے آہستہ سے جواب دیا۔۔۔

گڈ !!!بیٹا میں گھما پھرا کر بات نہیں کرتا اسلۓ سیدھا کچھ پوچھتا ہو کیا تم آھل کو پسند کرتی ہو؟؟؟

احد کا یہ سوال اینجل کو چونکا گیا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے 

جی!!!

اینجل اتنا ہی بول سکی تھی کہ احد نے پھر سے بولنا شروع کیاں 

اچھا میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمھیں عجیب لگ رہا ہوگا اسلیے میں وائس میسج بھیجتا ہوں اسے سن لو لیکن جواب میں  اگر ڈن لکھ کرسینڈکر دوگی تو مجھے اچھا لگے گا اوکے باۓ اور پہلے میسج سن لو۔۔۔

احد نے کال کاٹ دی تھی اور وائس میسج کا نوٹیفیکیشن اسکرین پر دیکھ کر اینجل نے فوراً او کے کلک کیاں۔۔۔۔

اچھا اینجل بیٹا جو کہہ رہا ہوں اسے دل سے سننا اوکے ۔میں آھل کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔تم سارہ کے بارے میں جاننا چاہتی ہو تو سنو سارہ آھل کا ماضی تھی دونوں ایک دوسرے بہت چاہتے تھے مگر قسمت میں انکا ساتھ نہیں تھا سارہ کے معاملے میں پہل سارہ نے کی تھی وہ بہت اچھی لڑکی تھی مگر تمھارا ایکسیڈنٹ اور سرجری سب تمھیں اچھے سے پتہ ہے تمھارا چہرہ صرف سارہ کے جیسا ہے مگر آھل تمھیں سارہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ اینجل کو چاہتا ہے تمھیں دیوانوں کی طرح چاہنے لگا ہے سارہ کو بھول چکا ہے ۔
دیکھو بیٹا میں تم پر کوئ زور نہیں دے رہا مگر میں نے آھل کی آنکھوں میں جو شدت اور محبت تمھارے لیے دیکھی ہے وہ سارہ کیلۓ کبھی نہیں دیکھی۔۔
اگر تم اس سے اظہار کرنا چاہو اور شرم آرہی ہو تو زید کی دی ہوئ سی ڈی میں ہمارے اسٹیج شو کا پہلا گانا جو مجھے بھی بہت پسند ہے اور میں تمھاری آواز میں سننا بھی چاہتا ہوں وہ گا لینا اسکے لیے بس اظہار ہوگیا سمجھو۔۔۔

دیکھوں بیٹا اگر میری اپنی بیٹی ہوتی ناتو اسکے لیے بھی میرا پہلا انتخاب آھل ہی ہوتا پلیز بیٹا دل سے سوچنا اور اسے ٹوٹنے سے بچالینا۔
باۓ اینڈ گڈ نا ئیٹ بیٹا۔۔

ریکارڈنگ ختم ہوئ تو اینجل کی آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھی وہ زید کی دی ہوئ سی ڈی لیکر اپنے کمرے میں آئ اور بیڈ پر لیٹ کر اب آھل کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اسکے کانوں میں احد کا وہ جملہ بھی گونجا تھا۔۔

اگر میری اپنی بیٹی ہوتی نا تو  اسکے لیے بھی میرا پہلا انتخاب آھل ہی ہوتا۔۔

جاری ہے۔۔۔🌹
💞💕🌹🌷🌼💐⚘⚘

Novel 

The Black Angel 

#کالی_پری 🌹

از محمد شارق

قسط 9 


نوفل جب سے میوزک سینٹر سے آیا تھا تب سے چھپ تھا ۔کلب میں بھی وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کر رہا تھا اور کانوں میں ہینڈ فری لگاۓ اپنے اور اپنے دشمن جان کی  ساتھ میش اپ کیا ہوۓ چار سال پرانے گانے سن رہا تھا۔۔۔

جب کلب سے واپس آیا تب بھی اسکا یہی حال تھا لبنہ نے ریہرسل کیلئے بلایا تو تب بھی منع کیا۔۔۔یمنا جو کب سے اسکی حالت دیکھ رہی تھی اسے اب کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔

یمنا اپنے کمرے میں تھی اور لبنہ بھی اسکے ساتھ تھی ۔۔دونوں سونے کی تیاری کر رہی تھی کہ یمنا کے موبائل پر اسکی امی یعنی  زیبا کی کال آتی ہے جو اپنے اور یمنا کے والد کی آنے کا بتاتی ہے۔۔۔

ھیلو امی کیسی ہے آپ؟؟؟

میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ اور نوفل اور باقی سب کیسے ہے؟؟

نوفل کا نام سنکر یمنا کاچہرہ اتر گیا...

ٹھیک  سب ٹھیک ہے اور آپ بتاۓ ابو کیسے ہے؟

وہ ٹھیک ہے ۔میں نے اسلیے فون کیا کہ میں اور تمھارے ابو کل دبئ آرہے ہیں مگر دو دن بعد ہی واپسی ہوگی ہماری کیونکہ تمھارے ابو کسی بزنس میٹنگ کیلئے آرہے ہے ھیلو !!!ھیلو !!!

کال اچانک کٹ گئ تھی ۔۔۔

اففو ایک تو یہ پاکستانی سمز کہیں بھی نہیں چلتی میں چھت پر جاکر دیکھتی ہوں ۔۔۔۔

یمنا۔ لبنہ کو بتا کر چھت پر آئ تو وہاں  نوفل کا حال دیکر اسکی حالت خراب ہونے لگی جو شدید ٹھنڈ میں  بغیر جیکٹ اور سویٹر کے ہالف آستین کی ٹی شرٹ پہنے کانوں میں ہینڈ فری لگاۓ کرسی پر سو رہا تھا۔۔۔

یمنا کا برداشت ختم ہوچکا تھا۔۔وہ غم و غصہ کی کیفیت میں نوفل کے قریب گئ اور اسکے کانوں سے ہینڈ فری کھینچ لیے ۔نوفل ایک دم سے اٹھا اور یمنا کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوۓ چلایا تھا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے یمنا!!!!!

اسکی دھاڑ سنکر لبنہ سمیت اسکی ٹیم کے لڑکے بھی ایک ایک کرکے چھت پر آنے لگے تھے ۔۔

کیاں بات ہے نوفل کیو اسطرح چلا رہے ہو؟؟؟

لبنہ یمنا کے پاس آکر نوفل سے پوچھنے لگی تو  نوفل نے لبنہ کو بھی اسی انداز میں دیکھا۔۔

یہ مجھ سے نہیں یمنا سے پوچھو کہ جسنے مجھے چلانے پر مجبور کیا۔۔۔

اب سبکی نظریں یمنا پر تھی ۔۔۔

یمنا اپنے آنسو صاف کرتی ہوئ نوفل کے پاس آئ 

نوفل یاد ہے جب انجانی سحر بھری آواز کے ساتھ تمھارا البم بنایا تھا تو لبنہ نے کیا کہاں تھا کہ اس جادوئ آواز میں کوئ ماتم کرتا گانا ہوتا تو البم مزید اچھا ہوتا تو سنو میرے پاس اسکا ماتم موجود تھا جیسے تم نے خود مجبور کردیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے ہی اپنی موت کا ماتم خود کرکے مرے کیونکہ اسکی موت سے کسی کو کوئ فرق نہیں پڑنے والا تھا اور اسے مار کر آج قدرت کا انصاف دیکھو تم بھی پل پل مر رہے ہو اور مجھ سے یہ نہیں دیکھا جا رہا۔۔

یمنا یہ کہہ کر رونے لگی تو لبنہ نے اسے کرسی پر بٹھا دیا ۔۔۔

کیا بکواس کر رہی ہو۔۔؟؟؟؟!!!!!

نوفل دوبارہ چلایا تھا تو یمنا نے اپنے موبائل سے ایک ویڈیو چلا کر نوفل کی طرف بڑھائ نوفل نے غصہ سے موبائل لے تو لیا مگر ویڈیو دیکھتے ہوۓ اسکے چہرے پر اب غصہ کے بجاۓ غم و حیرت نے لے لیتی

ویڈیو میں پری اور سنبل تھے جس میں پہلے سنبل کی آواز آتی ہے۔۔

 
پری کیا ہوا بتاؤ  تو سہی نا؟؟
سنبل تم جانے سے پہلے گاناسنانے کو نہیں کہونگی؟؟؟؟پری روتے ہوۓ سنبل کے گلے لگتی ہے اور سنبل کی آنکھیں بھی بھیگ جاتی ہے
سناؤ پری سناؤ میں سننا چاہتی ہوں
دی نہیں دعا بھلے 
نہ دی کبھی بد دعا
نہ خفا ہوۓ نہ ہم
ہوۓ کبھی بے وفا
تم مگر کیو خفا ہوگئے 
بے وفا ہوگئے 
کہ تم سے جدا ہوکے ہم
تباہ ہوگئےتباہ  ہوگۓ
نوفل جو دوستوں کے ساتھ کھیتوں کی سیر کو نکلا تھا یہ آواز سنتے ہی اسکا تعاقب کرنے لگتا ہے اور تیز بارش شروع ہو جاتی ہے

سجدہ میں ہم نے مانگا تھا
عمر بھی ہماری لگ جاۓ تم کو
خود سے ہی توبہ کرتے تھے 
نظرنہ ہماری لگ جاۓ تم کو
ہم مگر ناگوارہ تمھیں کسطرح ہوگئے 
کہ تم سے جداہوکے ہم 
تباہ ہوگئے تباہ ہوگئے 

 
پری چلو گھر بارش اب تیز ہوتی جا رہی ہے۔۔

نوفل اب کرسی پر گر سا گیا تھا مگر پھر دوسری ویڈیو چلی۔۔
اور پھر سے سنبل کی آواز 

 
پری یاد ہے تو نے نوفل کیلۓ ایک گانا سنایا تھا مجھے کہ جب نوفل تمھارا ہوجائے گا تو وہ وہی گانا گآتا نظر آۓ گا چلو نہ سناؤ نہ مجھے بہت پسند ہے پلیز پلیز ۔۔۔
پری مسکرانے لگتی ہے۔۔
ہاں وہ وہی گاتا نظر آۓ گا،،،،
تو ہی تو جنت میری
تو ہی میرا جنون 
تو ہی تو منت میری
تو ہی روح کا سکون
تو ہی انکھیوں کی ٹھنڈک
تو ہی دل کی ہے دستک 
اور کچھ نہ جانوں میں 
بس اتنا ہی جانوں
تو میرے دل میں رہتا ہے
یارا میں کیاں کروں
رب کے آگے سر جھکتا ہے
یارا میں کیاں کروں
کیسی ہے یہ دوری 
کیسی مجبوری 
میں نے نظروں سے 
تجھے چھوں لیا
کبھی تیری خوشبو 
کبھی تیری باتیں 
بن مانگے یہ جہاں پالیا
تو ہی دل کی ہے رونق
تو ہی میری ہے دولت
اور کچھ نہ مانوں میں ۔
بس اتنا ہی مانوں
تو  میرے دل میں رہتا ہے 
یارا میں کیاں کروں
رب کے آگے سر جھکتا ہے
یارا میں کیاں کروں
رب نے بنا دی جوڑییییییی 
گاتے گاتے پری رونے لگتی ہے اور سنبل کے گلے لگ جاتی ہے سنبل کی آنکھیں بھی نم ہوتی ہے 

نوفل اب موبائل اپنے گود میں رکھے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا ہوا تھا تو لبنہ یمنا کو لیکر جانے لگی تو یمنا رکی اور پلٹ کر نوفل کے پاس آکر بیٹھ کر اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تو نوفل کا روتا چہرہ دیکھ کر یمنا کی آنکھوں سے بھی آنسوں نکل پڑے۔۔

نوفل تم اتنے عظیم نہیں ہو جو ہر کسی کی محبت ٹکراؤ مگر اتنے عظیم ہو کہ تم سے محبت ہو جاۓ اور وہ مجھے ہو چکی ہے تم سے ۔۔پہلے تو میں خالہ اور امی کی وجہ سے بس تمھیں پسند کرتی تھی مگر اب مر جاؤنگی اگر تم نے مجھے ٹکرایا ۔۔

یمنا یہ کہہ کر روتے ہوۓ وہاں سے چلی گئ جبکہ لبنہ نوفل کو دیکھکر اسکے پاس آئ ۔۔

دیکھوں نوفل مجھے تمھارے میٹر میں بولنے کا حق نہیں مگر لبنہ میری فرینڈ بن چکی ہے اور میں نے اسے تمھارے لیے ہمیشہ سنسیئر دیکھا ہے اور پتہ ہے زید بھی مجھ سے ہمیشہ کہتا تھا۔۔
محبت اس سے کرو جو تم سے محبت کرے تم ایک محبت کھو چکے ہو پلیز دوبارہ ایسا ہونا مت دینا اوکے سوچو مت جلدی کرو ۔۔

یہ کہہ کر لبنہ اپنے کمرے میں آئ اور زید کو کال کرکے احد کا نمبر مانگنے لگی

مگر نوفل اب یمنا اور لبنہ کی کہی ہوئ باتوں پر غور کر رہا تھا۔

لبنہ زید کو کال کرکے احد کا نمبر مانگ رہی تھی جس پر زید نے حیران ہوکر وجہ پوچھی تو لبنہ نے نوفل اور یمنا کے بارے میں سب بتادیا۔۔۔مگر صرف اتنا کہ یمنا نوفل کو چاہنے لگی ہے پری کا کوئ ذکر نہیں کیا تھا۔۔

اوہ مجھے اچھا لگ رہا ہے کہ تمھیں انکی فکر ہے،،،

زید نے مسکراتے ہوۓ لبنہ سے کہا۔۔۔

پتہ نہیں مگر مجھے شو کی بہت فکر ہو رہی ہے میں دوبارہ ہارنا نہیں چاہتی اور نہ اسٹیج پر اکیلا رہنا چاہتی ہو اچھا شکریہ نمبر کیلئے ۔۔۔۔

لبنہ کال کاٹ کر اب احد کا نمبر ملا کر اسے ساری بات بتاچکی تھی اور احد نےکچھ سوچ کر فہد کو کال کی تھی ۔۔

💐🌸🌷🍀🌹🌻🌺🍁🌼

احد اسپیشل 


💐🌸🌷🍀🌹🌻🌺🌼🌼

احد  رات کو سو نہیں پا رہا تھا اسے عجیب سی بے چینی نے گھیرا ہوا تھا ۔۔

اس نے اپنا وولٹ نکالا اور اس میں موجود سلونی کی تصویر دیکھنے لگا جو اسنے تب کھینچی تھی جب وہ اکثر سلونی کا گانا سننے کیلئے کھیتوں کی طرف جاتا تھا۔۔۔

وہ اپنے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر موجود اپنی پرانی ڈائری اٹھا کر اسکے صفحے پلٹنے لگا کیونکہ وہ اکثر جب بھی اداس ہوتا یا اسے کسی کی یاد آتی وہ یہی ڈائری پڑھتا جس میں اسنے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت یادیں قید کی ہوئ تھی ۔۔

وہ ڈائری کے اس صفحے کو پکڑا ہوا تھا جب اسنے سلونی کو پہلی بار دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا آپ نے جو کہا میں نے کیا ڈاکٹر بن کر آیا ہوں تو اب ذرا میری چھوٹی سی خواہش پر اتنا برہم کیو؟؟؟

احد شاہ زمان کے آگے منتیں کر رہا تھا۔۔

یہ کیسی بچکانا خواہش  ہے  سنگر بننے کی مجھے پسند نہیں اور آج کے بعد اس بارے میں کوئ بات نہیں ہوگی سمجھے !!!!

شاہ زمان تنبیہ کرتا وہاں سے جا چکا تھا اور احد غصہ سے حویلی سے نکل کر اپنی جیپ میں بیٹھ کر باہر نکل گیا۔۔

وہ  جیپ کو کچھے راستوں پر  چلاتے چلاتے تھک گیا تھا۔ کھیتوں کے قریب جیپ روک کر اسٹرنگ پر سر ٹھکا کر آنکھیں بند کرلی تھی اسنے تبھی اسے ایک سریلی آواز آنے لگی تو وہ جیپ سے اتر کر آواز کا تعاقب کرنے لگا۔۔

سلونی اپنی دادی اور باقی عورتوں کے ساتھ  شاہ زمان کے ایکڑوں تک پھیلے کھیتوں میں کام کرتی تھی اور اکثر وہ کام کرتے ہوۓ بھی گانے گاتی تو اکثر ساتھ کام کرنے والی عورتوں کے اسرار پر۔۔۔

آج بھی وہ کھیتوں میں کام کرتے ہوۓ  اپنی سریلی آواز کا جادو سب طرف پھیلا رہی تھی جس کے سحر میں احد بھی کھنچتا ہوا اسی طرف آرہا تھا۔۔۔

کیوں  ہوا آج یوں گا رہی ہے 
کیوں فضاء رنگ چھلکا رہی ہے
میرے دل بتا آج ہونا ہے کیا۔
چاندنی دن میں کیوں چھا رہی ہے 
زندگی کس طرف جا رہی ہے
میرے دل بتا آج ہونا ہے کیا
کیوں  ہوا آج یوں گا رہی ہے

احد نے بہت کوشش کی مگر اسے کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں کے پاس جانا اچھا نہیں لگا مگر سلونی اسے دیکھ چکی تھی اور من ہی من مسکرا رہی تھی وہ پہلی  نظر میں اپنا دل احد کو دے چکی تھی 

۔۔۔۔۔۔🌺🌻🌹🍀🌷🌸💐🍁🌼🌼
اب احد کا روز کا معمول بن گیا تھا وہ مخصوص وقت پر کھیتوں کے قریب آتا اور  اسکے آتے ہی سلونی گانے لگتی ۔۔
احد اب سمجھ چکا تھا کہ گانے والی کو پتہ چل چکا ہے کہ وہ اسکے گانوں کیلئے آتا ہے اسلۓ اسلیے احد کے آتے ہی وہ گانے لگتی ہے۔۔
احد کا اسے دیکھنے کا تجسس بڑھ چکا تھا۔
💐🌸🌷🍀🌹🌻🌺🌼🌼🌼

ایک دن احد آیا تو کھیتوں میں کوئ نظر نہیں آیا وہ پریشان ہوا کچھ دیر کھڑا رہ کر وہ جانے لگا تو اسے ایک لڑکی کھیتوں کے درمیان سے نکلتی نظر آئ جو شاید احد کو جاتا دیکھکر اب خود بھی جانے لگی تھی تو احد نے اسے آواز دی ۔۔

اے لڑکی سنو !!!

احد کی آواز سنکر وہ بھاگنے لگی تو احد بھی اسکے پیچھے بھاگا ۔۔وہ کافی تیزی سے بھاگ رہی تھی مگر احد نے بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے وہ کھیتوں سے آگے نکل کر تالاب کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس لڑکی کو رکنا پڑا ۔۔احد بھی اسے رکتا دیکھکر ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ کر اپنا تنفس بحال کرنے لگا ۔

اوہ میڈم کیا مارنے کا ارادہ ہے کیوں بھاگ رہی ہو؟

احد کے سوال پر وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر احد کو اسکی سسکیوں کی آواز آنے لگی۔۔تو اٹھکر اسکے قریب گیا ۔۔

کیا بات ہے کیوں رو رہی  ہو؟

احد اسکے اتنے قریب تھا کہ وہ مڑتے ہی احد سے ٹھکرا گئ اور چیخنے لگی تو احد نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔

ارے کیوں چلا رہی ہو کیا میں بھوت ہوں؟۔

وہ اپنی دفاع میں احد سے زور آزمائ کرنے لگی تو احد نے اسے گھما کر اسکی پشت اپنے سینے سے لگا کر اپنا چہرہ اسکی دائیں کان کے اتنے قریب کرلیا تھا کہ اسکی زورآزمائیوں سے بار بار اسکے گال احد کے گال سے ٹکراتے ۔۔۔

سنو اگر تم ایسے چلاؤ گی تو لوگ مجھے غلط سمجھے گے میں احد ہوں شاہ زمان کا بیٹا پلیز چیخنا بند کرو ورنہ میں تمھارا منہ ایسے ہی پکڑے رہوں گا پلیز مجھے بات کرنی ہے تم سے  
اب بتاؤ چھپ ہوگی نا۔۔۔۔

احد کی بات سنکر وہ احد کی جانب دیکنھے لگی وہ اسے کسی سلطنت کا شہزاده لگا اور احد بھی اب اسے غور سے دیکھ رہا تھا سانولی رنگت اور چہرہ کا ہر نقش ایسا کہ جو دیکھے وہ دوبارہ دیکھنے کی چاہ کرے۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو بغیر پلکیں جھپکاۓ دیکھتے رہے تو وہ احد کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوۓ پلکیں جھکا گئ تو احدنے بھی اب اسکے منہ کے گرد اپنے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کردی ۔

کیا نام ہے تمھارا ؟؟

احد نے اب بھی اسے چھوڑا نہیں تھا بس منہ کے گرد کا گھیرا ہٹا دیا تھا۔۔

ہم لوگوں میں لڑکا لڑکی بہاۓ بنا بات نہیں کرتے !!!

احد اسکی اس بات پر حیران ہوا اور اسے ہنسی بھی آئ تو اسے شرارت سوجھی۔۔

۔
اچھا !!مگر مجھے تو بات کرنی ہے تو پھر بات کرنے کیلئے  چلو نکاح کر لیتے ہیں ۔۔

احد کی اس بات پر وہ چونکی اور اسکی طرف معصوميت سے دیکھتے ہوۓ کہنے لگی ۔۔

نکاح !!!! مگر کیسے مطلب چھوڑو مجھے !!مجھے جانا ہے ۔۔۔

وہ اب احد کے ہاتھ ہٹانے لگی تھی تو احد  نے اپنی گرفت اور مضبوط کردی ۔۔

ہاں چھوڑتا ہوں پہلے کہو کیا تمھیں مجھ سے نکاح قبول ہے تین بار قبول کہو جلدی سے ورنہ وہ دیکھو سامنے سے کوئ آرہا ہے چلو جلدی کروجلدی وہ آرہا ہے!!!!
احد نے جھوٹ بول  کر اسے ڈرا دیا اور وہ ڈر چکی تھی۔۔۔

مجھے تم سے نکاح !!!
قبول ہے!!!
قبول ہے۔!!!!
قبول ہے !!!!!!!!

وہ ڈر کے مارے  ایک ہی سانس میں بول بیٹھی تو احد مسکرانے لگا ۔۔

مجھے بھی 
قبول ہے۔
قبول ہے۔
قبول ہے۔۔

احد نے اسے آزاد کردیا تو وہ جلدی سے اس سے دور ہوئ .

چلو اپنا نام بتاؤ؟؟

سلونی !؛

ہممممم اچھا نام ہے تم ہو نا وہ جو گاتی رہتی ہے ۔۔۔

جی،۔
سلونی نے دھیمے سے جواب دیا ۔

تم تو  بڑا غضب گاتی ہو میں تو تمھارا fan ہوگیا ہوں۔۔۔

فین کیا ہوتا ہے ؟؟

فین مطلب تمھارے گانوں کو پسند کرتا ہوں ۔اچھا یہ بتاؤ کیو رو رہی تھی! مجھ سے ڈر کر ۔۔؟؟؟

احد کے اس سوال پر سلونی کی آپلکیں بھیگ گئ ۔۔

نہیں وہ شیرین کے ساتھ کسی نے غلط کرکے اسے جنگل میں پھینک دیا تو چاچا جمشید نے ڈاکٹر سے کہہ کر اسے زہر کا ٹیکہ لگوادیا اور پھر سارے گھر والوں نے زہر کھا لیا کوئ نہیں بچا سب مرگۓ ۔۔

سلونی یہ کہتے کہتے رو پڑی اور وہی نیچھے بیٹھ گئ تو احد اسکے قریب آیا تو وہ ڈر کے پیچھے ہٹنے لگی ۔۔

شہزادے تم تو ایسا کچھ نہیں کروگے نا !!دور ہٹو  مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔

احد کو سلونی کی یہ بات بہت بری لگی مگر اسکا اس وقت ایسی باتیں کرنے کی وجہ اور اسکا ڈر آحد سمجھ گیا تھا 

سلونی اگر کبھی ایسا سوچا بھی تو خود کو تنہا کردوں گا ۔۔

نہیں شہزادےبلکہ  کبھی بھی اپنا چہرہ مجھے مت دکھانا۔۔۔ 
💐🌸🌷🍀🌹🌻🌺🌼🌼🌼

اب اکثر سلونی اور احد ملتے تھے احد اس کے گانے سنتا اور سلونی 
بھی اس سے ملکر خوش ہوتی ۔۔

💐🌸🌷🍀🌹🌻🌼🌼🌼

u dont know how i m crazy for u girl 
i will never leave u r adorable girl 

احد اسے کچھ سنا رہا تھا مگر سلونی کے سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔۔

یہ کیا گا رہے ہیں بتاۓ تو ؟؟؟

نہیں پہلے جو تم مجھے ایک الگ سا کبھی کبھار گانا سناتی ہو اسکا مطلب بتاؤ ۔۔۔؟؟؟

نہیں پہلے آپ ؟؟

میں تو نہیں بتاؤ گا چلو تم آج گاؤ میں لکھ لیتا ہوں پھر کسی سے پوچھ لونگا 

احد یہ کہہ کر اپنی ڈائری نکالی اور سلونی کے بول اس میں لکھنے لگا۔

میرے دل چہ اک ریج ہے۔
ریج کردے پوری میری 
میں ساری عمر لئ بن کے رہنا
رہنا اے گری تیری 
وے کت تے رہنے اے ۔
وے کینا بینے اے 
اک واری دسجا سانوں

احد اپنی اور سلونی کی ہر ملاقات ڈائری میں محفوظ کرتا۔۔

 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

احد یہ ا آپکو کیا ہوگیا ہے 
آپ کیا کر رہے ہے دور رہے مجھ سے !!!!!!!

آپ انسان نہیں درندے ہیں آج کے بعد اپنی شکل مجھے مت دکھانا جھوٹے !!!

سلونی چیختے ہوۓ شاک میں چلی گئ تھی۔۔۔

 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

لو سلونی بیٹا احد سے بات کرلو 

ھیلو !!!

سلونی مبارک ہو ہماری بیٹی کس کی طرح لگتی ہے ؟؟

ہماری نہیں  !!!وہ صرف میری بیٹی ہے اور آپ اس سے دور رہیے گا جب تک وہ خود آپکے پاس نہ آۓ ۔۔۔

💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔📻📻📻📻📻📻📻📻

احد پری کو ریڈیو دینے کیلئے اور جی بھر کر دیکھنے کیلۓ گاڑی میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔

آپ یہاں پری کیلۓ کھڑے ہے نا؟

سلونی!!! کیسی ہو ؟؟؟؟

احد سلونی کو دیکھکر گاڑی سے اترنے لگا تو سلونی نے گاڑی کا دروازہ بند کر دیا ۔۔

احد آپ پری کو بے شک یہ ریڈیو دے دیں مگر اسکے علاوہ اور کچھ نہیں کوئ بات بھی نہیں ۔۔

سلونی کی بات پر احد افسردہ ہوا ۔۔

آپکی وہ نکاح والی انگھوٹی دے مجھے یہ کھڑا نکالنا ہے ۔۔

احد اسکی اس بات پر چونکا تھا 

حیران ہونے کی ضرورت نہیں میں یہ 
کڑھا پری کو پہناؤ گی اور تمھاری انگھوٹھی تم اپنے پاس رکھنا تاکہ تمھیں یاد رہے کہ تم اک حیوان ہو ۔۔

وہ کڑھا اتار کر اسے انگھوٹی دیکر چلی گئ ۔۔۔۔

💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

احد ڈائری بند کرچکا تھا مگر اسکی پلکیں آنسوؤں کا وزن سہہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔۔
 

سلونی اور پھر پری اسکا سب کچھ اس سے چھن چکا تھا۔تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اینجل اپنے کمرے میں تھی تبھی جولی آئ۔

اینجل وہ زید پوچھ رہا تھا کہ ریہرسل کرنے کب آؤگی ۔ابھی چلو نا کیونکہ مجھے نیند آنے والی ہے ..

جولی نے آنکھیں ملتے ہوۓ تو اینجل اسکے ساتھ زید کے کمرے میں آئ اور زید اسے دیکھکر بہت خوش ہوا۔

گریٹ اینجل ورنہ میں تو ڈر گیا تھا کہ میں اس شو سے نکالا نہ جاؤ ۔اچھا تم نے سونگ چیک کیے ہے تو ذرا سنا دو میں لیپ ٹاپ پر بیک میوز ک آن کرتا ہوں تم سنگ کرنا یہ کو مائیک پہنو میں اسپیکر آن کر لیتا ہوں۔
۔

زید اسے مائیک دیکر ساری سیٹنگ کے بعد میوزک چلانے لگا اور اینجل گانے ۔۔

اسی وقت آھل بھی گھر کے اندر آکر ہال کے صوفہ پر سستانے کیلئے بیٹھا اور اپنا کوٹ نکال کر سائیڈ پر رکھ کر سر صوفہ کی پشت پر ٹھکایا ہی تھا کہ اسے اینجل کے گانے کی آواز آئ۔۔

میری باتوں  میں تیرا ذکر سدا
میری یادوں میں تیری فکر سدا۔
میں جو بھی ہوں تم ہی تو ہو ۔
مجھے تم سے ملی اپنی ادا۔ ۔۔۔۔

تم ہی ہو 
تم ہی ہو 
قرض بھی 
میرا مرض بھی 
چین بھی 
میرا درد بھی ۔
میری عاشقی اب تم ہی ہو۔

واؤ اینجل اب نیکسٹ اوکے ریڈی ۔اسٹارٹ۔۔۔

زید نے میوزک آن کیا تو اسکا فون بجا وہ اینجل کو گانے کا اشارہ کرکے سائیڈ پہ آکر کال اٹھالی جو لبنہ کی تھی ۔۔

ھیلو لبنہ کیسی ہو آج کیسے یاد کیا؟؟

زید نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔

یاد نہیں اکیلی تھی اسی لیے وہ یمناکے پیرنٹس کے ساتھ نوفل کے پیرنٹس بھی آۓ ہوۓ تھے تو دونوں ریہرسل کے بعد یمنا کے گھر چلے گۓ تم بتاؤ تمھاری ریہرسل کیسی جا رہی ہے۔۔

لبنہ نے پوچھا مگر جیسے ہی زید اسے جواب دینے لگا اینجل نے گانا شروع کردیا تھا تو لبنہ نے نوفل کو خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔

اب اینجل  گا رہی تھی اور جولی نیند آنے کی وجہ سے وہاں سے جاچکی تھی مگر تین لوگ اس گانے سنکر مدہوش ہو رہے تھے ۔۔

 

When there's  no hope hiding
No chance consealing
What deep down i felt for you
I regert for losing 
The one who loved me 
For whom i cant go back too
Walking through all the dust 
Memories in frames
A past we simply led fade
But i don't close the door 
Waiting the chance
For when we'll be back again 
You make me feel so crazy 
Still in love with you 
You make me feel amazing 
When i am next to you
You make me feel so crazy 
My hearts breaks for you
Can't help but knowing 
That im still in love with you

اینجل گاتے گاتے رک گئ تھی اور زید کے کچھ کہنے کا انتظار کر رہی تھی اور زید جو لبنہ سے بات کر رہا تھا اسکے بولنے کا انتظار کر رہا تھا جس نے اسے گانا سنتے ہی خاموش رہنے کا کہا تھا مگر اس پر گانے کے بول ایسا کر گۓ تھے کہ وہ زید سے آج اپنی دوری پر پچھتا رہی تھی اسکے منہ سے بے اختيار وہ نکلا جسے سنکر زید کا چہرہ کھل گیا۔۔

زید میں اب بھی تم سے پیار کرتی ہوں۔۔

لبنہ نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا تھا مگر زید پھر بھی فون تھامے ویسے ہی کھڑا تھا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا ۔

اینجل زید کو مسلسل فون کے ساتھ لگا دیکھ کر اسکے کمرے سے باہر آئ وہ جیسے ہی اپنے کمرے کی طرف جانے لگی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے طرف کھینچ لیا تھا اور اینجل اسکی چوڑی چھاتی سے ٹکرا کر اب اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔

🌹 جاری ہے 🌹
💐🌼💕🌷💞⚘🌹🌼

Novel 

The Black Angel 

#کالی_پری 🌹

از محمد شارق

قسط 10


u make me feel so crazy 
yes i m in love with u
   

آھل نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے اس قدر قریب کیا تھا کہ دونوں کی سانسیں ٹکرا رہی تھی ۔۔

اینجل کی نظریں جھکی ہوئ تھی تو آھل نے اسےخود سے اور قریب کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ تبھی وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا۔اور اینجل جو زید کے کمرے سے نکل رہی تھی وہ اس سے ٹکرانے کے بعد جانے لگی تھی

سوری!!!وہ انجانے میں ایسا ہوگیا۔۔

آھل شرمندہ  ہو رہا تھا۔مگر اینجل نے کوئ جواب نہیں دیا تھا۔۔۔

وہ جانے لگی تو آھل نے اسے آواز دی ۔۔۔

جولی کو ذرا بھیجنا۔۔

اینجل نے اسکی جانب دیکھا تو  انکی نگاہیں ملی تھی 

جولی سو رہی ہے آپ کہے تو اٹھا دوں!!!

اب اینجل کی نگاہیں جھکی ہوئ  تھی ۔۔

نہیں رہنے دو ۔۔۔

آھل جواب دیکر اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا تو اینجل کی آواز پر رک گیا۔۔۔ 

آپکو کوئ کام ہے تو بتاۓ ؟؟؟

اینجل کے سوال پر آھل بغیر مڑے مسکرانے لگا اور اسے جواب دیا ۔۔۔

ہاں وہ چاۓ کا کہنا تھا لیکن اب رہنے دو۔۔

آھل نے کچھ قدم آگے بڑھاۓ تو اینجل دوبارہ گویا ہوئ شاید سوچ رہی تھی کچھ ۔

چاۓ کمرے میں بھجوانی ہے ؟؟؟

اینجل کے اس سوال پر آھل نے آنکھیں بند کرکے جواب دیا تھا وہ شاید یہی چاہ رہا تھا کہ چاۓ کے بہانے اینجل سے اسکے دل کا حال جان سکے ۔۔

نہیں وہی کیچن کے برابرٹی وی لان میں ۔۔۔

وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور اینجل کیچن کی طرف۔۔۔

👣👣👣👣👣👣👣👣👣👣

اینجل چاۓ بنا رہی تھی کہ اسے کسی کی آہٹ سنائ دی وہ سمجھی کہ آھل ہے مگر وہ زید تھا ۔۔۔

ارے چاۓ وہ بھی اکیلے اکیلے ۔۔۔یہ غلط ہے ۔۔۔

زید نے مصنوعی خفگی سے کہا تو اینجل کو ہنسی آگئ 

نہیں یہ میری نہیں آھل سر کیلے ہے میں آپکے لیے دوسری بنا دیتی ہوں ۔

اینجل چاۓ کپ میں ڈالتے ہوۓ مڑی تو آھل کچن میں آیا ۔۔

یہ چاۓ زید کو دے دو میرے لیے دوسری بنا لو اور ہاں اپنے لیے بھی ساتھ بیٹھ کر پیے گیں۔۔

آھل جو کب سے کچن کے باہر تھا اور ان دونوں کی باتیں سن چکا تھا اسے اچانک اندر آتا دیکھکر اینجل گبھرا گئ تھی ۔۔

زید آھل کی بات سنکر معنی خیز مسکراہٹ آھل کی جانب اچھالتا ہوا چلا گیا اور اینجل   دوباره چاۓ چڑھانے لگی اور آھل کی ساتھ چاۓ پینے کی بات پر ذرا پریشان  ہو گئ تھی ۔۔۔

 آھل کیچن سے باہر آکر ٹی وی لان میں آکر  بگ اسکرین ایل ای ڈی آن کرکے چینل چینج کرنے لگا ۔۔

ایک میوزک چینل پر وہ رکا تھا اور وہاں جو گانا چلا اس نے آھل اور  اینجل کے دل ہلا دیے تھے ۔۔ 

ہر لفظ اینجل پر قیامت ڈھا رہی تھی اور شاید آھل کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔

کچھ ایسا کر  کمال کہ تیرا ہوجاؤں

میں کسی اور کا ہوں فلحال کہ تیرا ہوجاؤں۔۔۔

یہ سننا تھا کہ دونوں کے دل اپنی ماضی کے پنجے میں بلکنے  لگے تھے...

آھل تو اینجل کا سوچ رہا تھا کہ سارہ کی وجہ سے شاید وہ اسکے احساسات کو سمجھ کر بھی کچھ ری اکٹ نہیں کر رہی اور اظہار نہیں کر رہی جبکہ آھل اب سارہ کی جگہ اینجل کو دے چکا تھا بلکہ اینجل سے اتنی محبت کرنے لگا تھا کہ جتنی شاید سارہ سے کبھی کی بھی نہیں ہوگی۔۔۔

یہ غلطی تو غلط ہے جو تو کر گیا جانی 
اب یہ دیکھ تیرے بن کیسے جی رہا میں جانی

 اینجل کی آنکھوں کے سامنے  و ہ منظر گھومنے لگا جب کسی نے کتنی آسانی سے اسے ٹھکرايا تھا

مر جاۓ گے لے سنبھال کہ تیرا ہوجاؤں
میں کسی اورکا ہوں فلحال کہ تیرا ہو جاؤں 

دونوں اپنی اپنی تکلیفوں کے آگے بے بس ہو ۓ تھے ۔۔۔اینجل کی آنکھیں اپناماضی یاد کرکے برسنے لگی تھی اسے یہ تک ہوش نہ تھا کہ وہ چاۓ بناتے ہوۓ چولہا تیز کرکے اپنا ہاتھ اسکے قریب رکھے ہوئ تھی۔۔
اسکے ہاتھ میں پہنا ہوا کڑھا گرم ہوکر جب اسکی جلد جلانے لگا تو اینجل کے منہ سے ہلکی چیخ نکلی اور چاۓ کا برتن بھی گر پڑا اب وہ اپنا ہاتھ سہلا رہی تھی اور آنسوؤں کی رفتار بھی بڑھ گئ تھی۔۔۔

آھل کیچن سے آتی آوازوں پر کیچن کی طرف دھوڑا تو وہاں اینجل کو روتا اور ہاتھ سہلا تے ہوۓ دیکھ کر گبھرا گیا۔۔
وہ جلدی سے اسکے پاس گیا اسکا ہاتھ پکڑ کر دیکھنے لگا کڑھے کی تپش اب کم ہو چکی تھی تو آھل چولہے بند کرنے لگا ۔۔۔اینجل سنک کے پاس کھڑی اپنے ہاتھ اور کڑھے پر پانی مارنے لگی تبھی آھل نے آکر اسکا ہاتھ تھام لیا اور اینجل کی طرف دیکھا جو ابھی تک رو رہی تھی ۔۔۔اور دھیمی آواز میں پوچھا۔۔۔

زیادہ جل رہا ہے کیا ؟؟؟؟

آھل کے اس سوال پر اینجل نے اسکی طرف اک قرب سے دیکھا تبھی ٹی وی پر چلتے گانے کے بول چلنے لگے۔۔۔

۔
مجھے پتہ ہے دنیا کو یہ گوارا نہیں ہوسکتا
جھوٹ کہتے ہیں سارے کہ پیار دوبارہ نہیں ہوسکتا
مت پوچھ کوئ سوال چل دور کہیں میرے ساتھ 
کہ تیرا ہوجاؤں

یہ بول نہیں آھل کی دل کی آواز تھی ۔۔۔

آھل پر اینجل کا اور ان بولو کا ایسا اثر ہوا کہ اسنے اینجل کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اینجل نے بھی خود کو اس سے الگ نہیں کیا تھا بلکہ اب وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی ۔۔۔
۔۔

روتے ہوۓ وہ یہ بھول چکی تھی کہ وہ کسکی بانہوں میں ہے اسکے رونے سے آھل کا  کندھا بھیگنے لگا تھا۔۔اور آھل کی پلکیں بھی بھیگ چکی تھی۔۔

تبھی اینجل کے کانوں میں آوازیں گونجنے لگی وہ آوازیں جن سے وہ دور بھاگتی تھی 

اوقات۔۔!!!!!

کالی پرچھائ،،،!!!!!!

منحوس ۔۔ُ!!!! 

تم سے رشتہ تو کوئ مجبوری میں بھی نہ رکھے!!!!!!!!!

اینجل ان آوازوں کی مار کو تاب نہ لاتے ہوۓ آھل بانہوں سے گرنے لگی ۔

آھل نے اسے تھام لیا تھا مگر اینجل نے آھل کی بانہوں سے خود کو الگ کر دیا تھا ۔۔

وہ کچن سے باہر جانے لگی تو آھل نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔مگر اینجل نے اسکی طرف دیکھے بغیر اپنی بات کہنا شروع کی۔۔۔

میں ایک منحوس پرچھائ ہوں خدارا مجھے میری اوقات میں رہنے دے کیونکہ مجھ سے تو کوئ  مجبوری میں بھی رشتہ نہیں رکھتا۔۔۔

یہ کہہ کر اینجل جانے لگی تو آھل نے اسکا تھاما ہوا ہاتھ چھوڑا نہیں اور اسکی جانب اپنی بھیگی آنکھوں سے دیکھ کر کہا۔

تمھاری اوقات یہ ہے کہ میں اب تمھارے بغیر رہ نہیں سکتا اینجل پیار کرتا ہوں تم سے اور رشتہ ایسا ہے تم سے کہ تم بھی سمجھ نہیں سکوگی۔۔۔

اینجل نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور وہاں سے چلی گئ اور آھل  بس اسے  جاتا ہوا دیکھنے لگا

🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🌿🍀🍀🍀🍀🍀

آھل اپنے کیبن میں  بیٹھا رات کو ہونے والے اپنے اور اینجل  کی باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ انٹرکام پر کال آنے لگی ۔۔

اوکے انھیں اندر بھیج دو۔۔

آھل نے ریسپشینسٹ سے بات کرکے انٹر کام کا ریسیور رکھ دیا اور آنے والے کا انتظار کرنے لگا تبھی کا دروازہ کھلا اور احد اندر آیا۔۔

ھیلو آھل کیسے ہو ؟؟

فائن اینڈ یو؟

فائن !!مجھے تو نہیں لگ رہے۔۔

احد کی اس بات پر آھل مسکرایا اور ٹیبل پر کسی پروجکٹ کی فائل اٹھائ اور احد کی طرف بڑھائ 

آپکا اسلام آباد والا پروجکٹapprove ہو گیا ہے دو دن بعد وہاں سیمینار اٹینڈ کرنا ہے کو کہ ضروری ہے ۔۔

آھل کی بات پر احد خوش ہوا مگر ذرا پریشان ہوا 

اوہ دو دن بعد چلو ہو جاۓ گا اصل میں فہد اور انکی وائف بھی آۓ ہوۓ ہیں اور میں بھی اسی لیے یہاں آیا تھا کہ تم سب کو آج شام کو میرے بھتیجے کے نکاح پر بلاؤں ۔۔۔

آھل یہ سنکر احد کی جانب مسکرا کر دیکنھے لگا۔

مبارک ہو۔۔۔

اچھا میں چلتا ہوں اور ہاں سبکو لیکر آنا زید جولی اور اپنی اینجل کو بھی۔ لیٹ مت ہونا۔۔۔اوکے باۓ۔۔۔

آھل سے مصافحہ کرکےاحد چلا گیا اور آھل اسکی" اپنی اینجل" والی بات پر مسکرایا پھر موبائل نکال کر جولی کو فون کرنے لگا۔۔
کہ وہ اینجل کو لیکر شاپنگ کرنے جاۓ اور ٹریڈیشنل ڈریس لیکر پارلر جا کر تیار  ہوں پھر وہی سے ساتھ چلے گے سب۔۔۔

 🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑

وہ دونوں تیار تھی 
جولی نے ایک سمپل سی قميض شلوار پہنی ہوئ تھی مگر اینجل کو بلیک کلر کا لہنگا دلوایا تھا جس پر گولڈن کام تھا ۔۔
اینجل تیار ہونے کے بعد واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی ہلکی جیولری اور سر پر اسٹائل  سے دوپٹہ کو پن اپ کرکے وہ غضب لگ رہی تھی...

آج تو آھل سر گۓ !!

جولی نے اینجل کی طرف دیکھ کر آہے بھرتے ہوۓ ہلکے سے کہا تو اینجل نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔

کچھ کہا؟؟؟

جولی سنبھل کر بولی 

ہاں وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ !!!

اسی وقت کاؤنٹر پر زید کو دیکھ کر جولی خوش ہوتے ہوۓ آٹھی ۔

چلو اینجل زید آگیا!!!

جولی کی جان بچ گئ ۔

واؤ آنٹی لوکنگ ٹریڈیشنل ٹوڈے اور اینجل تم تو کیا لگ رہی ہو لگتا ہے لوگ تمھیں ہی دلہن سمجھے گیں اچھا چلو بھائ انتظار کر رہے ہیں ہم آلریڈی لیٹ ہو چکے ہے۔

زید بھی آج سفید شلوار قمیض میں اچھا لگ رہا تھا۔

دونوں زید کے ساتھ باہر آئ جہاں کار میں آھل انکا انتظار کر رہا تھا
آھل نے جب اینجل کو دیکھا تو پلکیں جھپکانا بھول گیا تبھی جولی نے زید کو آھل کی جانب دیکھنے کا اشارہ کیا اور دونوں معنی خیز مسکراہٹ لیے آھل کو دیکھنے لگے ۔آھل نے جب ان دونوں کو اسطرح مسکراتے دیکھا تو سنبھل کر آگے کی جانب دیکھنے لگا۔۔

تینوں گاڑی میں بیٹھنے لگے تو زید نے اینجل کو فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھنے کا کہا اور اسکے  جواب کا انتظار کیے بغیر پیچھے بیٹھ گیا ۔۔۔جولی بھی پیچھے بیٹھتے ہوۓ زور سے بولی جلدی چلو دیر ہو رہی ہے ۔تو اینجل بیٹھ گئ ۔

گاڑی چلتے ہوۓ جولی نے آھل سے پوچھا۔۔

سر آپ نے بتایا نہیں کہ شادی کس کی ہے ؟؟؟

آھل نے اینجل کو دیکھتے ہوۓ جولی کو جواب دیا

ڈاکٹراحد کے بھتیجے کی۔۔۔

اینجل نے یہ سنا تو چونک کر آھل کی جانب دیکھا تو اسکی بھوری آنکھیں آھل کی نیلی آنکھوں سے ملی اور وہ جلدی سے سامنے کے جانب دیکھنے لگی اسکی دھڑکنیں آھل کی بات سنکر تیز ہو گئ تھی وہ کانپ رہی تھی تبھی جولی کی نظر اس
پر پڑی ۔۔

اینجل کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو؟؟

جولی نے پریشانی سے پوچھا ۔۔

تو اینجل خود پر قابو کرکے مسکرا کر بولی۔

ہاں بس نروس ہوں کہ وہا ں کافی لوگ ہونگے نا ۔۔۔۔

اینجل کی اس بات پر زید نے اسے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔

نہیں اینجل نروس مت ہو سب اپنے لوگ ہونگے تمھیں وہاں اچھا لگے گا۔۔۔

اپنے لفظ سنکر اینجل کی تکلیف مزید بڑھ چکی تھی۔۔

وہ ہال کے اندر آچکے تھے تو احد انکو دیکھ کر انکی جانب آیا۔۔

آؤ آؤ ویلکم 

وہ زید اور آھل سے باری باری ملا جولی کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اینجل کو دیکھکر اسکے قریب آیا 

ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہو بیٹا اور جولی فرسٹ ٹائم تمھیں اسطرح دیکھا ہے اور دونوں بھائ سیم ڈریس مگر لیٹ ہوگۓ ہو نکاح تو ہوگیا ہے چلو کپل سے ملواتا ہوں اور میرے بڑے بھائ اور بھابھی سے بھی چلو ۔۔

وہ چاروں احد کے ساتھ ساتھ چلنے لگےمگر اینجل کوچلتے ہوۓ اپنے قدم  منوں باری لگ رہے تھے اسنے اپنی گردن جھکائ ہوئ تھی اسے کچھ نہیں دیکھنا تھا اسے بھاگنا تھا دور بہت دور۔۔۔

اسٹیج کے قریب پہنچے تو لبنہ وہی ملی وہ ان سبکو دیکھ کر ملنے آئ سب سے ملکر اینجل کو دیکھ کر وہ جولی کے کان میں کچھ سرگوشی کرنے لگی تو جولی کو ہنسی آگئ ۔۔

ارے جلی مطلب پھنسی ارے زید اسکو لٹل سس کہتا ہے پاگل اچھا میں چلتی ہوں اپنے سنگر سے ملنے قسم سے عمر کم ہوتی نا تو آج دلہن میں ہوتی ۔۔۔

دونوں اس بات پر ہنسی تھی مگر اینجل کو تو جیسے کچھ سنائ نہیں دے رہا تھا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔

اسٹیج پر جاتے ہی احد نے سبکو فہد اور ثناه کے ساتھ ساتھ زیبا اور اسکے شوہر سے بھی ملوایا ۔۔ثناہ سے گلے ملتے وقت اینجل کے کانوں میں اک آواز گونجی 

"تم سے تو کوئ مجبوری میں بھی رشتہ نہ رکھے ۔۔"

اینجل کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔

یمنا سے ملتے ہوۓ اسے لگا کہ یمنا سے بڑا خوش نصیب کوئ نہیں کیونکہ وہ گوری اور پرکشش تھی ۔۔

نوفل پر ایک نظر ڈال کر وہ نیچھے اتری تھی۔ نوفل کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔۔

آھل فہد سے بات کرتے ہوۓ اینجل کو دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر چھائ اداسی اسے بے چین کر رہی تھی۔۔۔

اوہ تو پھر ہم کل ہی چلے جاۓ گیں پرابلم نہیں ہے احد تم اور آھل یہاں کا کام دیکھ لو اسلام آباد والا سیمینار میں اٹینڈ کر لوں گا۔

فہد ۔احد اور آھل تینوں باتیں کر رہے تھے مگر آھل کی نظریں بار بار اینجل کو تکتی احد یہ سب نوٹ کر رہا تھا تبھی اسنے آھل کے ہاتھ سے موبائل لیا اور اینجل کی کچھ تصویریں لی اور آھل کو موبائل واپس دیتے ہوۓ کہا۔۔

جی بھر کے دیکھ لے ایسے بار بار دیکھنا اچھا نہیں سمجھے ۔۔۔

احد کی اس بات پر آھل نے مسکراتے ہوۓ سر جھکا لیا تھا۔۔۔

ایک طرف لبنہ اور زید باتیں کر رہے تھے انکی بیچ اب فاصلے گھٹنے لگے تھے ۔

زید وہ گانا جو رات کو تم نے سنایا  تھا amazing تھا سچ کہوں تو اسکی وجہ سے ہی آج ہم اسطرح بات کر رہے ہیں۔

لبنہ زید سے باتیں کرتے ہوۓ بولی تو زید حیران ہوا۔

really!!!

تو پھر ہمیں اینجل کو  شکریہ کہنا چاہیے تھا کیونکہ وہ گانا وہی گا رہی تھی ۔۔

زید کے ایسا کہنے پر لبنہ نے اسے چونک کر دیکھا اور کہا۔

what!!!!

زید نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اینجل کی جانب لے گیا۔

میری پارٹنر ہے میری سس پرسو کے گرینڈ شو میں چلو تم خود سنلو ۔۔اے اینجل لٹل سس لبنہ کو ذرا حیرت کی دنیا سے باہر نکالو جلدی سے کچھ گا کے سناؤ مگر پلیز آواز ذرا سلو رکھنا ورنہ بھائ کا تمھیں پتہ ہے نا۔

آھل سبکو ایک ساتھ دیکھکر وہی آرہا تھا وہ جیسے ہی قریب پہنچا تو اینجل جو سر جھکاۓ بیٹھی تھی روتی ہوئ  کچھ گانے لگی تھی۔

نا میں روؤں نا پچھتاؤں میں 
کہ چاند تو سدا ہی ہے چکور کا
اب تم تو ہوکسی اور کے
مگر میں  شاید نا بن پاؤں کسی اور کا
میرا دل کرتا  کیوں سوال
نا تو میرا مستقبل نا میرا حال

اتنا گا کر اسنے سامنے بیٹھی جولی کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔

جولی پلیز مجھے گھر لے چلو پلیز !!!

اتنا کہہ کر وہ رونے لگی تو آھل جو سب کچھ سن چکا تھا آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے جانے لگا انکے پیچھے جولی اور زید بھی آگۓ 

اینجل سارا رستہ آنسوں بہاتی رہی آھل کے علاوہ باقی دونوں اس سے رونے کی وجہ بھی پوچھتے رہے اور چھپ بھی کراتے رہے ۔

گاڑی رکتے ہی وہ اندر کی جانب دوڑی مگر وہ خود کو سنبھال نہ سکی اور گر گئ ۔۔

آھل اسے گرتا دیکھ کر اسکے قریب اسے اٹھانے لگا تو اینجل نے اسے روتے ہوۓ دیکھ کر کہا۔

پلیز مجھے سہاروں کا عادی مت بناؤ پلیز !!!

وہ خود اٹھکر جانے لگی تو آھل نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔

مگر میں تمھارا عادی بن چکا ہوں مجھے تمھارے سہارے کی ضرورت ہے سچ میں ہے مجھے سہارا دو ورنہ میں مر جاؤن گا ۔۔

اینجل اس سے ہاتھ چھڑا کر جانے لگی تو آھل کی آواز پر رکی۔۔

پرسوں  مجھے جواب چاہیۓ اور پلیز مجھے مایوس مت ک
نا اینجل پلیز ترس ہی کھا لو۔۔

آھل  بے بس لگ رہا تھا ۔اسکی باتیں جولی اور زید کو بھی رلا چکی تھی مگر اینجل نے اسکی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئ ۔

جاری ہے 

like or comments plZzzz


apna favourite  character bataye

🌹🌼🌼🌼🌼💞⚘⚘💕🌷💐😘